’زندگی کا معجزہ‘، تباہ کن زلزلے کے 17 دن بعد چینی شہری کو بچا لیا گیا

اردو نیوز  |  Sep 22, 2022

چین میں تباہ کن زلزلے کے بعد زخمی ساتھیوں کی دیکھ بھال کرنے اور پھر پہاڑوں میں لاپتہ ہو جانے والے چینی کارکن کو 17 دن بعد ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں جنوب مغربی صوبہ سیچوان میں 6.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 93 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چین کے سرکاری ریڈیو چائنا نیشنل ریڈیو (سی این آر) نے بتایا کہ سیچوان کے وانڈونگ ہائیڈرو پاور پلانٹ میں کام کرنے والے گان یو بدھ کے روز ایک مقامی دیہاتی کو زخمی حالت میں ملے۔

سی این آر نے ان کے ریسکیو کو ’زندگی کا معجزہ‘ قرار دیا ہے۔

پانچ ستمبر کو گان اپنے ساتھی کارکن لو یونگ کے ساتھ ڈیوٹی پر تھے جب زلزلہ آیا، اور وہ دونوں زخمی ساتھیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے اور ڈیم سے پانی چھوڑ کر سیلاب کو روکنے کے لیے وہیں موجود رہے۔

سی این آر کے مطابق گان جن کی نظر کافی کمزور ہے، زلزلے کے دوران اپنی عینک سے محروم ہو گئے تھے اور پہاڑی علاقے میں پہنچنے کی تگ و دو کر رہے تھے۔

گان یو اور ان کے ساتھی نے مدد کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو اشارہ کرکے بلانے کی کوشش کی جو ان سے بہت دور کھڑے تھے۔

لوو نے سی این آر کو بتایا کہ ’ہم نے اپنے کپڑے اتارے، انہیں درختوں کی شاخوں پر باندھا اور چاروں طرف لہرایا۔‘

انہوں نے بالآخر فیصلہ کیا کہ گان کو وہیں رہنا چاہیے جب لوو مدد کی تلاش میں نکل پڑے۔

لوو نے گان کو کائی اور بانس کے پتوں کا بستر بنانے میں مدد کی اور الگ ہونے سے پہلے کچھ جنگلی پھل چھوڑ دیے۔

لوو آٹھ ستمبر کو ریسکیو اہلکاروں کو اس وقت ملے جب انہوں نے آگ جلا کر ہیلی کاپٹر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

11ستمبر کو گان یو کی عارضی پناہ گاہ کا پتہ چلا لیکن وہ اس جگہ سے غائب تھے۔

رواں ہفتے کے شروع میں مقامی کسان نی تائیگاؤ پہاڑوں کے درمیان واقع اپنے گاؤں واپس آئے اور گان کے بارے میں سنا۔

انہوں نے بدھ کی صبح تلاش شروع کر دی اور صرف دو گھنٹے بعد گان کے رونے کی آواز سنی اور انہیں کچھ درختوں کے نیچے لیٹا ہوا دیکھا۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق دیگر امدادی کارکنوں کو گان تک پہنچنے میں مزید کئی گھنٹے لگے۔

گان یو کو بدھ کے روز قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ہڈیاں فریکچر ہوئی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More