جانکی امّل: پھولوں کی ماہر سائنسدان جنھیں انڈیا میں کھلنے نہ دیا گیا

بی بی سی اردو  |  Nov 23, 2022

مارچ کے مہینے میں ویزلی میں جیسا پھول میگنولیا کھلنے لگتا ہے۔

اگلے چند ہفتوں کے لیے گلابی پھولوں کی قطاریں برطانیہ کے سرے کے چھوٹے سے قصبے میں دعوت نظارہ دیں گی اور راہگیروں کو روک کر انھیں اپنی خوشبو سے لطف اندوز ہونے کو کہیں گی۔

تاہم، بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے پھولوں کی جڑیں ہندوستان میں پیوستہ ہیں۔

ان پھولوں کو ای کے جانکی امّل نے لگایا تھا۔ وہ 19ویں صدی میں جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ میں پیدا ہونے والی سائنسدان تھیں۔

تقریباً 60 سال پر محیط اپنے کریئر میں جانکی نے پھولدار پودوں کی ایک وسیع رینج کا مطالعہ کیا اور پودوں کے کئی خاندانوں کی سائنسی درجہ بندی پر دوبارہ کام کیا۔

جانکی کی زندگی پر برسوں تک تحقیق کرنے والی تاریخ دان ڈاکٹر ساوتری پرتیبھا نائر کہتی ہیں کہ ’جانکی صرف ایک سائٹوجنیٹیسسٹ (خلوی جینیات کی ماہر) نہیں بلکہ وہ ایک فیلڈ بائیولوجسٹ (ماہر علم حیاتیات)، ایک پلانٹ جیوگرافر، ایک ماہر نباتات، ایک تجرباتی بریڈر اور ایک نسلی نباتات کی ماہر کے ساتھ کم از کم ایک ایکسپلورر بھی تھیں۔‘

ڈاکٹر نائر کا کہنا ہے کہ جس وقت جانکی اپنی تحقیق کر رہی تھیں اس وقت ایک بھی ہندوستانی مرد جینیات دان کا نام بتانا مشکل ہے جس نے اپنی تحقیق میں اس طرح کے کراس ڈسپلنری طریقہ کار کو اپنایا ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے 1930 کی دہائی کے اوائل میں ہی حیاتیاتی تنوع کے بارے میں بات کرنا شروع کردیا تھا۔‘

جانکی نے ایک تحریک اور ترغیب دینے والی زندگی گزاری۔ لیکن کئی دہائیوں تک ان کے کام کو بہت حد تک نہ سراہا جا سکا اور سائنس میں ان کے تعاون کو بمشکل ہی تسلیم کیا گیا۔

لیکن رواں سال جو کہ جانکی کی پیدائش کا 125 واں سال ہے ڈاکٹر نائر ان پر ایک مربوط سوانح لے کر سامنے آئی ہیں اور انھیں امید ہے کہ اس سے اس رجحان میں تبدیلی رونما ہو گی۔ اس کتاب کا عنوان 'کروموزوم وومن، نومیڈ سائنٹسٹ: ای۔ کے۔ جانکی امل، اے لائف 1984-1897 ہے۔ یہ کتاب نومبر کے اوائل میں ریلیز کی گئی ہے اور یہ ڈاکٹر نائر کی 16 برسوں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر نائر کا کہنا ہے کہ یہ سائنس کے شعبے میں ہندوستانی خواتین کے بارے میں کہانیوں کی بازیافت کے 'ایک عظیم منصوبے' کا آغاز بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'اب تک، خواتین سائنسدانوں سے متعلق شائع شدہ ذرائع نے یورپ اور شمالی امریکہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان میں ایشیا اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والی خواتین 'شاید ہی کہیں نظر آتی ہیں۔'

ایک غیر معمولی زندگی

اگرچہ جانکی کی پیشہ ورانہ کامیابیاں بے شمار تھیں، لیکن ان کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ جس طرح انھوں نے اپنی زندگی گزاری وہ بھی متاثر کن تھی۔

مصنف اور جانکی کی نواسی گیتا ڈاکٹر کہتی ہیں کہ 'وہ انسانی امکانات پر پلی بڑھیں۔ وہ ہر چیز کے بارے میں پرجوش رہتی تھیں، مکمل طور پر آزاد اور ہمیشہ اپنے کام میں مگن رہتی تھیں۔'

جانکی سنہ 1897 میں جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کے ٹیلچیری (اب تھلاسری) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ای کے کرشنن مدراس پریذیڈنسی کے ہائی کورٹ میں ذیلی جج تھے جو کہ برطانوی ہندوستان میں ایک ذیلی انتظامی ڈویژن تھا۔

