افغانستان میں آنے والی تبدیلیاں پاکستان کے لئے کیسی ثابت ہوں گی؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 18, 2021

واشنگٹن ڈی سی — 

افغانستان کے تیزی سے تبدیل ہوتے سیاسی منظرنامے پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سیاسی انتقامی کاروائیوں، اقلیتوں اور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے خدشے کے پیش نظر جو افراد ملک سے نکلنے کی کوششوں میں ہیں، انہیں طالبان قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

ماضی کے رویوں کے برعکس طالبان راہنما خواتین صحافیوں کو ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے بھی نظر آئے اور کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں محرم الحرام کے سلسلے میں منعقد کی گئی مجلس میں بھی شرکت کرتے بھی۔ یہ حیرت انگیز مناظر دنیا غیر یقینی کی کیفیت میں دیکھ رہی ہے اور یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ طالبان کا نیا جنم ہے؟ کیا طالبان واقعی اپنا وہ سخت گیر نظریہ اور بربریت ترک کر چکے ہیں جو ان کا خاصا ہوا کرتی تھی؟

وآئس آف امریکہ اردو کے ساتھ ایک خصوصی فیس بک لائیو بیٹھک میں واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر حسن عباس نے، جو طالبان کی تحریک نو اور احیا پر تحقیقی کتاب 'طالبان ریوائیول' کے مصنف بھی ہیں، افغانستان کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان گزشتہ دس سالوں سے اپنی تنظیم نو کی کوشش کر رہے ہیں۔

حسن عباس کا کہنا تھا کہ ان کے مستقبل کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن انہوں نے اپنا سبق سیکھا ہے، انہیں معلوم ہے کہ یہ 1996 کی دنیا نہیں ہے، انہیں ریاست چلانے کے لئے پڑھے لکھے دماغوں سے لے کر دنیا کی قبولیت اور مدد بھی درکار ہو گی۔ اس لئے وہ دنیا کو اپنا ایک نیا رخ دکھانا چاہ رہے ہیں۔

لیکن حسن عباس کے مطابق، یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان ہی طالبان میں سخت گیر موقف رکھنے والے بھی ہیں، پر تشدد مزاج، دہشت گرد اور ڈرگ ڈیلرز بھی۔ ان سب کی موجودگی میں طالبان اپنا اعتدال پسند تصور کس طرح قائم کریں گے، یہ فی الحال ایک سوال ہے۔

منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تمام سرکاری عہدیداروں اور ملازمین کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں پر لوٹنے کی ہدایت کی۔

خواتین سے بھی کہا گیا کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں شرعی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی اجازت ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے گزشتہ سالوں میں طالبان کے ہاتھوں ہوئی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کو گزشتہ 20 سال سے وہ حالت جنگ میں ہیں، ان کا اپنا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔

پروفیسر حسن عباس نے اس پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور اسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ طالبان سے 20 سالہ مڈبھیڑ میں امریکہ اور اس کے اتحادی بھی یہ جان چکے ہیں، اسی لئے ان کے ساتھ مزید جنگ کی بجائے ڈیل کی گئی۔ گو کہ طالبان کی ماضی کی زیادتیوں کو بھلایا نہیں جا سکتا مگر طالبان کی معافی کو اس وقت قبول کرنا ہی بہتر ہے اور انہیں موقعہ دینا چاہئے۔ اگرچہ ابھی بہت خدشات ہیں لیکن ان کے ارادوں کی حقیقت آنے والے دنوں میں جلد ہی واضح ہو جائے گی۔

افغانستان سے امریکہ کے انخلا پر ہونے والی تنقید اور امریکی صدر جو بائیڈن کے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر حسن عباس کا کہنا تھا کہ جس طرح کے مناظر گزشتہ کچھ دنوں میں افغانستان سے دیکھنے میں آئے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ یہ انخلا انتہائی غیر ہموار طریقے سے ہوا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا افغانستان میں مزید رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

ان کے بقول، افغانستان میں رہ کر امریکہ نے اپنے کئی اہداف حاصل کئے۔ اس دوران کھربوں ڈالرز وہاں اتحادی افواج کے قیام، کانٹریکٹرز، مقامی فوج کی تربیت اور افغانستان کی تعمیر نو پر لگائے۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کی ایک بڑی اقتصادی قیمت تھی، اس لئے امریکہ وہاں ہمیشہ نہیں رہ سکتا تھا۔

افغانستان میں کچھ بھی ہو اس کی تپش پاکستان میں ضرور محسوس کی جاتی ہے اور ہمسایہ ملک افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورت حال سے پاکستان الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ اس نئی سیاسی صورت حال پر پاکستان کہاں کھڑا ہے، اس کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر حسن عباس نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کا کردار اہم رہا ہے، خواہ وہ ملا برادر کی رہائی ہو یا ملا عمر کے بیٹے اور حقانی گروپ کی شمولیت، پاکستان نے اس تمام صورت حال میں امریکہ کو مدد فراہم کی۔ مگر خطے کی نئی صورت حال پاکستان کے لئے کسی دو دھاری تلوار سے کم نہیں۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareافغان شہری پاکستان آنا چاہیں تو استقبال کرنا چاہیے: مشاہد حسین سیدEmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More