حقیقی پرنس فلپ اور نیٹ فلکس کے شہزادے میں کیا فرق تھا؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 13, 2021

ویب ڈیسک — برطانیہ کے شاہی خاندان کے سربراہ پرنس فلپ کی موت کے بعد جہاں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ان کی زندگی کے یادگار لمحات کا ذکر جاری ہے، وہاں برطانوی شاہی خاندان پر مبنی اس شو کا ذکر بھی ہو رہا ہے، جو سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر حالیہ مہینوں میں پیش کیا گیا اور جس میں ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

وہ تمام لوگ جنہوں نے نیٹ فلکس پر حالیہ مہینوں میں 'دی کراؤن' کے نام سے مقبول ہونے والا یہ شو دیکھ رکھا ہے، جانتے ہیں کہ اس شو میں ملکہ الزبتھ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ کی عکاسی ایک ایسے نیول افسر کے طور پر کی گئی ہے جسے غیر اہم شاہی عہدہ قبول نہیں تھا اور اس وجہ سے وہ ضوابط کی خلاف ورزیاں بھی کرتا ہے لیکن آخر کار وہ ملکہ کا قابل اعتبار شراکت دار اور خاندان کا سربراہ بن جاتا ہے۔

سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا نیٹ فلکس نے 99 برس کی عمر میں جمعہ کے روز دنیا سے رخصت ہونے والے پرنس فلپ کی زندگی کی درست عکاسی کی ہے؟

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جہاں پرنس فلپ نے اپنی زندگی اپنی اہلیہ کے سائے میں گزاری، وہیں دی کراؤن کے کردار فلپ، جسے میٹ سمتھ اور ٹیبیاز میزیز نے نبھایا ہے، کی زندگی کا بھی یہی ماجرا تھا۔

'دی کراؤن' کے تخلیق کار پیٹر مورگن کا کہنا ہے کہ یہ سیریز انتھک محنت اور تحقیق کے بعد تخلیق کی گئی ہے۔ لیکن اس کی تیاری میں کچھ کری ایٹو لائسنس یا تخلیقی آزادی بھی استعمال کی گئی ہے، اس لیے اس کے ہر سین کو حقیقت نہیں سمجھنا چاہئے۔

اس لیے یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ آیا پرنس فلپ ڈرامے میں دکھائے گئے فلپ کی طرح ہی شہزادہ چارلز کی تربیت میں سخت اور شہزادی این کی تربیت میں حساس تھے؟ یا جیسے ڈرامے میں ان کی بے وفائی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، کیا ایسا ہی تھا؟

گھریلو مسائل

ڈرامہ 'دی کراؤن' میں دکھایا گیا ہے کہ فلپ مردانہ انا کے ہاتھوں اپنے بچوں کے لیے اپنا خاندانی نام، ماؤنٹ بیٹن رائج رکھنا چاہتے تھے، مگر برطانوی شاہی ضابطوں کے مطابق انہیں ملکہ کے خاندانی نام ونڈسر پر اکتفا کرنا اور اپنی اس خواہش پر انکار سننا پڑا۔

ایسے ہی الزبتھ دوم کے والد بادشاہ جارج ششم کی وفات پر جب الزبتھ ملکہ بنتی ہیں تو فلپ ان کی تاج برداری کی تقریب میں ان کے سامنے گھٹنا ٹیکنا نہیں چاہتے تھے۔

لیکن نیٹ فلکس کے شو میں ان کی شادی کو خوشگوار دکھایا گیا ہے۔

جب کہ حقیقت میں جب وہ اپنے بچوں کے لیے خاندانی نام سے دستبردار ہوئے تو برطانوی شاہی جوڑے پر کتاب لکھنے والے مصنف اور شاہی بائیوگرافر جائیلز برینڈرتھ کے بقول، انہوں نے شکایت کی کہ میں یہاں محض 'امیبا' لگ رہا ہوں۔ ایک ایسا شخص جو اپنے بچوں کو اپنا نام نہیں دے سکتا۔

اس پر آٹھ برس بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جوڑے کی اولادیں، ماؤنٹ بیٹن اور ونڈسر کے دونوں خاندانی نام استعمال کریں گی۔

ایسے ہی حقیقت میں انہوں نے ملکہ کی تاج برداری تقریب کے دوران ان کے سامنے گھٹنا ٹیکا اور اپنی وفاداری کا حلف اٹھایا۔ ملکہ نے اپنی شادی کی پچاسویں تقریب کے دوران انہیں اپنی طاقت اور راحت کہا۔

ایسے ہی 'دی کراؤن' میں جہاں انہیں اس بات پر نالاں دکھایا گیا ہے کہ ملکہ کے شوہر ہونے کی وجہ سے وہ عملی زندگی سے محروم رہے، جبکہ حقیقت میں دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ جنگی ڈیوٹی پر تعینات رہے اور کمانڈر کی پوزیشن تک پہنچے۔ انہوں نے 50 کی دہائی میں جہاز اڑانا سیکھا اور وہ پولو کے شوقین تھے۔ یہاں تک کہ 97 برس کی عمر میں لینڈ روور چلاتے ہوئے ان کی گاڑی ایک حادثے میں الٹ گئی۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، 'دی کراؤن' کے کردار فلپ کو مذہب بیزار شخص دکھایا گیا ہے جب کہ اصل زندگی میں شہزادہ فلپ کو مذہب میں دلچسپی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں ماؤنٹ ایتھوز کا سفر کرتے تھے، جہاں ایک مذہبی برادری رہتی ہے۔ برطانیہ میں کئی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ روحانی معاملات میں گہری دلچسپی دکھایا کرتے تھے۔

ایسے ہی 'دی کراؤن' میں ان کے شہزادی ڈیانا سے تعلقات کو کشیدہ دکھایا گیا ہے جب کہ اصل زندگی میں ان کے اور لیڈی ڈیانا کے مابین خطوط میں وہ ڈیانا سے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ملکہ کے شوہر کا رویہ ڈیانا کے اس ٹی وی انٹرویو کے بعد تبدیل ہوا، جس میں انہوں نے بےحد صاف گوئی سے شاہی محل میں اپنی زندگی کے حوالے سے لب کشائی کی تھی۔ اس پر شہزادہ فلپ نے لکھا تھا کہ انہیں یا تو اپنے آپ کو شاہی خاندان کے انداز میں تبدیل کرنا ہوگا یا پھر ان کے خاندان سے نکلنا ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More