دو ماہ تک پاکستان میں دالوں کی شدید قلت کا امکان ہے، عبدالرؤف

بول نیوز  |  Dec 07, 2021

صدر گروسریز ایسوسی ایشن عبدالرؤف نے انکشاف کیا ہے کہ ذخیرہ مافیا نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد مارکیٹ سے دالیں غائب کرنی شروع کردی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں دالوں کی قیمت میں 10 سے 50 روپے فی کلو تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

صدر گروسریز ایسوسی ایشن کے مطابق امپورٹرز نے عالمی مارکیٹ میں دال کی قیمتوں میں اضافے کے بعد درآمد تقریبا بند کردی ہے جس کی وجہ سے اگلے ماہ سے ملک بھر میں دالوں کی قلت کا امکان ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت امپورٹرز کو سبسڈی فراہم کرے یا خود دالیں منگوائے ورنہ فروری تک بازار میں دالیں نایاب ہوسکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دالوں کی فی ٹن قیمت میں 350 ڈالر تک کا اضافہ ہوچکا ہے، کالا چنا مارچ میں 500 ڈالر فی میٹرک ٹن سے 700، دال ماش 800 سے ڈالر سے بڑھ کر 11 سو ڈالر کی ہو گئی ہے۔

صدر گروسریز ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ دال مسور 650 ڈالر سے بڑھ کر 1000 ہزار ڈالر، سفید چنا 700 ڈالر سے بڑھ کر 1100 ڈالر، لال لوبیا 900 ڈالر سے بڑھ کر 1300 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں درآمد کم ہونے اورعالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ملکی مارکیٹ میں بھی دالوں کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہول سیل میں دال ماش 220 روپے سے بڑھ کر 255 روپے، دال ماش ثابت 185 سے بڑھ 225 روپے، دال ارہر 300 سے بڑھ کر 315، مسور دال 165 سے بڑھ کر 195 روپے، کابلی چنا 140 سے بڑھ کر 170 روپے ،کابلی چنا سفید 185 سے بڑھ 240 روپے ،درجہ دوئم 130 سے165 ہوگیا ہے۔صدر گروسریز ایسو سی ایشن نے کہا کہ چاول کرنل باسمتی 15 روپے اضافے سے 175 روپے، سیلا 160 سے بڑھ کر 180 روپے ہوگیا ہے، ملک بھر میں 80 فیصد دالیں امپورٹ کی جاتی ہیں ملکی پیداوار صرف بیس فیصد ہے اور مونگ کی دال ملکی ضرورت کے لحاظ سے پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سالانہ ماش، مسور، مونگ اورسفید چنا دو لاکھ ٹن تک استعمال کی جاتی ہیں،عالمی مارکیٹ سے آئندہ ماہ دالوں کی امپورٹ کے بعد جنوری میں دالوں کی قیمتوں میں 50 روپے فی کلو ممکنہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More