پاکستان سمیت کئی ممالک میں کنوارپن کے ٹیسٹ پر پابندی تو لگی مگر کیا سوچ بھی بدلی؟

بی بی سی اردو  |  Apr 22, 2024

’کیا میں کنواری ہوں؟‘ انٹرنیٹ پر اجنبی نے عبیر سراس کے ان باکس میں پوچھا۔ سراس کو اس سوال کے بعد یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کو وہ کیسے اس سوال کا جواب دیں۔

اُن کے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی نے انھیں ایک پیغام کے ساتھ ایک تصویر بھیجی جسے انھوں نے ’وجائنا سیلفی‘ کا نام دیا۔

اُس وقت سراس ’لو میٹرز‘ عربی فیس بک پیج پر ایڈمن تھیں جو سوشل میڈیا پر عربی میں رشتوں اور جنسی تعلیم فراہم کرتا ہے۔

سراس بتاتی ہیں کہ پیغام بھیجنے والی خاتون نے اُن سے کہا کہ پہلے ایک قریبی تعلق یا ریلشن شپ میں تھیں اور اب وہ منگنی کر رہی ہے لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ کنواری ہوں۔

یہ بتاتے ہوئے وہ (سارس) کُچھ وقت کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں، ایک لمحے کو مسکراتی ہیں پھر کہتی ہیں کہ ’مجھے اس لفظ ’مفتوحہ‘ سے نفرت ہے۔ انھوں (تصویر بھیجنے والی خاتون) نے پوچھا کہ کیا وہ ایسی ہیں، کہ کیا اسے ’کھولا‘ گیا ہے؟‘

وہ اجنبی دراصل یہ پوچھ رہی تھیں کہ کیا سراس اس کے ہائمن یا پردۂ بِکارت (کنوارپن کی جھلی) کو دیکھ سکتی ہے اور انھیں بتا سکتی ہیں کہ کیا یہ ’برقرار‘ ہے یا اسے کوئی نقصان تو نہیں پہنچا ہے، کیونکہ ان کی برادری میں شادی کے وقت کنوارے ہونے کا دباؤ بہت زیادہ تھا اور ان کے شوہر کے لیے یہ خون کی شکل میں واضح طور پر دیکھنا اس بات کی گواہی تھی کہ وہ کنواری تھیں۔

یہ عقیدہ یا فرسودہ سوچ کہ ہائمن (کنوارپن کی جھلی) جنسی تاریخ کا جسمانی ’ثبوت‘ فراہم کرتی ہے، کنوارپن کی جانچ کی بنیاد ہے، جس کی عالمی ادارۂ صحت نے 2018 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر مذمت کی تھی۔ اس طرح کے ٹیسٹ مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ہر چیز کے جسمانی معائنے سے لے کر شادی کی رات کی رسومات تک جہاں خون سے لت پت بیڈ شیٹ ظاہر ہونے کی توقع کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ دولہا اور دلہن کے اہل خانہ کو بھی دکھایا جاتا ہے۔

اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہ ہونے کے باوجود اور کنوارپن بذاتِ خود ایک ایسا سماجی روّیہ اور سوچ ہے کہ جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک عورت کی جنسی تعلقات کی تاریخ کسی نہ کسی طرح اس کی جسمانی ساخت سے جُڑی ہوئی ہوتی ہے اور یہ کہ تمام خواتین پہلی بار جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد خون میں لت پت ہو جاتی ہیں۔ یقیناً ان میں سے کُچھ بھی سچ نہیں، پھر بھی اس طرح کے عقائد دنیا بھر کی زبانوں، مذاہب اور برادریوں میں آج کے اس جدید دور میں بھی پائے جاتے ہیں۔

میں نے اپنی کتاب ’لوزنگ اٹ‘ میں ہائمن (کنوارپن کی جھلی) سے متعلق افسانے کی ایک قسم کی کارٹوگرافی بنانے کی کوشش کی ہے جس میں سراس جیسے لوگ اس کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات کا خاکہ پیش کرتے ہیں، کہاں اور کس کے ذریعے ان عقائد کی تائید کی جاتی ہے، اور کیا اس سب کے پیچھے سائنسی تحقیق کی کمی ہے۔

میں نے بہت ساری سائنسی تحقیق کو اس افسانے کو دور یا رد کرتے ہوئے پایا۔ لیکن میں نے ایک ایسی دنیا بھی دریافت کی جہاں کچھ ڈاکٹر اس خیال کی حمایت بھی کرتے ہیں، بہت سے قانون ساز ادارے اس کی حمایت کرتے ہیں، اور جہاں دنیا بھر میں جنسی تعلیم میں ہائمن (کنوارپن کی جھلی) کے بارے میں درست معلومات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

