پانچ تاریخی عمارتوں کی بحالی جس نے پرانے لاہور کا نقشہ بدل دیا

اردو نیوز  |  Apr 03, 2025

لاہور کو پاکستان کے ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جو مکینوں کو پھر کہیں اور جانے نہیں دیتا۔ اس شہر کی مقناطیسیت کے اظہار کے لیے کئی اقوال اور آپ بیتیاں بھی زبان زدعام ہیں۔

اس شہر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ یہاں کی سینکڑوں سال پرانی عمارتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

یہ وہ شہر ہے جس نے مغلوں کا راج دیکھا، سکھا شاہی اور پھر انگریزوں کے نوآبادیاتی نظام کو بھی محسوس کیا۔

پرانے لاہور کی عمارتوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کا کام کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

حکام پچھلے کچھ برسوں سے دہلی گیٹ، مسجد وزیر خان اور گلی سرجن سنگھ اور شاہی حمام دیکھنے والوں کو صدیوں پرانے لاہور کے اصل احساس کے قریب لے جانے کا کام کر رہے ہیں۔ تاہم اب مزید پانچ عمارتوں کی بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد لاہور کے طلسماتی حسن میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔

براڈلے ہال

لاہور کی ضلع کچہری کے عقب اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی دیو مالائی عمارت کے پہلو میں واقع براڈلے ہال اب مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔

یہ وہ عمارت ہے جس میں برصغیر میں مقامی سیاست کا آغاز ہوا اور انڈین نیشنل کانگرس کا پہلا دفتر یہاں بنا۔

اس دور میں اس عمارت کو انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔

تین ہزار افراد کی گنجائش والے اس ہال کا افتتاح 30 اکتوبر 1900 میں کانگرس کے معروف رہنما سریندر ناتھ بینرجی نے کیا تھا۔

براڈلے ہال کی عمارت کو انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ سمجھا جاتا تھا (فائل فوٹو: والڈ سٹی، لاہور)یہ عمارت انگریز سیاست دان اور انسانی حقوق کے وکیل چارلس براڈلے جو 1880 میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے، انہوں نے ہندوستانیوں کو تحفے کے طور پر دی تھی۔

آل انڈیا کانگرس کے ابتدائی اجلاس اسی عمارت میں ہوئے تھے۔ بعدازاں اس عمارت کو کالج میں تبدیل کر دیا گیا۔

پھر اسی عمارت میں بنے کالج میں تحریک آزادی ہندوستان کے ہیرو بھگت سنگھ نے بھی تعلیم حاصل کی۔ یہ عمارت بطور آڈیٹوریم بھی استعمال ہوئی، اسی طرح خلافت کی تحریک کا بھی گڑھ رہی۔

اس کی بحالی کے بعد اب اس کے درودیوار میں چھپی کہانیوں کو محسوس کیا جا سکے گا۔

جنرل الارڈ کا مقبرہ

جنرل الارڈ کون ہیں؟

 یہ کہانی 1815 میں موجودہ یورپی ملک بیلجیئم میں واٹرلو کے مقام سے شروع ہوتی ہے۔

جب نپولین بونا پارٹ کی قیادت میں فرانسیسی افواج کو برطانوی افواج سے شکست ہوئی اور بونا پارٹ گرفتار ہو گئے تو ان کے دوسرے جرنیل اپنے جانیں بچانے کے لیے مصر، مراکش اور فارس کی جانب نکل گئے۔ انہیں جرنیلوں میں سے ایک جنرل الارڈ بھی تھے۔

وہی جنرل الارڈ اب لاہور کی پرانی انارکلی میں ایف بی آر کی عمارت کے عقب میں ایک عظیم الشان مقبرے میں ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں۔

اس مقبرے کو فرانسیسی حکومت کی مدد سے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

جنرل الارڈ انارکلی کیسے پہنچے؟

 ان واقعات کا تعلق راجہ رنجیت سنگھ کے پنجاب میں دور حکومت سے ہے۔

برطانوی حکومت بھاگے ہوئے فرانسیسی جرنیلوں کے تعاقب میں فارس پہنچ چکی تھی تو جنرل الارڈ وہاں سے کابل اور پھر پشاور آ گئے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ سے پناہ کی درخواست کی۔

مہاراجہ ان دنوں انگریزوں کے خلاف برسرپیکار تھے۔ جلد ہی جنرل الارڈ نے مہاراجہ کا بھروسہ جیت لیا اور خالصہ فوج کو تربیت فراہم کرنا شروع کی۔ بعد ازاں وہ رنجیت سنگھ کے معتمد خاص بن گئے۔

جنرل الارڈ اب لاہور کی پرانی انارکلی میں ایک عظیم الشان مقبرے میں ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں (فائل فوٹو: پاکستان گائیڈڈ ٹورز)ان کی شادی بھی مہاراجہ کی بھتیجی سے ہوئی جس میں سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ جس کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا، اس کا مقبرہ بھی یہی بنا۔

