کورونا سے ہلاکتیں: دہلی کے قبرستان میں جگہ کم پڑ گئی

اردو نیوز  |  Apr 17, 2021

دہلی میں واقع مسلمانوں کے بڑے قبرستان میں کورونا سے مرنے والوں کو دفنانے کی جگہ کم پڑ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے سال پابندیوں میں نرمی کے بعد سے دہلی اور پورے ملک میں بڑھتے کیسز قابو سے باہر ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی رکھنے والے انڈیا میں پچھلے دو روز سے دو لاکھ سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

اس وقت دہلی اور ممبئی بری طرح سے وبا کی لپیٹ میں ہیں۔

روٹئرز نے منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ جمعے کو ایمبولینسوں کی ایک قطار قبرستان پہنچی جو قدیم شہر کا مضافاتی علاقہ ہے، جہاں پچھلے سال زمین کے ایک وسیع حصے کو کورونا کے باعث ہلاک ہونے والوں کے لیے الگ قبرستان قرار دیا گیا تھا۔

یہ علاقہ تاحد نگاہ کھلا تھا تاہم اب اس کی دیواروں تک کا حصہ قبروں سے بھر چکا ہے اور بہت کم جگہ باقی ہے۔ گورکنوں کے سربراہ محمد شمیم کہتے ہیں کہ لائی جانے والی میتوں کو واپس بھیجنا پڑ رہا ہے۔

بقول ان کے ’گزشتہ روز یہاں 19میتیں لائی گئیں مگر ہم صرف 15 کو ہی دفنا پائے۔‘ 

گورکنوں کے سربراہ محمد شمیم کہتے ہیں کہ آنے والی لاشوں کو واپس بھیجنا پڑ رہا ہے (فوٹو: روئٹرز)مرنے والوں کے گھر والے کورونا سے بچاؤ کے سامان کے بغیر میت کو ایک عام سے پلائی وڈ کے تابوت میں ڈال کر یا پھر سفید کپڑے میں لپیٹ کر لاتے ہیں۔

کورونا کا شکار ہونے والے 43 سالہ پپو علی کو ان کے گھر والے لے کر پھرتے رہے مگر انہیں پرائیویٹ ہسپتال میں بستر نہیں ملا، آخرکار انہیں سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔

تدفین کے موقع پر ان کے چچا محبوب نے بتایا کہ ’وہاں ڈاکٹر بھی کم تھے، یہاں تک کہ ہمیں پانی بھی نہ ملا۔‘

ایک اور کورونا سے ہلاک ہونے والے شخص کی میت کو جب جلدی میں کھُدی قبر میں اتارا جانے لگا تو ان کا جوان بیٹا زمین پر مکے برساتا ہوا آہ و بقا کرتا رہا اور بار بار کہتا رہا۔

’آپ نے مجھے کہا تھا کہ باہر مت جاؤ، لیکن میں نے نہیں سنا، یہ سارا میرا قصور ہے، مجھے معاف کر دینا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More