پاکستان میں تیل کئی ممالک سے سستا؟

سماء نیوز  |  Oct 18, 2021

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر شہریوں میں بے چینی پائی جارہی ہے اور حکومت کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے،اپوزیشن جماعتوں،تاجر اور ٹرانسپورٹرز کے سخت بیانات سامنے آرہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے پر شہری حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال میں دگنی ہوگئیں ہیں اس لئے قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہے حکومتی معاشی ٹیم کا دعوی ٰ ہے کہ اسکے باوجود تیل کی قیمتیں کم بڑھائی گئیں ہیں اور پاکستان میں تیل اب بھی کئی ممالک سے سستا ہے۔

کیا واقعی پاکستان میں تیل کئی ممالک سے سستا ہے؟

تیل کی قیمتوں کے موازنے کے حوالے سے مختلف ریسرچ اداروں کی رپورٹس کے مطابق بظاہر ایسا ہی ہے اورسستے تیل کے حوالے سے فہرست کے مطابق پاکستان کا شمار پہلے 168ممالک میں 28نمبر پر تھا جو اب 33ہوگیا ہے جس کا مطلب ہے کہ 135ممالک ایسے ہیں جہاں پٹرول پاکستان سے مہنگا ہے۔مزکورہ فہرست میں وینزویلا میں تیل سب سے سستا ہے دوسرے نمبر پر ایران،تیسرے پر شام ہے۔جب کہ حیرت انگیز طور پر افغانستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تیل پاکستان سے بھی سستا ہے اور اس فہرست میں افغانستان 23نمبر پر ہے۔جب کہ بھارت،بنگلہ دیش،چین اور روس،جاپان،امریکہ اور سری لنکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تیل پاکستان سے زیادہ مہنگا ہے جب کہ ہانگ کانگ وہ ملک ہے جہاں تیل سب سے زیادہ مہنگا ہے۔تاہم معاشی تجزیہ نگار اس طریقہ کار سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہر ملک کے شہریوں کی قوت خرید کو دیکھنا ضروری ہے اگر کسی ملک میں تیل مہنگا ہے لیکن اس ملک کے شہریوں کی آمدن زیادہ ہے اور ان کی قوت خرید زیادہ ہے تو اس ملک میں تیل مہنگا ہوکر بھی اس ملک سے سستا ہے جہاں شہریوں کی قوت خرید کم ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق ہر ملک کے حالات مختلف ہے کچھ ممالک ایسے ہیں جن کا 100فیصد تیل درآمدات پر انحصار ہے جب کہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کی اپنی تیل پیداوار بھی ہے اور کچھ وہ درآمد کرتے ہیں پھر پیداوار اور درآمدی تیل کا تناسب بھی مختلف ہے۔اسی طرح ہر ملک کا تیل درآمدی لاگت بھی ایک جیسا نہیں ہے خریداری کا طریقہ کار بھی مختلف ہے بعض ممالک ہیج ٹریڈنگ کرتے ہیں یعنی وہ مسقبل کے سودے کرتے ہیں جس کی وجہ سے قیمت میں فرق پڑتا ہے اگر کسی نے تین ماہ قبل سودے کئے ہیں تو انہیں موجودہ زیادہ نرخوں کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔سابق چیئرمین نیپرا فضل اللہ قریشی نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کرنسی کا فرق بھی اہم ہے قیمت کا موازنہ کرنے کے لئے یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اس ملک کے کرنسی کا امریکی ڈالر اور دیگر ممالک کی کرنسیوں سے کیا تناسب ہے۔قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی مختلف ہے پاکستان میں 15روز کے لئے قیمتوں کا تعین ہوتا ہے اور پاکستان بھر کے لئے ایک ہی ریٹ ہوتے ہیں جب کہ بعض ممالک میں یومیہ بنیادوں پر قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے اور ایک ہی ملک میں ہر شہر کے الگ الگ ریٹ ہوتے ہیں۔معاشی تجزیہ کار فیضان احمدکا کہنا ہے کہ بات درست ہے کہ پاکستان میں تیل کی قیمت کئی ممالک سے کم ہے اور حکومت نے جی ایس ٹی اور پٹرولیم لیوی میں کمی کی ہے جب کہ بھارت میں ٹیکسوں میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہاں ریٹ پاکستان سے زیادہ ہیں۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

فضل اللہ قریشی کے مطابق کرونا لاک ڈاون کے نتیجے میں دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئی تھیں جس کی وجہ سے تیل،گیس اور کوئلے کی پیداوار میں بھی کمی آئی تھی اب لاک ڈاون خاتمے کے نتیجے میں طلب بڑھ گئی ہے جب کہ توانائی کی سپلائی کم ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور صرف تیل ہی نہیں گیس،اور کوئلہ بھی مہنگا ہورہا ہے۔معروف اقتصادی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد دنیا بھر کی مارکیٹں کھل رہی ہیں جس کی وجہ سے توانائی شعبے میں مسائل آرہے ہیں قیمتیں بڑھ رہی ہیں ظاہر ہے کہ مہنگا تیل درآمد کریں گے تو مہنگا ہی شہریوں کو دیں گے لیکن حکومت کو اگر مہنگائی کو روکنا ہے تو غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے زریعے شہریوں پر اس کے اثرات منتقل ہونے سے روک سکتے ہیں۔ فیضان احمدکا کہنا ہے کہ جوں جوں مختلف ممالک میں لاک ڈاون ختم ہوں گے ڈیمانڈ مزید بڑھے لیکن پیدوار ڈیمانڈ کے مطابق نہیں ہورہی جس کی وجہ سے بحرانی کیفیت ہے۔

توانائی شعبے کا عالمی بحران کب تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

فضل اللہ قریشی کے مطابق توانائی بحران چھ ماہ تک چلنے کی توقع ہے اس کے بعد ریکوری شروع ہوگی۔چین میں کوئلے کی پیدوار کرونا کی وجہ سے کم کردی تھی اب دوبارہ پیدوار بڑھائی جارہی ہے جس سے تیل کی ڈیمانڈ کم ہوجائے گی اور قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ معاشی بحران ختم ہوجائے گا اصل مسئلہ کرونا وبا پر قابو پانا ہے کئی ممالک اب تک کرونا کے اثرات سے نہیں نکل سکے ہیں۔ فیضان احمد کا کہنا ہے کہ اگلے دو سے تین ماہ کے دوران توانائی کا بحران برقرا رہنے کا امکان ہے اگر تیل کی قیمت مزید بڑھتی ہے تو پاکستان پر اس کا اثر پڑے گا اور مہنگائی بڑھے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More