ہائمن ایک چھوٹا، جھلی دار ٹشو ہے جو وجائنا کے قریب پایا جاتا ہے۔ یہ واقعی بہت ناقابل یقین ہے کہ بظاہر بے مقصد ٹشو کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو حقائق سے بہت دور لے جایا گیا ہے اور حقیقت سے ہٹ کر اس سے بہت سی غلط اور بے مقصد باتیں منسوب کی گئی ہیں۔

سائنسدانوں کے درمیان سب سے پہلے تو اس بارے میں بحث ہوئی کہ ہائمن ہے ہی کیوں۔ کیا یہ اس وقت کی باقیات میں سے تو کُچھ نہیں کہ جب ہمارے قدیم ممالیہ جانوروں نے پانی سے نکل کر زمین کا رخ کیا؟ واقعی کوئی نہیں جانتا۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ دیگر انواع میں ٹشو کا زیادہ مقصد ہوتا ہے، مثال کے طور پر گِنی پِگ کے ہائمنز ’میٹنگ سیزن یا ہیٹ‘ میں جانے پر تحلیل ہوجاتے ہیں اور پھر ختم ہونے پر دوبارہ بڑھتے ہیں۔ لیکن ہمارے یعنی انسانوں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

ہائمنز مختلف ہوسکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت کم لوگوں نے کبھی اس طرح کا ڈایاگرام دیکھا ہوگا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح نظر آسکتے ہیں۔

بہت سے لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہائمین وجائنا پر مہر لگا دیتا ہے، اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ایک عورت حیض کے قابل نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے زیادہ تر ہائمنز کی ایک ہلال کی شکل ہوتی ہے۔

ہم میں سے بہت کم لوگوں کو بتایا گیا ہوگا کہ یہ عمر کے ساتھ تبدیل ہوسکتا ہے، یا یہ کہ جب تک ہم جنسی پختگی میں داخل ہوتے ہیں تو یہ مکمل طور پر غائب ہوسکتا ہے۔ یا یہ کہ ورزش سے لے کر مشت زنی سے لے کر جنسی تعلقات تک، مختلف قسم کی سرگرمیاں اسے متاثر کر سکتی ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس خیال میں کوئی صداقت ہے کہ آپ ہائمن کی جانچ کے بعد یا اس کے ذریعے جنسی سرگرمی کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر 2004 میں شائع ہونے والی 36 حاملہ نوعمر لڑکیوں کے ایک چھوٹے سے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ طبی عملہ صرف دو معاملات میں ’اس پردے کو عبور کرنے کے حتمی نتائج‘ دینے کے قابل تھا۔

سنہ 2004 کے ایک اور مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ جنسی طور پر سرگرم نوعمر لڑکیوں میں سے 52 فیصد میں ’ہائمینل ٹشو میں کوئی قابل شناخت تبدیلی نہیں تھی۔‘

ایک بائنری خیال کہ یا تو ہم جنسی طور پر فعال ہیں اور کوئی ظاہری ہائمن نہیں ہے، یا یہ کہ ہم جنسی طور پر فعال نہیں ہیں اور ہمارے پاس ہائمن ہے بالکل درست نہیں ہے۔

بیڈ شیٹ پر خون، دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کنوارپن ٹیسٹ کی ایک قسم ہے یہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر یہ عمل اچانک ہوتا ہے یا اگر آپ ریلیکس نہیں تو کچھ ہائمنز کو پہلی بار چھیڑے جانے سے خون بہہ سکتا ہے، لیکن کسی بھی خون کا بہنا جنسی تعلقات میں زبردستی، مرضی کا نہ ہونا یا وجائنہ پر لُبریکیشن یا چکنائی کی کمی کی وجہ سے زیادہ ہوتا ہے۔

پہلی بار جنسی تعلق سے خون بہنا ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی جنسی تعلق سے خون بہہ سکتا ہے یا ایسا نہیں ہوتا۔ جنسی تعلقات کے دوران خون بہنے کی وجوہات میں پریشان ہونا، مکمل طور پر متحرک یا اس عمل کے لیے تیار نہ ہونا یا انفیکشن جیسی چیزوں سے کچھ اضطراب کا سامنا کرنا شامل ہے۔

لیکن ان ممالک میں جو کنوارپن کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور خواتین کی جنسی معاملات پر زبردستی قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں، اس حیاتیاتی باریکی کے لیے بہت کم جگہ ہے۔ ترکی کی ڈکل یونیورسٹی میں 2011 میں کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ 72.1 فیصد طالبات اور 74.2 فیصد مردوں کا خیال تھا کہ ہائمن کنوارپن کی علامت ہے۔‘ 30.1 فیصد مردوں نے کہا کہ شادی کے دن ’خون سے رنگی بیڈ شیٹ‘ خاندان کو دکھائی جانی چاہیے۔

