'صدیوں سے انتظار کر رہا تھا'، فلم '83' ریلیز کے لیے تیار

اردو نیوز  |  Nov 27, 2021

انڈین کرکٹ ٹیم کی سنہ 1983 کے کرکٹ ورلڈکپ کی جیت پر مبنی فلم ’83‘ طویل انتظار کے بعد سینما گھروں کی زینت بننے کے لیے تیار ہے۔

فلم رواں سال 24 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی۔

فلم کی کہانی 1983 کے ورلڈکپ کی فاتح انڈین ٹیم کے گرد گھومتی ہے جس کے کپتان کپل دیو تھے۔

'83' میں کپل دیو کا کردار مشہور اداکار رنویر سنگھ ادا کر رہے ہیں۔ رنویر سنگھ کے ساتھ ان کی اہلیہ و اداکارہ دپیکا پڈوکون کپل دیو کی بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

رنویر سنگھ نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر فلم کا ایک ٹیزر پوسٹ کرتے ہوئے 1983 میں اںڈین کرکٹ ٹیم کے پہلے ورلڈکپ ٹائٹل جیتنے کے حوالے سے لکھا کہ ’سب سے بڑی کامیابی، فلم ’83‘ 24 دسمبر 2021 کو سینما گھروں میں ہندی، تامل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم میں ریلیز ہو رہی ہے۔

ورلڈکپ کے اس فائنل میچ میں کپل دیو نے سر ویوین رچرڈز کا شاندار کیچ پکڑا تھا جس کی بدولت ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ بالکل ناکام ہو گئی تھی۔

    View this post on Instagram           A post shared by Ranveer Singh (@ranveersingh)

ٹیزر میں اس اہم کیچ کو دکھایا گیا ہے جہاں مدن لال کی بال پر کپل دیو نے ویوین رچرڈز کا کیچ لیا۔

اس کیچ کو آج بھی انڈیا میں تاریخی کیچ تصور کیا جاتا ہے۔

 رنویر سنگھ نے اپنے انسٹاگرام پر مزید لکھا ہے کہ فلم '83' کا ٹریلر 30 نومبر کو ریلیز ہونے والا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس فلم کے ٹیزر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں طویل عرصہ سے اس فلم کا انتظار تھا، جو اب جلد ریلیز ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فلمی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی تھی، جو اب ایک طویل وقت کے بعد دوبارہ آباد ہو رہی ہے۔

ادیتیا ببنا نامی صارف نے کہا کہ ’صدیوں سے انتظار کر رہا تھا اس کے لیے۔‘

Sadiyon se intejaar kar rha tha iske liye

— Adi Bubna (@adityabubna21) November 26, 2021

ایک اور صارف اے رئوڈی کھلاڑی نے فلم کے ٹیزر کے حوالے سے کہا کہ ’فلم اچھی ہوگی اور میرے خیال سے یہ سب سے زیادہ کمائی کرے گی۔'

Movie achi hogi and this will be highest grosser I think...

— Delhi Khiladi (@ARowdyKhiladi) November 26, 2021

1983 کے ورلڈکپ میں انڈیا نے دو مرتبہ کے دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر پہلی بار عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More