’بُھلا دیے گئے افغانوں‘ کی کہانیوں پر مبنی دو نئی دستاویزی فلمیں

اردو نیوز  |  Dec 01, 2022

ایسے حالات میں کہ جب دنیا کی توجہ یوکرین کی جانب مبذول ہیں، افغانستان سے متعلق دو نئی دستاویزی فلمیں منظرِعام پر آئی ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان فلموں میں امریکی اںخلاء کے بعد افغانستان کی صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔

فلم ’ریٹرو گریڈ‘ نیٹ جیو جبکہ ’اِن ہَر ہینڈز‘ نیٹ فِلکس کی پروڈکشن ہے۔ 

’ریٹروگریڈ‘ کی کہانی ایک امریکی جنرل کے گرد گھومتی ہے جو 2021 میں افغان طالبان کو روکنے میں ناکام رہے۔ 

فلم ریٹرو گریڈ کے ڈائریکٹر میتھیو ہائنمین کا کہنا ہے کہ ’ہم اس کہانی کو بھُلا چکے ہیں۔۔۔ ہم نے آخری بار کب افغانستان پر بات چیت کی اور یا اس کے بارے میں کوئی آرٹیکل پڑھا؟‘

دوسری فلم ’اِن ہَر ہینڈز‘ کی کہانی افغانستان کی سب سے کم عمر خاتون میئر سے متعلق ہے جسے افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔ 

نیٹ فلِکس کی فلم ’اِن ہَر ہینڈز‘ سے نمایاں ہونے والی افغانستان کی کم عمر ترین خاتون میئر ظریفہ غفاری کا اے ایف پی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ’آج کی دنیا میں واحد ملک افغانستان ہے جہاں عورت اپنا جسم، اپنے بچے اور اپنی ہر چیز بیچ سکتی ہے لیکن صرف اسے سکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘ 

’لیکن بین الاقوامی اجلاسوں کی بحثوں میں افغانستان کے اس پہلو کا کوئی ذکر نہیں۔‘ 

خیال رہے کہ ملک چھوڑنے سے قبل ظریفہ غفاری پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کے والد طالبان کی گولی کا نشانہ بنے تھے۔

دوسری فلم ’اِن ہَر ہینڈز‘ کی کہانی افغانستان کی سب سے کم عمر خاتون میئر سے متعلق ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)’میں اب بھی اپنا رونا نہیں روک پا رہی‘ملک چھوڑنے کے بعد اس لمحے کا ذکر کرتے ہوئے ظریفہ غفاری کا کہنا تھا کہ ’میں اب بھی اپنا رونا نہیں روک پا رہی۔ میں اپنا وطن کبھی بھی چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔‘ 

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری کچھ ذاتی ذمہ داریاں تھیں بالخصوص والد کے انتقال کے بعد اپنے خاندان کا تحفظ۔‘ 

فلم ’اِن ہَر ہینڈز‘ کے ہدایت کار نے ظریفہ غفاری کے ڈرائیور کو فلمانے کے لیے افغانستان کا سفر کیا جو کہ اب بے روزگار ہیں اور طالبان کے ماتحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 

فلم کی کہانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ظریفہ غفاری کا کہنا تھا کہ ’معصوم (ڈرائیور) کی کہانی افغانستان کے تمام بحرانوں کی کہانی ہے اور جانے کیوں لوگ خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔‘ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More