اس سے خواتین کی مثبت جنسی صحت تک رسائی کی صلاحیت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ مصر کے شہر گیزا میں ہونے والی ایک سماجی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر خواتین کواپنی شادی کی رات سے پہلے بے چینی اور خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کنوارپن اور ہائمن کے بارے میں خیالات کی وجہ سے درد اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سنہ 2013 میں یونیورسٹی کے طالب علموں پر کیے گئے ایک لبنانی سروے میں، تقریبا 43 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم نہیں کریں گی کیونکہ وہ اس خوف سے کہ ان کی شادی کی رات خون نہ نکلا تو کیا ہوگا۔ لبنان میں 2017 میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کے مطابق 416 خواتین کا انٹرویو کیا گیا جن میں سے 40 فیصد نے بتایا کہ وہ شادی کے لیے اپنے ہائمین کی حفاظت کے لیے اورل سیکس کرتی ہیں۔

اپنی تحقیق میں، میں نے خواتین کی بے شمار آن لائن پوسٹس کو دیکھا جو خوف زدہ تھیں کہ مشت زنی کرنے کی وجہ سے وہ اپنی ہائمین کھو چکی ہیں، یا واضح طور پر خود کو چھونے سے اتنی ڈرتی ہیں کہ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

یہ افسانہ نہ صرف خواتین کی جنسی صحت اور مساوات کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ ان کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں عدالتی مقدمات میں ریپ سے بچ جانے والوں کے کنوارپن ٹیسٹ پر پابندی عائد کی ہے۔ بہت سے ممالک، خاص طور پر ایشیا، مشرق وسطی اور شمالی اور جنوبی افریقہ میں اب بھی انھیں انجام دیا جاتا ہے۔

اور دنیا بھر میں بہت سے ڈاکٹر ان خواتین کے لیے سرجری کے طور پر انتہائی منافع بخش ہائمن کی بحالی پیش کرتے ہیں جنھوں نے شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کیے ہیں اور دریافت ہونے پر نتائج سے ڈرتے ہیں۔ جب میں نے اپنی کتاب لکھی، سیاستدانوں نے برطانیہ میں اس طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کرنے سے ایک سال پہلے، جنوری 2022 میں، میں نے لندن کے ایک سرجن کو کنوارپن ٹیسٹ کے بارے میں ای میل کیا۔

ان کے اسسٹنٹ نے مجھے بتایا کہ اگر میرے پاس 300 پاؤنڈ (390 ڈالر) کی کنسلٹیشن کے بعد مجھے ایک میڈیکل رپورٹ مل جائے گی جس میں اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ میری ہائمن موجود ہے۔ اگر میں نے ایسا نہیں کیا، تو 5،400 پاؤنڈ (7،000 ڈالر) ہائمن کی بحالی یا مرمت کی سرجری میرا انتظار کر رہی تھی، جس کے بعد مجھے اسی میڈیکل رپورٹ کے ساتھ سب اچھے کی رپورٹ دے دی جائے گی۔

چونکہ برطانیہ میں ہائمن کی مرمت یا بحالی پر پابندی لگانے والا قانون پارلیمنٹ کے ذریعے کام کرتا ہے، یہ واضح ہے کہ کچھ سرجن اب بھی اس پر کام کر رہے ہیں اور اب بھی برطانیہ کی سرزمین پر خدمات پیش کر رہے ہیں۔ لندن کے ایک سرجن کا کہنا ہے کہ ہائمن کی مرمت ان خواتین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جنھیں جنسی تعلقات یا سخت جسمانی سرگرمیوں کی وجہ سے جنسی نقصان پہنچا ہو۔

دنیا بھر میں کلینکس کی ویب سائٹس پر بھی جھوٹ پھلتے پھولتے ہیں۔ ایک لبنانی سرجن کا کہنا ہے کہ ’مریض کو اس کا کنوارپن واپس دینے کے لیے ہیمینوپلاسٹی کی جاتی ہے۔ نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ 'ہیمینوپلاسٹی ہیمن کو اس کی اصل یعنی ’کنواری ہونے‘ کی حالت میں بحال کرنا ہے۔‘