وہ کھاتے پیتے ایک بڑے خاندان میں پلی بڑھیں۔ ان کا خاندان ایڈم نامی گھر میں رہتا تھا۔ مز ڈاکٹر کہتی ہیں کہ یہ گھر 'جانکی کی زندگی کا مرکز' تھا۔

دو منزلہ گھر میں ایک شاندار پیانو، ایک وسیع و عریض لائبریری اور کشادہ ہال تھے، اس کی بڑی بڑی کھڑکیوں سے ایک مزین باغیچے دیکھا جا سکتا تھا۔

جانکی کا تعلق کیرالہ کی تھییا برادری سے تھا جو ہندو ذات پات کے نظام کے تحت سماجی طور پر پسماندہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن ان کی نواسی مس ڈاکٹر کہتی ہیں کہ ایڈم ہاؤس میں جانکی کی زندگی کسی قسم کے تعصبانہ رویے سے دور تھی۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں اپنی زندگی میں ذات پات کے امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اس کے باوجود ان باتوں نے انھیں آگے بڑھنے سے نہیں روکا۔

'اگر کوئی انھیں ناراض کرتا تو وہ آگے بڑھ جاتیں۔'

شیریں پہلو

سکول سے فارغ ہونے کے بعد جانکی اعلیٰ تعلیم کے لیے مدراس (اب چنئی) چلی گئیں۔

سنہ 1924 میں جب وہ خواتین کے ایک کالج میں پڑھا رہی تھیں تو انھیں امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی سے ایک باوقار سکالرشپ ملی۔

آٹھ سال بعد وہ ہندوستان کی پہلی خاتون بن گئیں جنھیں بوٹینیکل (نباتاتی) سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔

اس کے بعد وہ ہندوستان واپس آگئیں اور اپنی آبائی ریاست میں نباتات کی تعلیم دینے لگیں پھر اس کے بعد وہ کوئمبٹور میں گنے کی افزائش کے سٹیشن میں شامل ہو گئیں۔

یہیں پر جانکی نے گنے کی کراس بریڈنگ اور دوسرے پودوں کے ساتھ مل کر اس فصل کی ایک اعلیٰ پیداوار دینے والی قسم تیار کرنے پر کام کیا جو ہندوستان میں پھل پھول سکتی تھی۔

ڈاکٹر نائر کا کہنا ہے کہ وہ گنے اور مکئی کو کامیابی کے ساتھ کراس بریڈ کرانے والی پہلی شخص تھیں۔ ان کے اس عمل سے گنے کی ابتدا اور ارتقاء کو سمجھنے میں مدد ملی۔

مورخ کا مزید کہنا ہے کہ انھوں نے ایک خاص ہائبرڈ تیار کی جس سے انسٹی ٹیوٹ کے لیے بہت سی تجارتی کراس بریڈ (دوغلی نسل کی بیج) ہوئیں لیکن انھیں اس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

نوآبادیاتی ہندوستان میں اشتہارات نے خواتین کو صابن اور گولیاں کیسے فروخت کیں؟

کیرالہ: ماہواری کے درد پر انڈین مرد چیخ کیوں رہے ہیں؟

انڈیا میں ہر سال ہزاروں گھریلو خواتین خودکشی پر مجبور کیوں ہو رہی ہیں؟

انیرا کبیر: انڈیا کی وہ ٹرانسجینڈر خاتون جن کی موت کی درخواست نے سب کو ہلا دیا

1940 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد جانکی لندن چلی گئیں اور اپنی تحقیق جاری رکھنے کے لیے جان آئنیس ہارٹیکلچرل انسٹی ٹیوشن میں شمولیت اختیار کر لی۔

اگلے چند سال ان کے کریئر کے سب سے اہم سال تھے۔ پانچ سال بعد وہ پہلی خاتون سائنسدان بن گئیں جو وِزلے کے رائل ہارٹیکلچرل سوسائٹی گارڈن میں ملازم ہوئیں۔

یہ ان کے لیے مشکلات اور سخت محنت کا بھی وقت تھا کیونکہ برطانیہ کو جنگ کا سامنا تھا اور اشیائے خوردونوش کو بھاری مقدار میں راشن کیا جا رہا تھا۔

ان کی نواسی مس ڈاکٹر کہتی ہیں: 'لیکن جانکی پریشان نہیں تھیں۔ جب بم گرتے تھے، تو وہ صرف میز کے نیچے گھس جاتی تھیں یا بستر کے نیچے سوتی تھیں۔ اور یہ سب روز کا کام تھا۔'

