بچے کی ڈیلیوری: نیوزی لینڈ کی رکن پارلیمان خود سائیکل چلاکر ہسپتال پہنچ گئیں

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

خواتین دنیا کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں اور وہ اس کے ساتھ ہی قدرت کے دیئے ہوئے انمول تحفے ‘ماں’ بننے کے عمل اور بچوں کے تحفظ و پرورش کا بیڑا بھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔

کام کے ساتھ ساتھ بچوں کی پرورش اور دیکھ بحال ورکنگ وومن کا ہی خاصہ ہے اور اس کے لیے انہیں سخت مشقت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں نیوزی لینڈ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں ملک کی رکن پارلیمنٹ بچے کی ڈیلیوری کے لیے خود سے سائیکل چلاتے ہوئے ہسپتال پہنچ گئیں۔

 برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی رکن پارلیمان جولی این جینٹر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ وہ ’رات دیگر گئے بچے کی ڈیلیوری کے لیے اپنی سائیکل چلاتے ہوئے ہسپتال پہنچیں، جہاں ایک گھنٹے بعد انہوں نے بچے کو جنم دیا‘۔

بچے کی ولادت کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے فیس بک پر اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ’صبح 3 بج کر 4 منٹ پر ہم نے اپنے گھر کے نئے رکن کو خوش آمدید کہا، میں نے ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا کہ سائیکل سے ہسپتال پہنچوں گی لیکن ایسا کرنا پڑا‘۔

اس پوسٹ کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی متعدد تصاویر بھی پوسٹ کیں، جس میں سے ایک میں انہیں سائیکل چلاتے ہوئے، ایک میں بچے کی پیدا ئش کے بعد کار پارکنگ میں مسکرا ہوئے اور ایک میں وہ اپنے خاوند اور بچے کے ساتھ خوش دکھائی دے رہی ہیں۔

ان کی پوسٹ پر لوگوں نے انہیں مبارکباد دی اور ان کے اس اقدام کی تعریف کی۔

واضح رہے کہ 50 لاکھ کی آبادی والا ملک نیوزی لینڈ یہاں کے سیاست دانوں کی سادگی کی وجہ سے معروف ہے۔

یاد رہے کہ اس ملک کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنی وزرات عظمیٰ کے دوران 2018 میں بچے کی پیدائش کے لیے چھٹی لی تھی اور جب ان کا بچہ 3 ماہ کا تھا تو انہوں نے اس کے ساتھ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

خیال رہے کہ 2017 میں آسٹریلیا کی ایک خاتون رکن پارلیمان کو ایوان میں سیشن کے دوران اپنے بچے کو دودھ پلانے والی پہلی خاتون کے طور پر دیکھا گیا تھا جبکہ اس کے فوری بعد ہی برطانوی رکن پارلیمان کی اپنے بچے کے ساتھ ایوان میں آمد بھی لوگوں خی توجہ کا مرکز بنی تھی۔

دو سال قبل ہی نیوزی لینڈ کی پارلیمان کے اسپیکر کو اپنی صدارت کی ذمہ داری نبھانے کے دوران ایک خاتون رکن پارلیمان کے بچے کو گود میں کھلاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

 

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More