تو آپ ہمن افسانے کو کیسے ختم کرتے ہیں؟ اس تحقیق میں سے کچھ کی طرف توجہ مبذول کرانا ایک آغاز ہوگا، جیسا کہ قانونی طریقوں کو تبدیل کرنا جو کنوارپن کے ٹیسٹ کی توثیق کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کو لوگوں کو گمراہ کرنے سے روکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے خیالات نہ صرف نسلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ان خیالات کی حمایت کرتے ہیں جو ضروری طور پر سائنس کی باتوں کی ضرورت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اگر آپ کنوارپن کے ثقافتی تصور پر یقین رکھتے ہیں، اور اس کے پیچھے صنفی عدم مساوات کی حمایت کرتے ہیں، تو آپ کو اس کے برعکس سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے تبدیلی واقع ہوسکتی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس افسانے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہائمن کا نام مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ عربی اور چیک سمیت بہت سی زبانوں کو لفظی طور پر ’کنوارپن کی جھلی‘ کا نام دیا گیا ہے یہ ایک اچھا خیال لگتا ہے۔

درحقیقت، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہائمن کا نام تبدیل کرنا دراصل تصورات کو تبدیل کرنے میں کام کرسکتا ہے۔ سنہ 2009 میں سویڈش ایسوسی ایشن فار سیکسوئلٹی ایجوکیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے ’کنوارپن کی جھلی‘ کے لفظ ’موڈومینا‘ کو ’وجائنل کورونا‘ میں تبدیل کر دیں گے۔ انھوں نے اسے ہر جگہ استعمال کرنا شروع کر دیا: جنسی صحت کی خدمات، اخبارات، سویڈن کی سرکاری زبان کی منصوبہ بندی کرنے والے ادارے اور ایسوسی ایشن کے مستقبل کے تمام مواصلات کے پمفلٹ سب جگہ پر۔

تقریبا 10 سال بعد، محقق کیرن ملیز کو پتہ چلا کہ سروے میں شامل 86 فیصد صحت کے پیشہ سے منسلک افراد نے اپنے کلینک اور کلاس وزٹ میں لفظ ’وجائنل کورونا‘ کا استعمال کیا تھا اور اگرچہ صرف 22 فیصد نوجوانوں نے اس کے بارے میں سنا تھا، لیکن بہت کم لوگ روایتی طور پر پدرشاہی انداز میں ہائمن کو دیکھنے کے آثار دکھا رہے تھے۔ بہت سے لوگ جنھوں نے ضروری طور پر نیا لفظ استعمال نہیں کیا تھا وہ اب بھی ایسوسی ایشن کے پمفلٹس سے جنسی مثبت جملے استعمال کر رہے تھے۔

نئے لفظ کو جاننے والے چند لوگوں میں سے اکثریت نے موڈوم شینا کو ’ایک افسانہ‘ کے طور پر بیان کیا۔ دوسروں نے صرف اتنا کہا کہ ’یہ موجود نہیں ہے۔‘ تاہم بہت سے لوگوں نے نشاندہی کی کہ یہ خیال پرانا تھا یا کچھ ایسا تھا جس پر وہ پہلے یقین کرتے تھے۔

زبان کی تبدیلی راتوں رات نہیں ہوتی، لیکن یہ ایک آغاز ضرور ہو سکتا ہے۔ انگریزی بولنے والی دنیا میں بہت سے سیکس ایجوکیٹرز ہیں جو یہ بھی مانتے ہیں کہ ہمیں وجائنل کورونا کو بھی اپنانا چاہیے۔ ہمارا اپنا لفظ قدیم یونانی دیوتا ہیمن سے آیا ہے، جو واضح طور پر شادی کا دیوتا تھا اور جھلی کے آس پاس کی فضول باتوں نے اس کے لیے ہمارے اپنے الفاظ کو ناقابل فراموش طور پر بدنام کیا ہے۔ لیکن سویڈن کو جہاں کامیابی ملی ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے صرف لفظ کو تبدیل نہیں کیا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ انھوں نے یہ لفظ نوجوانوں اور طبی پیشہ ور افراد کو کیوں تبدیل کیا۔

چونکہ دنیا بھر کی حکومتیں کنوارپن کی جانچ اور ہائمن کی بحالی یا مرمت جیسے طریقوں پر پابندی لگانے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی لے رہی ہیں، لہذا اس بات پر غور کرنا دانشمندانہ ہوگا کہ ان کی پابندی کے پیچھے کی وجوہات کلاس رومز اور لیکچر ہال تک محدود ہیں۔ اس طرح، ہم ان خطرناک مسائل کو دوبارہ کبھی ظاہر نہیں ہونے دیں گے۔

اسی بارے میں’ہم مرد کے کنوار پن کی بات کیوں نہیں کرتے‘کنوارپن بحالی کا آپریشن: ’مجھے لگا یہی ایک طریقہ ہے جس سے میں پہلے کی طرح ہو سکتی ہوں‘کنوار پن سے جڑا صدیوں پرانا افسانہ جو لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More