بھارت میں موجودہ نظام کو حقیقی جمہوریت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بھارت اقلیتوں کے حقوق پامال کر رہا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا تقریب سے خطاب

اے پی پی  |  Sep 15, 2021

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آئے، پاکستانی میڈیا خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ آزاد ہے، جمہوریت میں اکثریت کی حکمرانی کی باوجود اقلیت کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے، بھارت میں موجودہ نظام کو حقیقی جمہوریت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بھارت میں اکثریت کی حکومت ہے تاہم اقلیتوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں عالمی یوم جمہوریت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، ماہر قانون احمر بلال صوفی، قائداعظم یونیورسٹی کے پولیٹیکس اینڈ آئی آر ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن فرحان صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تیرہویں صدی عیسوی میں ”میگنا کارٹا “کے رائٹس بل نے جمہوریت کی داغ بیل ڈالی۔ جدید دور میں میگنا کارٹا کا ایونٹ 1215ءمیں ہوا اور اس کے بعد بل آف رائٹس کا ایونٹ 1628ءمیں ہوا۔ میگنا کارٹا اور بل آف رائٹس نے ماڈرن ڈیموکریسی کو اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور انفارمیشن کا ہے، جمہوریت اور انفارمیشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی مثال ہے جس کی بنیاد ہی قائداعظم محمد علی جناح جیسے لیڈر نے جمہوریت پر رکھی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اکثریت کی حکمرانی کے باوجود اقلیت کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت تین بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے جن میں انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور شراکت داری شامل ہیں، ان میں سے اگر ایک ستون بھی نہ ہو تو جمہوریت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں موجودہ نظام کو حقیقی جمہوریت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، ہندوستان میں اکثریت کی حکومت ہے تاہم اقلیتوں کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں میڈیا سب سے زیادہ آزاد ہے۔ بدقسمتی سے ایک فیک آرڈیننس پر پانچ روز سے وزیراعظم اور وزیر اطلاعات کے خلاف میڈیا میں اشتہارات شائع کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت چاہتی ہیں تاہم اپنے اندر جمہوریت لانے کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا کسی جمہوری ملک میں ایسی مثال موجود ہے کہ ایک پارٹی کا سربراہ وصیت پر مقرر ہو۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار نواز اور زرداری حکومت کے لئے آپس میں مل گئے اور پھر اپنے مفادات پر ایک دوسرے کے خلاف بھی رہے۔ ماضی میں مولانا فضل الرحمان ہر حکومت کا حصہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئینی اداروں کے اندر خود احتسابی کا نظام بھی وقت کے ساتھ زوال پذیر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کہتا ہے کہ وہ سب پر تنقید کرے گا تاہم اسے کوئی ریگولیٹ نہیں کر سکتا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو سب کو قانون کے تابع ہونا ہوگا۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More