سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ حق دے دیا گیا

ہم نیوز  |  May 08, 2021

حکومت نے پہلی بار سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دے دیا ہے۔

اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت الیکشن دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کردیا۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن ایک 94 اور سیکشن 103 میں ترمیم کی گئی۔

صدراتی آرڈیننس کے مطابق الیکشن کمیشن نادرا یا کسی اور اتھارٹی یا ایجنسی کی تکنیکی معاونت سے عام انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے قابل بنائے گا۔

سیکشن 103 کے تحت الیکشن کمیشن عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدنے کا بھی پابند ہوگا۔

آرڈیننس سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت، الیکٹرونک ووٹنگ اور بائیومیٹرک تصدیقی مشینوں کیلئے پائلٹ منصوبوں کے متعلق شقوں کو بدلا گیا۔

خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے انتخابی اصلاحات پر مشاورت کیلئے اپوزیشن کو ایوان صدر آنے کی دعوت دی ہے۔

نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا اپوزیشن کی جماعتوں سے کہا کہ عید کے بعد آپ فورا ً ایوان صدر آجائیں۔ اگر اپوزیشن نہیں آنا چاہتی تو خود پارلیمنٹ ہاؤس جانے کیلئے تیار ہوں۔ انتخابی اصلاحات پر اصل فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔

صدرمملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ آرڈیننس اس لیے لایا جارہا ہے کیونکہ ہمیں الیکٹرانک ووٹنگ کی طرف جانا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں بیلٹ پیپرنہیں ہوگا۔ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں پیپربیلٹ شامل ہے۔

مزید پڑھیں: 

انہوں نے کہا تھا کہ آرڈیننس اس لیے آئیگا کیونکہ 3 لاکھ پولنگ بوتھ ہونگے اور 3 لاکھ 25 ہزارمشینیں بنانی ہیں۔ سب کی مشاورت سے معاملہ حل ہوجائے تو یومیہ ایک ہزارمشینیں بننی ہیں۔ ووٹنگ مشین کا انٹرنیٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی بھی ووٹنگ مشین کو ہیک نہیں کرسکتا۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم 1985 سے چل رہا ہے۔

ڈاکٹرعارف علوی نے کہا تھا کہ 2017 کے الیکشن ریفارمزایکٹ میں بائیومیٹرک شناخت کی بات رکھی گئی تھی۔ بائیومیٹرک سسٹم سے اصل ووٹرکی شناخت ہوگی۔ مشین سے نکلی پرچی بیلٹ بکس میں ڈالی جائے گی۔

صدرمملکت عارف علوی نے کہا تھا کہ الیکٹرانک سسٹم میں مشین سےانتخابی نشان پربٹن دبا کر پرچی نکالی جائے گی۔ نادرا اور الیکشن کمیشن حکام کو تمام میٹنگ میں بلایا گیا۔ فزیکل بیلٹ پیپرزحتمی نتائج کیلئے شمارہوں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More