انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے شیف عمر مزیان کون ہیں اور ٹیم انھیں اپنے ساتھ کیوں لائی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Nov 24, 2022

پاکستان میں کرکٹ کے حلقوں میں یہ خبر دلچسپی کے ساتھ پڑھی اور سنی گئی کہ پاکستان کے دورے پر آنے والی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اپنے ساتھ  شیف بھی لا رہی ہے جن کا نام عمر مزیان ہے جو اس دورے کے دوران کھلاڑیوں کے کھانے پینے کے معاملات کی نگرانی کریں گے۔  

لوگوں کی دلچسپی اس بات میں بھی ہے کہ عمر مزیان کون ہیں اور ان کا کھیلوں کی دنیا سے کیا تعلق ہے؟ 

پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انگلینڈ کو اپنے ساتھ شیف لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ 

اس سوال کا جواب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے گذشتہ دورۂ پاکستان کے موقع پر کپتان معین علی کی لاہور میں پریس کانفرنس سے مل جاتا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ کھانے کے معاملے میں کراچی اچھا تھا لیکن لاہور میں وہ کھانے کے معیار سے مایوس ہوئے۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کے دورے سے واپس جانے کے بعد انگلینڈ کے کچھ کھلاڑیوں نے کھانے کے معیار کے بارے میں شکایت کی تھی جس کے بعد اب پاکستان آنے والی ٹیسٹ ٹیم کے سٹاف میں ایک شیف کی شمولیت بھی عمل میں آئی ہے حالانکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے اُس دورے کے دوران کسی بھی کھلاڑی کے بیمار ہونے یا پیٹ خراب ہونے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی تھی۔

عام طور پر غیرملکی دوروں پر ٹیموں کی کیٹرنگ کی ذمہ داری میزبان کرکٹ بورڈ کی ہوتی ہے تاہم اس سلسلے میں ان ٹیموں کی پسند کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ کھلاڑی کس طرح کا کھانا چاہتے ہیں۔

غیرملکی ٹیمیں جن ہوٹلوں میں قیام کرتی ہیں وہاں بھی ان کی پسند اور ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ غیر ملکی دوروں میں مسلمان کرکٹرز کی موجودگی میں حلال گوشت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

شیف عمر مزیان کون ہیں؟

عمر مزیان کا تعلق مراکش سے ہے۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے کوکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اُنھیں یہ شوق اپنے والد سے ملا جن کا ایک رسٹورینٹ تھا۔ عمر مزیان کا کھیلوں کی دنیا سے تعلق 2009ء میں قائم ہوا۔ اس دوران وہ انگلینڈ کی مختلف ٹیموں سے وابستہ رہ چکے ہیں جن میں کرکٹ، رگبی، فٹبال اور روئنگ قابل ذکر ہیں۔

انگلینڈ کی فٹبال ٹیم 2018ء کے عالمی کپ اور یورو 20 فٹبال میں ان کے تیار کردہ کھانوں سے لطف اندوز ہو چکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کھیلوں کی دنیا سے اس تعلق کے باوجود عمر مزیان نے خود کوئی بھی کھیل نہیں کھیلا البتہ وہ لندن میراتھون میں دو مرتبہ حصہ لے چکے ہیں۔

عمر مزیان  نے رگبی کے مشہور کھلاڑی جیمز ہاکزیل کے ساتھ کوکنگ پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔

پہلے بھی کسی ٹیم کے ساتھ شیف آیا ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ غیر ملکی دورے میں کرکٹ ٹیم کے ساتھ شیف رہا ہو۔ اسی سال پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی آسٹریلوی ٹیم کے ساتھ بھی شیف موجود تھا لیکن اس بات کا زیادہ چرچا نہیں ہوا بلکہ آسٹریلوی کرکٹرز کافی مشین اور کافی کی بینز بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔

سنہ 2013 میں جب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ایشز سیریز کھیلنے آسٹریلیا گئی تو اس دورے میں اس کے کھانے پینے کا معاملہ انہی شیف عمر مزیان نے سنبھالا ہوا تھا۔

کرکٹرز کا باہر جا کر کھانے کا رجحان

کرکٹ کی دنیا میں یہ بات عام ہے کہ کھلاڑی جس ملک میں بھی جاتے ہیں اُنھیں اپنے پسندیدہ کھانوں کی تلاش ہوتی ہے اور وہ صرف اپنے ہوٹل یا گراؤنڈ میں مہیا کیے جانے والے کھانوں پر قناعت نہیں کرتے بلکہ ایسے ریسٹورنٹ تلاش کرتے ہیں جہاں اُنھیں پسند کا کھانا مل سکے جیسا کہ 2004ء میں انڈین کپتان سورو گنگولی سکیورٹی کی نظریں بچا کر لاہور کی فوڈ سٹریٹ جا پہنچے تھے۔

دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آسٹریلیا میں اختتام کو پہنچنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ  میں شریک کرکٹرز مختلف ریسٹورنٹس میں پسند کے کھانے کھاتے ہوئے نظر آتے تھے مثلاً پرتھ کا بالٹی ریسٹورنٹ انڈین کرکٹرز کی پسندیدہ جگہ تھی جہاں اُنھیں انڈین کھانے مل جاتے تھے۔ جب انڈین ٹیم کا پرتھ میں میچ تھا تو اس موقع پراس ریسٹورنٹ کے مالک اشوانی نوتانی نے  پورے سٹاف کو انڈین کرکٹ ٹیم کی بلیو جرسیاں پہنائی تھیں جو دیکھنے والوں کے لیے ایک خوشگوار نظارہ تھا۔

اسی طرح پاکستانی کرکٹرز بھی آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں ذائقہ دار کھانوں کے لیے پاکستانی ریسٹورنٹس کا رخ کر رہے تھے۔ 

سنہ 2015 کے عالمی کپ کے موقع پر ایڈیلیڈ میں افغان کباب اور پلاؤ پاکستانی کرکٹرز کی پسندیدہ خوراک تھے اور وہ ہائنڈلے اسٹریٹ کے اس ریسٹورنٹ کا باقاعدگی سے رخ کیا کرتے تھے جہاں یہ کھانے دستیاب تھے۔

مشہور کھلاڑیوں کے ذاتی شیف

اس بات پر کسی کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کے کئی مشہور کھلاڑیوں نے اپنے کھانے پینے کے معاملات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے اپنے ساتھ ذاتی شیف رکھے ہیں ان میں بڑی تعداد فٹبالرز کی رہی ہے۔

لیونل میسی، ہیری کین، کرسٹیانو رونالڈو، زلیٹن ابراہمووچ اور کیون ڈی برائن پرائیویٹ شیف کی خدمات حاصل کرنے کے معاملے میں نمایاں رہے ہیں۔

ویلز کے گیرتھ بیل کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار ریال میڈرڈ کی طرف سے کھیلنے سپین گئے تو اُنھیں وہاں خود کو ایڈجسٹ کرنے میں اپنے ذاتی شیف سے بڑی مدد ملی۔

پال پوگبا جب پہلی بار مانچسٹر یونائیٹڈ میں گئے تو ایک اطالوی خاتون شیف کو ساتھ لے گئے تھے جنھوں نے پوگبا کو کھانا پکانا بھی سکھایا۔

فٹبال کی دنیا میں جس شیف کا سب سے زیادہ نام سننے کو ملتا ہے وہ جانی مارش ہیں۔ مانچسٹر سٹی کے بیشتر کھلاڑی ان کے تیار کردہ کھانوں کے مداح رہے ہیں۔

گوگو کا مدراس کری ریسٹورنٹ

انڈین ٹیم کے 2008 میں دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر دونوں ٹیموں کے درمیان تعلقات خاصے ناخوشگوار ہو گئے تھے اور جب دونوں ٹیمیں پرتھ پہنچیں تو پتہ چلا کہ دونوں ایک ہی وقت میں گوگو کے ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے پہنچ گئی تھیں۔ 

گوگو کا اصل نام گووردھن گوویندا راج ہے جن کا پرتھ میں مدراس کری کے نام سے دو کمروں کا مختصر ریسٹورنٹ تھا جو اب بند ہوچکا ہے۔ 

گوگو پریشان تھے کہ ایک کمرے میں آسٹریلوی کرکٹرز موجود تھے اور دوسرے میں انڈین ٹیم کھانے کی منتظر تھی۔ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کر رہی تھیں۔ گوگو نےیہ صورتحال دیکھ کر اپنے دوست جسٹن لینگر کو فوری طور پر بلایا جو اس وقت ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ جسٹن لینگر نے اس موقع پر جیسے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے انڈین کرکٹرز سے باتیں شروع کر دیں اور ماحول کو خوشگوار بنا دیا۔

BBC

گوگو نے 1999 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بھی پرتھ ٹیسٹ کے موقع پر کھانا تیار کیا تھا۔ رمضان کی وجہ سے کھلاڑی سارا دن روزے سے تھے اور اُنھیں افطار کے بعد اچھے کھانے کی تلاش تھی۔ اس موقع پر ویسٹرن آسٹریلین کرکٹ ایسوسی ایشن نے گوگو کو طلب کر کے ان سے کھانا تیار کروایا تھا۔

گوگو کے پاس کئی کرکٹرز کے دیے ہوئے تحفے موجود ہیں جن میں وسیم اکرم کی کیپ جو اُنھوں نے آخری ٹیسٹ میں پہنی تھی، سچن تندولکر کا بیٹ، وہ گیند جس سے انیل کمبلے نے چھ سوویں وکٹ حاصل کی اور محمد یوسف کی آٹوگراف والی شرٹ قابل ذکر ہیں۔

گوگو کی کہانی بھی عجیب ہے۔ انجینیئرنگ کی پڑھائی چھوڑی اور ہوٹل منیجمنٹ کی تعلیم حاصل کر لی۔ ان کے لیے انڈین کرکٹرز کے لیے کھانا تیار کرنا ہمیشہ چیلنج تھا کیونکہ گوشت سے پرہیز کرنے والے یہ کرکٹرز آتے ہی آواز لگاتے تھے ’گوگو دال چاول۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More