امریکہ میں وبا کے دوران بچوں کے سکول چھوڑنے میں اضافہ، ویکسین پر لوگوں کا اعتماد بڑھنے لگا

وائس آف امریکہ اردو  |  May 12, 2021

ویب ڈیسک — امریکہ میں کرونا وبا کے دوران سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایسے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جن سے ان بچوں کی تعداد معلوم ہو سکے، لیکن اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو اپنی کلاسوں سے مسلسل غیر حاضر ہیں۔

امریکہ میں عالمی وبا کے دوران سکولوں نے آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم جاری رکھی۔ ایسے میں زوم پر ہونے والی کلاسز سے غیر حاضر رہنے والے بچوں کی تعداد کے مسلسل بڑھنے کے باعث اساتذہ اور مدرسین میں تشویش پھیل گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سکول ان بچوں کو واپس لانے کے لیے تمام کوششیں کر رہے ہیں۔ ان میں ان بچوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ڈھونڈنا، ان کے گھروں میں جانا اور سکولوں کے سٹاف کو ان بچوں کے ضائع ہونے والے وقت کو بچانے کے لیے خصوصی مدد کے لیے کہنا شامل ہے۔

سکولوں کا کہنا ہے کہ پچھلے برس سکول چھوڑنے والے بچوں کے اعداد و شمار ابھی موجود نہیں ہیں۔ کچھ سکول حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ جو بچے گھر سے پڑھنے کے دوران لاگ آن نہیں کر رہے، وہ سکول چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

امریکہ میں بچوں کے سکول چھوڑنے کے سدباب کی قومی تنظیم، نیشنل ڈراپ آؤٹ پریوینشن سینٹر کی چئیرمین سینڈی ایڈیز کا کہنا ہے کہ ’’جب بچے سکول چھوڑتے ہیں تو وہ اس کے لیے کسی نہ کسی وجہ کو ڈھونڈتے ہیں، اور وبا نے یہ وجہ فراہم کر دی ہے۔‘‘ ان کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس برس سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں اگلے کئی برسوں تک اضافہ ہوتا رہے گا۔

امریکی شہر کنساس سٹی میں ہائی سکول کے پرنسپلز کی نگرانی کرنے والے ٹوری پٹسچ نے اے پی کو بتایا کہ شہر میں ایک سکول نے مختلف خاندانوں کو اس وجہ سے ہزاروں کالیں کی ہیں۔

پٹسچ کے مطابق اگر وہ کسی طالب علم سے محروم ہوں گے، تو ایسا ہر طریقہ بروئے کار لانے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

عالمی ادارے یونیسکو کے مطابق، عالمی وبا کے بعد دنیا بھر میں دو کروڑ چالیس لاکھ بچوں کے سکول چھوڑنے کا خطرہ ہے۔

دوسری طرف امریکہ میں ایسے افراد جو ویکسین لینے سے انکار کر رہے تھے ان کی تعداد میں پچھلے چند مہینوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن اب بھی ایسے افراد موجود ہیں اور اے پی نے ایک نئے سروے پول کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسے افراد ویکسین کے مضر اثرات اور اس کے تجربات کی تفصیلات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس اور سینٹر فار پبلک افئیرز ریسرچ کے سروے کے مطابق جن افراد کو ابھی تک ویکسین نہیں لگی، ان میں سے 11 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ ضرور ویکسین کے دونوں شاٹ لگوائیں گے جب کہ 34 فیصد افراد اب بھی ویکسین لگوانے سے انکار کر رہے ہیں۔

ان میں سے 27 فیصد افراد ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ شاید ویکسین لگوائیں گے جب کہ 27 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ شاید ویکسین نہ لگوائیں۔

سروے کے مطابق، جہاں رواں برس جنوری میں ہر تیسرا امریکی ویکسین نہ لگوانے کی رائے رکھتا تھا، وہاں اب ہر پانچواں امریکی ایسی رائے رکھتا ہے۔

سروے کے مطابق ویکسین نہ لگوانے کی رائے رکھنے والے افراد میں تین چوتھائی افراد ویکسین کی تیاری کے مراحل یا پھر بات پر شک کرتے ہیں آیا ویکسین ٹھیک طرح سے تجربات کے مراحل سے گزری ہے جب کہ 55 فیصد افراد ویکسین کے مضر اثرات سے خائف نظر آئے۔

اے پی سے بات کرتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی امیونالوجسٹ کزمیکیا کوربٹ، جنہوں نے موڈرنا ویکسین کے بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے کا کہنا تھا کہ لوگوں میں بداعتمادی کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ سائنسی طریقہ کار کو عوام کی زبان میں بیان کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ویکسین کے بارے میں اعتماد سازی بہت پہلے شروع کر دینی چاہیے تھی۔ بقول ان کے، لوگوں کو بار بار ویکسین سے متعلق پھیلی افواہوں کا توڑ بتانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ویکسین کے متعلق ایسی ایسی باتیں گھڑی گئی ہیں کہ میں ان کا جواب بھی نہیں دے سکتی، مگر میں وہ سب کچھ کر رہی ہوں تاکہ میں جلد از جلد لوگوں کو جواب دے سکوں۔‘‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More