کراچی: وسطی، کورنگی اضلاع سے اکتوبر میں کچرا اٹھانے کافیصلہ

سماء نیوز  |  Sep 22, 2021

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے بھی بغیر کچرا اٹھائے شہریوں سے ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا، محکمہ سوئی گیس کو فیس بلوں میں شامل کرنے کیلئے خط لکھ دیا۔ سید ناصر حسین شاہ کہتے ہیں کہ اکتوبر کے آخری ہفتے تک کراچی کے اضلاع وسطی اور کورنگی جبکہ ضلع لاڑکانہ سے کچرا اٹھانے کے کام کا آغاز ہوگا۔

وزیر بلدیات سندھ اور چیئرمین سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت منعقدہ بورڈ اجلاس میں اکتوبر سے کراچی کے ضلع وسطی، ضلع کورنگی اور ضلع لاڑکانہ سے کچرا اٹھانے کے کام کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نجم شاہ، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس، ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ زبیر احمد چنہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق نظامانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر حیدرآباد نثار سومرو، بیرسٹر مصطفیٰ ممتاز، ایڈیشنل کمشنر کراچی و دیگر افسران نے شرکت کی

اجلاس میں لاڑکانہ میں کوالیفائی کرنیوالی کمپنی کو منظوری کا خط (ایکسیپٹنس لیٹر) دینے کی منظوری بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ سکھر، روہڑی اور حیدرآباد کے ٹینڈر اسی ماہ کردیئے جائیں گے، اے ڈی پی اسکیم کے تحت سائنٹفک جی ٹی ایس کا بقایہ کام مکمل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس میں ایس ایس ڈبلیو ایم بی کو اپنے ذرائع سے ریونیو جنریٹ کرنے کے اقدامات کی ہدایت کی گئی، جس کے تحت کنٹونمنٹ بورڈ اور انڈسٹریل ایریا سے کچرا اٹھانے اور فیس مختص کرنے کے علاوہ رہائشی علاقوں سے فی گھر 100، 200 اور 300 روپے فیس لینے کیلئے سوئی سدرن گیس کو خط لکھا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے ساتھ کوآرڈینیشن کریں۔

اجلاس میں ملازمین کو حج، زیارت، ڈیوٹی کے دوران علاج معالجے یا فوتگی کی صورت میں تدفین اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دینے کیلئے پالیسی مرتب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس نے ضلع ملیر اور کورنگی سے منسلک ایریاز گلشن حدید، اسٹیل ٹاؤن و دیگر ملحقہ علاقوں سے بھی کچرا اٹھانے کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں کچرے سے بجلی بنانے کی اسکیموں کیلئے کمپنیز کے پروپوزل، ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ کی ایڈوائزری سروس کیلئے ٹرانزیکشن ایڈوائزری کنسلٹنٹ مقرر کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More