پہلے 25 روپے کا کرایہ ہوا کرتا تھا اور ۔۔ جانیے اس سنہری دور کے بارے میں، جب پی آئی اے دنیا کی بہترین ائیر لائن ہوا کرتی تھی

روزنامہ اوصاف  |  Aug 06, 2022

پاکستان میں ایک وقت تھا جب پاکستان انٹر نیشنل ائیرلائن کو ایک خاص مقام حاصل تھا مگر اب اس ائیر لائن کو دیوالیہ ہوتے دیکھا جاتا ہے۔ ماضی میں نجی ائیر لائنز اس حد تک فعال نہیں تھیں جس طرح پی آئی اے کردار نبھا رہی تھی۔ اس خبر میں آپ کو پی آئی اے سمیت نجی ائیر لائنز سے متعلق کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں بتائیں گے جو کہ ماضی میں کافی مشہور تھیں۔ پی آئی اے وہ ائیر لائن کمپنی ہے جس نے دنیا کی کئی ائیر لائنز کو سکھایا ہے، دنیا بھر کی مختلف ائیر لائنز کے ملازمین پی آئی سے سیکھنے آتے تھے۔ مگر اب اس ادارے کا یہ حال حکومتی کی نااہلی اور سیاسی اثر و سوخ ہے۔ جس نے ادارے کو تباہ کر دیا۔ آج اگر پی آئی اے جدید دور کے تقاضوں اور ضروریات کو پورا کر رہا ہوتا تو دنیا کی بہترین ائیر لائنز میں سے ایک ہوتا۔ ایک وقت تھا جب پی آئی اے کے اشتہارات اخباروں میں چھپ رہے ہوتے تھے، ماڈلز اور منفرد جملے اخباروں میں اشتہار کی صورت میں پی آئی اے کا بیانیہ رکھ رہے ہوتے تھے۔ اب بھی اخباروں میں پی آئی اے سے متعلق خبریں چھپتی ہیں مگر اب منفی خبریں موجود ہوتی ہیں۔ پی آئی اے کے یہ اشتہارات ہو سکتا ہے آپ نے پہلے نہیں دیکھے ہوں مگر یقین جانیں یہ اشتہارات پی آئی اے کو ایک بہترین ائیر لائن دکھانے میں اور لوگوں میں توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان تصاویر میں پی آئی اے کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پی آئی کی خواتین اسٹاف اور مرد اسٹاف اپنے منفرد انداز کی بدولت جانے جاتے تھے۔ اسی طرح ماضی میں نجی ائیر لائنز بھی فعال تھیں مگر پی آئی اے کو ٹکر نہیں دے سکتی تھیں۔ 1966 کا یہ اشتہار شکیل ایکسپریس لمیٹڈ نامی کمپنی کا ہے، جس حیدر آباد سے کراچی کا کرایہ درج زیل ہے اور سفری سہولیات سے متعلق بھی بتایا گیا ہے۔ 25 روپے کرایہ میں آپ کراچی سے حیدرآباد ا سفر آدھے گھنٹے میں طے کر سکتے تھے۔ جبکہ ساتھ ہی ساتھ رات کے کھانے اور صبح کا ناشتہ بھی دیا جاتا تھا۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More