سیالکوٹ واقعہ: پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں ملزم کی شناخت اور سزائیں کیسے ہوتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Dec 05, 2021

BBC

’مشال خان قتل کیس میں پشاور کی انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے جب مرکزی ملزم کو موت کی سزا سنائی تو ہم سب خوش تھے کہ چلیں آئندہ تو ڈر پیدا ہو گا اور ایسے واقعات تھم سکیں گے، مگر ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا اور ابھی تک ایسے دردناک واقعات پیش آ رہے ہیں۔‘

یہ کہنا تھا کہ مشال خان کے مقدمے میں وکیل شہاب خان خٹک کا، جو ابھی تک مشال خان کے والد اقبال خان کے ساتھ اس انتظار میں ہیں کہ کب پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ مشال خان کے زیر التوا مقدمے پر سماعت کرتی ہے۔

جمعے کو سیالکوٹ شہر کی ایک فیکٹری میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن مینیجر پریا نتھا کے قتل نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملزمان کی شناخت کیسے ہوتی ہے اور آیا قانون کے مطابق انھیں سزائیں دی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان قتل کیس میں مرکزی ملزم عمران علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جسے مشال خان کے والد اقبال خان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

ہم نے قانون کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پولیس آخر ایسے ہجوم میں مرکزی ملزم کی شناخت کیسے کرتی ہے اور کس بنیاد پر عدالت میں ہجوم میں سے چند ملزمان پر فرد جرم عائد کرانے اور شواہد پیش کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے مرکزی ملزمان تک پولیس کیسے پہنچتی ہے؟

مشال خان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل شہاب خان خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ پُرتشدد ہجوم کے ایسے واقعات میں ایک قدر مشترک ہے کہ وہاں پر موجود لوگ ایسے دردناک واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔

ان کے مطابق جب سنہ 2017 مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم مشال خان پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے تو یہ سب مناظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیے۔ بعد میں اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

شہاب خٹک کے مطابق پولیس نے ان ویڈیوز میں پہلے شناخت کی کہ کون مشال خان کو مارنے پر اکسا رہا ہے اور کس کا اس سارے معاملے میں کیا کردار ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم عمران علی کو گرفتار کر کے اس کی ویڈیو بنائی اور پھر واقعے کی ویڈیوز کے ساتھ اس ویڈیو کو فارنزک کے لیے بھیج دیا۔

ان کے مطابق فارنزک میں یہ ثابت ہو گیا کہ مشال خان کو گولی مارنے والا مرکزی ملزم وہی ہے جس کی حراست کے دوران پولیس نے ویڈیو بنا کر تصدیق کے لیے بھیجی تھی۔

وکیل شہاب خٹک کے مطابق فوجداری مقدمات میں مزید شہادتیں جمع کرنے کے بھی طریقہ کار درج ہیں مگر ایسے مذہبی نوعیت کے واقعات میں ملزمان خود بھی اپنے کیے سے انکاری نہیں ہوتے اور وہ خود بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایسا اس وجہ سے کیا ہے۔

Getty Imagesمرکزی ملزمان تک پہنچنے کے لیے پہلا کام جیو فینسنگ

فوجداری قوانین کے ماہر بیرسٹر سلمان صفدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے واقعات میں سب سے پہلے تو مرکزی ملزمان کی شناخت ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں اس علاقے کی ’جیو فینسنگ‘ کی جاتی ہے یعنی حقائق کو جدید آلات، سائنسی شواہد اور طریقوں کے ذریعے اکھٹا کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کی رائے میں جیو فینسنگ ایک طویل اور پیچیدہ طریقہ تفتیش ہے۔ ان کے خیال میں آج کے دور میں ویڈیوز ہی ملزمان تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

مولوی انوارالحق کے مطابق پولیس کو وقت ضائع کیے بغیر ایسے شواہد کو سامنے لانا ضروری ہوتا ہے وگرنہ دیر سے پیش کیے جانے والے شواہد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

ان کی رائے میں جن افراد نے بھی ویڈیوز بنائی ہیں ان کا عدالت میں آ کر یہ شہادت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ ان مقدمات میں موت کی سزا ہوتی ہے۔

