ٹک ٹاک پر لاکھوں بچوں کا مقدمہ

ہم نیوز  |  Apr 21, 2021

ٹک ٹوک کو انگلینڈ میں بچوں کی سابق کمشنر این لانگ فیلڈ کی جانب قانونی چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ بچوں کے ڈیٹا کو کس طرح جمع اور استعمال کرتا ہے۔

یہ دعوی برطانیہ اور یوروپی یونین کے لاکھوں بچوں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جن میں یہ ایپ کافی مقبول ہے۔اگر فیصلہ بچوں کے حق میں آیا تو ہر بچے کو ہزاروں پاؤنڈ ملنے کا امکان ہے۔

یہ دعویٰ ان تمام بچوں کی جانب سے شروع کیا جارہا ہے جنہوں نے 25 مئی 2018 سے ٹِک ٹاک کا استعمال شروع کیا تھا۔

ٹک ٹوک نے کہا کہ یہ کیس جھوٹا ہے اور ہم عدالت میں اس کا مقابلہ کریں گے۔

درخواست گزار وکلا کا الزام ہے کہ ٹک ٹاک بچوں کی ذاتی معلومات، بشمول فون نمبر، ویڈیو، کرنٹ لوکیشن، اور بائیو میٹرک ڈیٹا بغیر کسی انتباہ اور بغیر بچوں اور والدین کی مرضی کے بغیر جمع کر رہا ہے۔

اس کے جواب میں ، ویڈیو شیئرنگ ایپ نے کہا ہے کہ رازداری اور معلومات کی حفاظت ٹک ٹاک کی اولین ترجیحات ہیں اور ہمارے پاس خاص طور پر اپنے صارفین اور خاص طور پر نوعمر نوجوانوں کے تحفظ میں مدد کے لئے مستحکم پالیسیاں اور ٹکنالوجی موجود ہیں۔

دنیا میں ٹک ٹاک کے 800 ملین سے زیادہ صارفین ہیں اور اسکی پیرنٹ فرم بائٹ ڈانس نے پچھلے سال اربوں کا منافع  کمایا تھا۔ اس کی زیادہ تر آمدنی اشتہارات سے آتی ہے۔

لانگ فیلڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات اکٹھی کیں اور ٹک ٹاک کی پالیسیاں ’ضرورت سے زیادہ‘ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی تھیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ فرم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے اور اس نے والدین کو کامیابی کیساتھ دھوکا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  والدین کو “جاننے کا حق” حاصل ہے کہ ٹک ٹاک کے’شیڈو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریق کار‘ سےذریعہ کون سی نجی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

درخواست گزاروں کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعہ جمع کی گئی معلومات “برطانیہ اور یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی شدید خلاف ورزی” ہے۔ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ’ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس نے صارفین کی ذاتی معلومات سے پیسے کمائے ہیں۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More