وہ کہتی ہیں کہ یہ رویہ ان کی ذاتی زندگی تک پھیلا ہوا تھا۔

'[ان کے خاندان کے بچے] ان کے برابر تھے اور وہ توقع کرتی تھی کہ ہم ان کے سخت طریقوں کو برقرار رکھیں۔'

لیکن ان کی شخصیت کا ایک شیریں پہلو بھی تھا۔

مس ڈاکٹر یاد کرتی ہیں کہ ان کی نانی نے انھیں حیرت انگیز کتابیں دیں اور انھیں پکنک پر لے جاتی تھیں۔

ان کے پاس سنانے کے لیے ہمیشہ کہانیاں رہتی تھیں۔ وہ کپوک کے بارے میں بتاتیں جو کہ ایک چھوٹی سی سیاہ دھاری والی گلہری تھی جسے وہ اپنے ساتھ چپکے سے لندن لے آئی تھیں تاکہ وہ ان کی ہمدم ہو۔ اور ان کی گڑیا ٹموتھی بھی تھی جو (ان کے گھر) ایڈم میں سب کو اچھی لگتی تھی۔'

مس ڈاکٹر کو ان یادوں کی تاریخیں یاد نہیں۔ ان کے خیال میں ماضی صرف ماضی ہوتا ہے۔ لیکن وہ جانکی کی مضبوط شخصیت اور حاکمانہ موجودگی کو واضح طور پر یاد کرتی ہیں۔ ان کی چمکدار پیلی ساڑھیاں اور ان کی 'مضبوط لیکن لطیف' طرز زندگی۔

وہ کہتی ہیں: 'انھوں نے چھوٹی چھوٹی چيزوں اور بڑی چیزوں کے ساتھ زندگی کا لطف اٹھایا، لیکن ایک سخت سائنسی ذہن کے ساتھ۔'

ڈاکٹر نایر کا کہنا ہے کہ یہ انداز ان کے کام میں بھی واضح نظر آتا تھا جو کسی ایک اہم دریافت کے بارے میں نہیں تھا بلکہ چھوٹے پیمانے پر دریافتوں کا ایک سلسلہ تھا جس نے 'انسانی ارتقاء کی عظیم تاریخ' میں اپنا حصہ ڈالا۔

ڈاکٹر نایر نے کہا: 'انھوں نے جو سوالات اٹھائے وہ پودوں اور انسانوں کے بارے میں بنیادی سوالات تھے۔'

وطن واپسی

1951 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے جانکی سے کہا کہ وہ ملک واپس آئیں اور بوٹینیکل سروے آف انڈیا (BSI) کی تنظیم نو میں مدد کریں۔

جانکی، جو مہاتما گاندھی کی تعلیمات سے بہت متاثر تھیں، فوراً چلی آئیں۔

ڈاکٹر نایر کہتی ہیں کہ 'لیکن ان کے مرد ساتھیوں نے ایک عورت سے حکم لینے سے انکار کر دیا اور BSI کو دوبارہ منظم کرنے کی ان کی کوششوں کو ٹھکرا دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جانکی کو کبھی بھی انسٹی ٹیوٹ میں مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا۔

اس کی وجہ سے انھیں بہت تکلیف ہوئی اور وہ اس سے مکمل طور پر کبھی بھی ٹھیک نہ ہو سکیں۔ چنانچہ انھوں نے نئے پودوں کی تلاش میں ملک کا دورہ کرنا شروع کر دیا۔

ڈاکٹر نایر کا کہنا ہے کہ 1948 میں جانکی نیپال میں پودوں کی تلاش کی مہم پر جانے والی پہلی خاتون بن گئی، جو کہ ان کے مطابق، نباتاتی لحاظ سے ایشیا کی سب سے منفرد مہم کا ایک حصہ تھا۔

جب وہ 80 سال کی تھیں تو ہندوستانی حکومت نے انھیں ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک پدما شری سے نوازا۔ اس کے سات سال بعد سنہ 1984 میں ان کی وفات ہو گئی۔

ان کی نواسی مس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگرچہ جانکی کو وہ پہچان نہیں ملی جس کی وہ حقدار تھی، لیکن انھوں نے زندگی کا مطالعہ کرنے کا اپنا شوق کبھی نہیں کھویا۔

'وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ 'میرا کام زندہ رہے گا' - اور ایسا ہی ہوا۔'

ڈاکٹر نایر اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

'جانکی کی زندگی فکری دیانتداری کا ایک روشن عہد نامہ ہے۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More