سلمان صفدر کے مطابق سیالکوٹ واقعے کی ویڈیوز بھی دستیاب ہیں۔

اس ویڈیو میں جو افراد سری لنکن شہری پریا نتھا پر تشد کر رہے ہیں اور اسے جان سے مار رہے ہیں وہ سب نظر آ رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ فیکٹری کے اندر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ پریا نتھا کے ساتھ اس سارے تنازع کی بنیاد کس نے رکھی۔

سلمان صفدر کی رائے میں پولیس کی تحقیقات اور سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والے جدید سائنسی شواہد، جس میں موبائل ڈیٹا کا اہم ترین کردار ہوتا ہے جو مرکزی ملزم کی شناخت کرتا ہے اور پھر یہی شواہد ملزم کی سزا کا باعث بن جاتے ہیں۔

شہاب خٹک کے مطابق دیگر شواہد میں پولیس یہ جانچ پڑتال بھی کر سکتی ہے کہ جمعے والے دن کون کون ڈیوٹی پر موجود تھا اور اس وقت جب یہ تنازع شروع ہوا تو کس نے کیا کردار ادا کیا تھا۔

ان کی رائے میں پولیس جس انداز میں شہادتیں جمع کرتی ہے اس کی فوجداری قوانین میں اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

کیا مرکزی ملزم ایک ہی ہوتا ہے؟

مولوی انوارالحق کے مطابق اگر کسی ایک شخص کے وار سے یا گولی سے کسی کی موت واقع بھی ہوجائے تو ایسے میں پرتشدد ہجوم میں دیگر لوگوں کی جان خلاصی نہیں ہو جاتی۔

ان کی رائے میں سیالکوٹ واقعے کی ویڈیوز بہت صاف ہیں اور ’کامن اٹینشنز‘ کی شق کے تحت دیگر ملزمان جن کی شناحت ہو رہی ہے انھیں بھی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

سرکاری طور پر نصب کیے گئے کیمروں سے شواہد اکھٹے کرنے کے بارے میں سابق اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ ایسے میں صرف ان کیمروں کا انچارج ہی جا کر عدالت کی تسلی کرا سکتا ہے کہ کونسی ویڈیو کس کیمرے سے حاصل کی گئی ہے۔

BBCقریب 11 سال قبل سیالکوٹ میں دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا گیا اور پھر دونوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انھیں ہلاک کردیا گیاپرتشدد ہجوم کے ہاتھوں منیب اور مغیث کا قتل، سپریم کورٹ میں ملزم سزائے موت سے بچ گئے

سنہ 2010 میں سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا اور اس کے بعد دونوں بھائیوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انھیں ہلاک کردیا۔

ہجوم نے دونوں بھائیوں کی لاشوں کو پہلے الٹا لٹکایا اور بعد میں ان بھائیوں کی لاشوں کو شہر میں گھمایا۔

اس واقعے کی بنائی جانے والی فوٹیج کو پاکستان میں مقامی ٹی وی چینلوں نے نشر کیا، جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا۔

ان دو بھائیوں کے قتل کے ذمہ داران کو سنائی جانے والی سزائے موت کو گذشتہ برس سپریم کورٹ نے عمر قید میں بدل دیا۔

خیال رہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو مولوی انوارالحق اٹارنی جنرل کے منصب پر فائز تھے۔

ان سے جب ماضی میں پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں ملزمان کی بریت اور سزائیں کم ہونے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ تمام شواہد کے بعد یہ عدالت پر ہی منحصر ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو کیا سزا سنائے۔

واضح رہے کہ مولوی انوارالحق لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہ چکے ہیں۔

’بات ذہنیت کی ہے، سزا بگاڑ پیدا کرنے والے کو بھی ملنی چاہیے‘

مشال خان کے وکیل شہاب خٹک کے مطابق ’موب جسٹس‘ یا پرتشدد ہجوم کے واقعات ایک دن میں نہیں ہوتے بلکہ ایسے واقعات کے لیے پہلے باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔

ان کے خیال میں ریاست کا یہ کام ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے۔

شہاب خٹک کی رائے میں اس وقت ’ریاست خود ایک ایسے بیانیے کو سپورٹ کر رہی ہے، جس سے مذہب کے نام پر عدم برداشت اور ایسے پرتشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں۔‘

ان کے خیال میں فیصلہ ساز مذہب کو اتحاد کے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ ان وجوہات سے صرف نظر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایسے دلخراش واقعات پیش آتے ہیں۔

