وزیراعظم نے تحریک لبیک پاکستان پرپابندی کی سمری منظور کرلی

سماء نیوز  |  Apr 14, 2021

فوٹو: آن لائن

وزیراعظم عمران خان نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کی وزارت داخلہ کی سمری منظور کرلی، وفاقی کابینہ سرکلر سمری کے ذریعے مذہبی سیاسی جماعت پر پابندی کی منظوری دیگی۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو پیر کے روز حفظ ماتقدم کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد کراچی، لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ٹی ایل پی کے کارکنوں نے احتجاج شروع کردیا گیا، کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد رنگ اختیار کرگیا تھا۔

وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سمری وزیراعظم عمران خان کو بھیجی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، پر تشدد کارروائیوں سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے 2 ہزار 63 کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کیخلاف 115 ایف آئی آرز  درج کی جاچکی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کیلئے بھیجی گئی سمری منظور کرلی، وفاقی کابینہ سرکلر سمری کے ذریعے ٹی ایل پر پابندی لگانے کی منظوری دیدی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے آج (بدھ کو) کرتے ہوئے کہا تھا کہ سمری وزیراعظم اور کابینہ کو بھیجی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جی ٹی روڈ اور ہائی ویز کو کھول دیا گیا ہے، مظاہرین نے ایمبولینسیں روکیں اور حکومت کو مسائل سے دوچار کیا، بدامنی پھیلانے والوں کا قانون پیچھا کر رہا ہے۔

دوسری جانب چاروں صوبوں کے آئی جیز کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اب تک 2 ہزار 135 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، سب سے زیادہ پنجاب سے ایک ہزار 669 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔

مزید جانیے: سندھ میں ٹی ایل پی رہنماؤں کوحراست میں لینےکا حکمرپورٹس کے مطابق سندھ سے 228، اسلام آباد سے 45، خیبرپختونخوا سے 193 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں، گرفتار افراد کیخلاف مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔

محکمہ داخلہ سندھ نے بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی ایل پی کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نقص امن کے خطرے کے پیش نظر تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو 30 روز کیلئے حراست میں لیا جارہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More