انڈیا میں صحافیوں، کسان تنظیموں اور پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بلاک

اردو نیوز  |  Jun 27, 2022

صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی جے پی) نے انڈین حکومت کی درخواست پر مختلف صحافیوں اور سماجی تنظیموں کے اکاؤٹس بند کرنے اور انڈیا میں ان کاؤنٹس تک رسائی روکنے کے مذمت کی ہے۔

انڈیا میں بلاک کیے جانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس میں پاکستان کے سرکاری ریڈیو اور مختلف سفارت خانوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔

سی پی جے ایشیا کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے ٹوئٹر کی جانب سے انڈین حکومت کی درخواست پر عمل کرکے صحافی رعنا ایوب کے اکاؤنٹ تک رسائی روکنے اور کالم نگار سی جے ورلیمن کے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کا عمل سوشل میڈیا پر سنسر سب کے نئے ٹرینڈ کا حصہ ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔

سی پی جے نے اس ٹرینڈ کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کی آوازیں جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔

قبل ازیں صحافی رعنا ایوب نے ٹوئٹر کی جانب سے موصول ہونے والے مسیج کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’ہیلو ٹوئٹر، یہ کیا ہے؟

ٹوئٹر کی جانب سے رعنا ایوب کو بھیجے گئے مسیج میں کہا گیا تھا کہ انڈیا کیےمقامی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت اس کاؤٹ تک انڈیا میں رسائی روک دی ہے۔

صحافی رعنا ایوب وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت کی پالیسیوں کی سخت ناقد ہیں۔ انہوں نے گجرات فسادات اور فرضی اِنکاونٹرز وغیرہ کے حوالے سے آٹھ ماہ کا ایک سٹنگ آپریشن بھی کیا تھا۔ یہ مواد بعد میں 'گجرات فائلز‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں نریندر مودی اور امیت شاہ کے حوالے سے بہت سے انکشافات ہیں۔

قبل ازیں ٹوئٹر نے آسٹریلوی صحافی اور کالم نگار سی جے ورلیمن کا اکاؤنٹ انڈیا میں بلاک کر دیا تھا۔  سی جے ورلیمن اسلامو فوبیا اور انڈین حکومت کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے سخت ناقد رہے ہیں۔

Twitter complying with Indian government's directive to withhold journalist @RanaAyyub's tweet and block columnist @cjwerleman's account in India are part of an unacceptable new trend of censorship on social media. This must stop! Journalists voices are essential for a democracy https://t.co/jtXvHP6Nq3

— CPJ Asia (@CPJAsia) June 27, 2022

سی جے ورلیمن کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر نے ان کا اکاؤنٹ انڈیا میں نریندر مودی کی ہندو فاشسٹ حکومت کے مطالبے پر بلاک کیا ہے۔  

ٹوئٹر نے صرف صحافیوں ہی نہیں بلکہ بہت سے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور اداروں کے اکاؤنٹس تک رسائی بھی انڈین حکومت کی درخواست پر روک دی ہے۔

انڈین ویٹ سائیٹ دی وائر کے مطابق انڈیا میں کسانوں کی زرعی قوانین کے خلاف تحریک کے دوران سرگرم دو اکاؤنٹس تک رسائی بھی روک دی گئی ہے۔

Good news. Pakistan state broadcaster @radiopakistan banned in India after a legal complaint made against it by Government of India. Radio Pakistan is known to spread fake news against India on Kashmir. Mouthpiece of Pakistan deep state. pic.twitter.com/3auM4bz5o7

— Aditya Raj Kaul (@AdityaRajKaul) June 27, 2022

سمیوکت کسان مورچہ نامی کسانوں کی تنظیم کا اکاؤنٹ @Kisanektamorcha تک رسائی روک دی گئی ہے۔ اتوار کی رات کو @tractor2twiiter  نامی اکاؤنٹ تک رسائی بھی روک دی گئی ہے جو کہ کسانوں کی تحریک کے دوران بہت زیادہ ایکٹیو تھا۔

ٹوئٹر کی جانب سے دونوں اکاؤنٹس کو بھیجے گئے مسیج میں کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹ تک رسائی انڈیا کی مقامی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے روک دی گئی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی روک دی گئیدوسری جانب سوشل میڈیا کمپنی نے انڈیا میں ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی روک دی ہے۔

انڈین صحافی اور ٹی وی نائن کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ادتیا راج کول نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اچھی خبر۔ پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے اکاؤنٹ تک انڈیا میں رسائی انڈین حکومت کی شکایت پر روک دی گئی ہے۔‘

اکاؤنٹ ’withheld‘ سے کیا مراد ہے؟ٹوئٹر نے انڈیا میں حکومت کی شکایت پر کئی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے اکاؤنٹ ’ودہلڈ‘  (withheld)

کیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکاؤنٹwithheld  کرنا کیا ہوتا؟

ٹوئٹر کے مطابق کئی ممالک بشمول امریکہ اور انڈیا کے مقامی قوانین کا ٹویٹس اور ٹوئٹر پر شیئر کی جانے والی مواد پر اطلاق ہوتا ہے۔ اگر ایسے ممالک میں مجاز اتھارٹی کی جانب سے درخواست موصول ہوتی ہے تو ایسے اکاؤنٹ تک اس مخصوص ملک میں رسائی روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے ٹوئٹر ایسے اکاؤنٹ کے مواد تک درخواست دہندہ ملک یا اس ملک میں جہاں کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے رسائی روک دیتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More