ان کے مطابق جب مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے ایسے واقعات میں کسی کو سزا ہوتی ہے تو معاشرے میں اسے ہیرو کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے اور پھر ادارے بھی اس دباؤ کو محسوس کرتے ہیں اور آخر میں ایسے سنگین واقعات میں ملوث ملزمان بری ہوجاتے ہیں یا ان کی سزائیں کم ہو جاتی ہیں۔

ان کی رائے میں ’اس وقت نفرت پر مبنی تقریر تو کوئی جرم ہی نہیں رہ گیا ہے۔‘

شہاب خٹک کا کہنا ہے اگر ریاست نے نفرت پر مبنی بیانیہ بدلنا ہے تو پھر ایسے بیانیے کو میڈیا، عدالتوں، عبادت گاہوں اور درس گاہوں کے ذریعے بدلنا ہو گا۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات دہشتگردی کی عدالتوں میں سنے جاتے ہیں اور یہی ذہنیت معاشرے میں دہشتگردی کا باعث بنتی ہے۔

سیالکوٹ واقعے کے مرکزی ملزمان تک پولیس کیسے پہنچی؟

پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں پریا نتھا کمارا نامی ایک سری لنکن شہری کو تشدد کر کے ہلاک کرنے اور پھر اس کی لاش کو آگ لگانے والے مرکزی ملزمان کی شناخت کر دی گئی ہے۔

سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جنھوں نے ہجوم کو اشتعال دلایا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مرکزی ملزمان کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی ہے۔

لاہور میں آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث 118 گرفتار ملزمان میں 13 مرکزی ملزم شامل ہیں۔ ان تمام مرکزی ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق 160 کیمروں کی فوٹیج لی گئی ہے اور گرفتاریوں کے لیے دس ٹییمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور ان کی شناخت بھی ہو چکی ہے جب کہ آئی پنجاب نے پولیس کی کوتاہی کا امکان خارج کر دیا ہے۔

پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی ملزم کو مبینہ طور پر ویڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، 'جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے۔'

پولیس کا کہنا تھا کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’فیکٹری میں کچھ لوگ خاموش تماشائی بن گئے، باقی انھیں قتل کرنا چاہتے تھے‘

پاکستان میں توہینِ مذہب کے قوانین ہیں کیا؟

’یقین ہے عمران خان عہد پورا کرتے ہوئے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘

مشال خان قتل کیس کے حقائق

مشال خان مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم تھے جنھیں سال 2017 میں مشتعل ہجوم نے انتہائی تشدد کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مشال خان کے قتل میں 61 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا، جن میں سے 57 ملزمان کو گرفتار کرکے سماعت شروع کر دی گئی تھی۔ ان میں زیادہ تر عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبا اور یونیورسٹی کے ملازمین تھے۔

مشال خان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے لیکن اس بارے میں قائم تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔

پولیس کی جانب سے مشال خان قتل کیس میں گرفتار 57 ملزمان میں سے عدالت نے مرکزی ملزم عمران علی کو سزائے موت، پانچ کو 25 سال قید جبکہ 25 ملزمان کو چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جبکہ باقی 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

چار سال قید کی سزا پانے والے ملزمان کو پشاور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

AFPیوحنا آباد میں کیا ہوا تھا؟

سنہ 2015 میں لاہور کے یوحنا آباد کے علاقے میں واقع مسیحی برادری کی دو عبادت گاہوں پر بم دھماکے ہوئے تھے، جس کے بعد مشتعل علاقہ مکینوں نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ بھی کی اور پولیس کے ساتھ بھی ان کی جھڑپ ہوئی تھی۔

اسی دوران مسلمان برادری سے تعلق رکھنے والے بابر نعمان اور حافظ نعیم مشتعل افراد کے ایک ہجوم کے ہاتھ چڑھ گئے تھے۔ ہجوم نے انھیں دہشت گرد تصور کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد ان پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی تھی۔

پولیس نے ایک طویل تفتیش کے بعد 40 سے زائد ملزمان کی نشاندہی کی تھی اور ان پر انسدادِ دہشت گردی سمیت قتل اور دیگر کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔

بعد میں لواحقین نے اس مقدمے میں صلح کر لی، جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ ایسے واقعات میں صلح بھی کی گنجائش بھی ہوتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More