انگلش چینل میں ڈوبنے والی عراقی خاتون کے والد کا اسمگلرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

بول نیوز  |  Nov 28, 2021

یورپی ممالک، برطانیہ اور فرانس کے درمیان موجود انگلش چینل کو عبور کرنے کی کوشش میں گزشتہ دونوں ایک کشتی ڈوب گئی تھی، اس واقعے میں ہلاک ہونے والی عراقی کرد خاتون مریم کے والد نے انسانی اسمگرز کو مافیا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مریم کے والد نوری محمد امین نے عراق میں کردستان کے علاقے صوران سے بات کرتے ہوئے انسانی اسمگلرز کو قصائی قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف میرے لیے بلکہ پورے کردستان اور دنیا کے لیے ایک المیہ ہے۔

انہوں نے فرانسیسی حکومت سے درخواست کی کہ سرحدوں پر سخت اقدامات کریں اور ان اسمگلرز کو لوگوں کی زندگیاں لینے سے روکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انسانی اسمگلرز جو کشتیاں استعمال کر رہے ہیں وہ اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں کہ آپ غریب انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کریں، میری بیٹی کے لیےانسانی حقوق کہاں ہیں؟

اس حوالے سے مریم کے کزن  کرمانج عزت نے برطانوی ریڈیو اسٹیشن ‘ایل بی سی’ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی منگیتر برطانیہ میں نئی ​​زندگی شروع کرنے کے لیے خوشی اور امید تھی۔

خیال رہے کہ 24 سالہ کرد خاتون ان 27 افراد میں شامل تھیں جو 4 روز قبل انگلش چینل میں کشتی ڈوب جانے سے جاں بحق ہوگئے تھے، مریم اپنے منگیتر تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی جو پہلے سے ہی برطانیہ میں موجود تھے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ اس حادثے کا باعث بننے والی کشتی میں 10 مسافروں کی گنجائش تھی جس میں ضرورت سے زیادہ افراد سوار کیے گئے تھے جو کسی کنٹینر جہاز سے ٹکرا گیا اور اس حادثے کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہوئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز درجنوں افراد اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر جمع ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ واقعے کے بعد لندن میں احتجاج کے دوران برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ رواں سال 25 ہزار افراد نے شمالی فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بحراوقیانوس کا انگلش چینل عبور کیا جس کی وجہ سے لندن اور پیرس کے درمیان کشیدگی سامنے آئی۔

اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ایک خط میں متنبہ کیا تھا کہ جب تک فرانس انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کی تعداد کم کرنے کے منصوبے پر مذاکرات کی جانب واپس نہیں لوٹتا تو یہ تارکین ایسے ہی ہلاک ہوتے رہے گے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل نے مذکورہ خط سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد ناراضی کا اظہار کیا۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More