کیا فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد رونالڈو اور میسی کلب بدلنے والے ہیں؟

اردو نیوز  |  Dec 02, 2022

قطر میں جاری فیفا فٹ بال ورلڈ کپ اپنے پہلے راؤنڈ کے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور 14 ٹیمیں اب تک راؤنڈ آف 16 تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔

فٹ بال ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 میں پہنچنے والی ٹیموں میں کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال، لیونل میسی کی ارجنٹائن، فرانس، نیدرلینڈز، انگلینڈ، امریکہ، برازیل، پولینڈ، مراکش، آسٹریلیا، کروشیا، جاپان، سینیگال اور سپین شامل ہیں۔

جہاں فٹ بال کی دنیا میں جرمنی اور بیلجیئم جیسی ٹیموں کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے چرچے ہیں وہیں اس میگا ایونٹ کے باہر بھی کچھ کھلاڑیوں کی فٹ بال کلب تبدیل کرنے کی خبریں چل رہی ہیں۔

پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے رواں مہینے ’باہمی معاہدے‘ کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کو خیرباد کہہ دیا ہے اور ان کے حوالے سے عرب میڈیا سمیت دنیا بھر کے میڈیا میں یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ انہیں اپنی ٹیم میں لینے کے لیے سعودی عرب کے دو فٹ بال کلب ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

کچھ دنوں پہلے سعودی اخبار الشرق الأوسط نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کے النصر فٹ بال کلب نے کرسٹیانو رونالڈو کو تین سالہ کنٹریکٹ کی پیش کش کی ہے جس کی مالیت 224 ملین ڈالرز ہے۔

اب متعدد میڈیا آؤٹ لیٹس یہ بھی رپورٹ کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کا ایک اور فٹ بال کلب الحلال بھی پرتگالی کپتان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہے۔

اس کے علاوہ ارجنٹائن کے لیونل میسی کا بھی فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمن کے ساتھ دو سالہ معاہدہ اس سال ختم ہوجائے گا اور ایسی اطلاعات فٹ بال کے حلقوں میں چل رہی ہیں کہ شاید وہ واپس ہسپانوی کلب بارسلونا کی طرف کوچ کر جائیں۔

لیکن فٹ بال کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ گول کے مطابق فرانسیسی کلب پیرس سینٹ جرمن میسی کو ایک نیا دو سالہ معاہدے دینے کا خواہش مند ہے کیونکہ ارجنٹائن کے سٹار کھلاڑی نے ٹیم کو لیگ 1 کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس کے علاوہ گول کا دعویٰ ہے کہ میسی کی واپس بارسلونا یا امریکہ کلب انٹر میامی جانے کی خبروں میں صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ ارجنٹائن کے کھلاڑی اور دونوں کلبز کی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More