’کورونا کا علاج‘ کرغزستان کے وزیر پریس کانفرنس میں ’زہریلا محلول‘ پی گئے

اردو نیوز  |  Apr 16, 2021

کرغزستان میں ایک زہریلی جڑی بوٹی کو کورونا وائرس کے علاج کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ملک کو صحت کے حوالے سے سنجیدہ انتباہ کے باوجود انفیکشن کی نئی لہر کا سامنا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے جمعے کے روز کورونا وائرس کے اس علاج کا کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ملک کے صدر نے پچھلے سال اس بوٹی کے ذریعے ہزاروں بیمار قیدیوں کا علاج اس وقت کیا جب وہ جیل میں تھے۔

وزیر صحت الیمکادر بیشنالئیف نے صحافیوں کے سامنے اس محلول کے گھونٹ بھی بھرے جو ایکونائٹ نامی زیریلے پودے سے بنا تھا، انہوں نے صحافیوں کو اس کے علاج کی خصوصیات بھی بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔‘

یہ بتاتے ہوئے وہ محلول کو غٹاغٹ پی گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آپ کو اسے گرم گرم پینا ہے اور اس کے دو یا تین روز بعد وہ مریض بھی بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا پی سی آر ٹیسٹ پازیٹیو ہوتا ہے۔‘

ایکونائٹ کی جڑ کو زہریلا ہونے کے باوجود روایتی طور پر ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر وسطی ایشیائی ملک میں شروع ہو رہی ہے۔

پچھلے سال کا موسم گرما یہاں کے باشندوں کے لیے اس لیے مشکل ثابت ہوا تھا کہ ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تھے اور مزید کے لیے جگہ نہیں بچی تھی۔

وزیر صحت نے پریس کانفرسن کے دوران دعویٰ کیا کہ ان کے قائد نے اس جڑ کے ذریعے ہزاروں قیدیوں کا علاج کیا (فوٹو: اے ایف پی)صدر سیدر جپاروف نے فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں کچھ لوگ دوا کو بوتلوں میں بھر رہے ہیں تاہم وہ کورونا سے بچاؤ کے آلات استعمال نہیں کر رہے تھے۔

بوتل پر لگے لیبل کے مطابق یہ ڈرنک ’کورونا وائرس اور معدے کے کینسر‘ کے لیے مفید ہے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا گیا ہے کہ محلول کو اگر گرم کیے بغیر استعمال کیا گیا تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

 عالمی ادارہ صحت نے اس طریقہ علاج پر سخت تنقید کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایک ایسی دوا جو کلینکل ٹرائل سے نہ گزاری گئی ہو اس کو رجسٹرڈ نہیں کیا جا سکتا اور عام لوگوں کے استعمال میں نہیں لائی جا سکتی۔‘

بیشنالئیف نے دعویٰ کیا کہ جپاروف نے اس کے ذریعے ہزاروں قیدیوں کا علاج کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More