سندھ:کرونا سے متعلق سخت پابندیاں،تاجروں نےماننےسےانکارکردیا

سماء نیوز  |  Jul 23, 2021

فائل فوٹو

سندھ میں کرونا وائرس سے متعلق نافذ العمل سخت پابندیوں کے فیصلے پر تاجررہنماوں نے اجلاس طلب کرلیا ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے بروز جمعہ 23 جولائی کو کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر پیر 26 جولائی سے پابندیاں سخت کرنے کے فیصلے کو تاجر رہنماوں نے مسترد کر دیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ہنگامی اجلاس طلب میں ممکنہ طور پر احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

تاجر رہنماوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر کے نہیں، انتظامی فیصلوں کے خلاف ہیں۔ تاجروں کیلئے 6 بجے مارکیٹیں بند کرنے اور ہفتہ وار 2 تعطیل کے نتیجے میں کاروباری نقصانات برداش سکت نہیں۔ حکومت کو تاجروں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے تحت ہفتہ کو 7 بجے ہونے والے ہنگامی اجلاس میں تاجر رہنماوں کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن، شادی ہال مالکان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تاجروں کی جانب سے بلایا گیا اجلاس آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے صدر شرجیل گوپلانی کی رہائش گاہ پر ہوگا جس کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

سماء ڈیجٹل سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل گوپلانی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے تاجر شدید مالی بدحالی کا شکار ہیں۔ تاجروں کی ایک بڑی تعداد دکانیں بند کرنے پر مجبور ہوگئی ہے لیکن حکومت کی جانب سے متاثرہ تاجروں کی داد رسی نہیں کی جارہی۔

تاجروں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے متاثرہ تاجروں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اب ایک بار پھر کاروباری اوقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس پر عمل درآمد ممکن نہیں۔ شرجیل گوپلانی کا مزید کہنا تھا کہ وہ شہر میں سندھ حکومت کے خلاف بینرز آویزاں کرنے، مظاہرے اور ریلیاں نکالنے سمیت دیگر آپشنز کا جائزہ لیں گے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بھی سندھ حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلے کرونا وبا سے زیادہ مہلک ہیں۔ 6 بجے مارکیٹیں بند ہونے سے شہر ٹریفک کا جنگل بن جائے گا اور لوگوں کے لئے سماجی فاصلہ رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس پر سخت پابندیوں کی وجہ سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بے روزگار ہوجائیں گے، جب کہ محدود اوقات سے تاجروں کیلئے دکانوں کے کرائے اور دیگر اخراجات پورے کرنے مشکل ہوجائیں گے۔

دوسری جانب کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر اور کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے کنوینر محمد رضوان عرفان نے بھی دیگر تاجر رہنماؤں کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ ہفتے میں 2 روز کیلئے کاروباری بندش اور 6 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ تاجروں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ حکومت کو پابندیاں لگانی ہی ہیں تو تاجروں سے وصول کردہ ٹیکس واپس کیا جائے تاکہ ان کے مالی نقصانات کا ازالہ ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کاروبار بند کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے انتظامات کرے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More