بعدازاں پشاور میں ایک جنگی مہم کے دوران جنرل کا انتقال ہو گیا تو ان کے جنازے کو شاہی اعزاز کے ساتھ لاہور لایا گیا اور بیٹی کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اب اس مقبرے کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس کے درودیوار دو براعظموں میں پھیلی کہانی کے واحد عینی شاہد ہیں۔

ٹولنٹن مارکیٹ: لاہور کی پہلی سپرمارکیٹ

لاہور کی قدیم ترین کہانیوں میں سے ایک کہانی ٹولنٹن مارکیٹ کی بھی ہے۔ جس نے لاہور کو جدید شہر میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نیشنل کالج آف آرٹس کے سابق استاد، تاریخ دان اور اس عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے طویل جدوجہد کرنے والے ڈاکٹراعجاز انور کہتے ہیں کہ ’اس عمارت کی سٹوری بڑی دلچسپ ہے۔ لاہور کا  عجائب گھر اور آرٹس سکول (این سی اے) دونوں کی پیدائش اس عمارت سے ہوئی تھی۔‘

’سنہ 1864 میں جب یہ عمارت حکومت برطانیہ نے تعمیر کی تو اس وقت اس کا مقصد ایک صنعتی نمائش کا اہتمام تھا کیونکہ یورپ میں صنعتی انقلاب کی داغ بیل پڑ چکی تھی اور یہاں پر ٹیلنٹ کو ابھارنے کے لیے ایک عمارت بنائی گئی۔ شمالی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مختلف کاریگروں نے یہاں بیٹھ کر اپنا سامان تیار کرنا شروع کیا۔ یعنی فیکٹری کی فیکٹری اور نمائش کی نمائش۔‘

عجائب گھر اور آرٹس سکول کی اپنی الگ الگ عمارتوں میں منتقل ہونے کے بعد نمائش کی عمارت خالی ہو گئی۔

ٹولنٹن مارکیٹ ان دنوں این سی اے کے سٹوڈنٹس کی نمائش گیلری کے لیے استعمال ہو رہی ہے (فائل فوٹو: لاہور بینالے فاؤنڈیشن)ڈاکٹر اعجاز انور کے مطابق یہیں سے لاہور کی سب سے پہلی بڑی سپر مارکیٹ کا آغاز ہوتا ہے۔

’یہ عمارت خالی رہنے کی وجہ سے خستہ حال ہو چکی تھی، اس وقت یہاں کے چیف سیکریٹری ایس پی ٹولِنٹن نے اس کو مارکیٹ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کی تعمیرنو سرگنگا رام نے کی اور اس کو دوبارہ قابل استعمال بنا دیا۔ اس کا نام بھی ٹولِنٹن مارکیٹ رکھ دیا گیا۔‘

ٹولنٹن مارکیٹ ان دنوں این سی اے کے سٹوڈنٹس کی نمائش گیلری کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مال روڈ پر عجائب گھر کے پہلو میں کھڑی اس عمارت کو مکمل بحال کر دیا گیا ہے۔

مقبرہ انارکلی

انارکلی کا مقبرہ مال روڈ کے قریب پنجاب سول سیکرٹریٹ کی عمارت کے میدان میں واقع ہے۔

محبت کی داستان سے منسوب انارکلی کے مقبرے کی عمارت کو اس وقت پنجاب آرکائیوز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اب اس میں سیاحوں کو والڈ سٹی اتھارٹی کی اجازت سے جانے کی اجازت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مقبرہ مغل شہنشاہ جہانگیر نے انارکلی کی محبت میں تعمیر کیا تھا۔

انارکلی کی داستان کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اپنے ولی عہد شہزادہ سلیم (مستقبل کے شہنشاہ جہانگیر) سے محبت کرنے پر انارکلی کو گرفتار کر لیا تھا۔ انارکلی شہنشاہ اکبر کی ایک لونڈی تھی اور مبینہ طور پر اس کی شہزادہ سلیم سے محبت پر شہنشاہ اکبر اس قدر مشتعل ہو گئے کہ انارکلی کو ایک دیوار میں زندہ چنوا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ مقبرہ مغل شہنشاہ جہانگیر نے انارکلی کی محبت میں تعمیر کیا تھا (فائل فوٹو: والڈ سٹی لاہور)جب شہزادہ سلیم تخت افروز ہو گیا اور ’جہانگیر‘ کا لقب اختیار کیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے دیوار کی جگہ جہاں انارکلی کو دفن کیا گیا تھا، ایک شاندارمقبرہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

سکھ سلطنت کے زمانے میں یہ مقبرہ اور اس کے گرد کے باغات مہاراجا رنجیت سنگھ کے بڑے بیٹے شہزادہ کھڑک سنگھ کے زیر استعمال آ گئے۔

بعد ازاں یہاں خالصہ افواج کے فرانسیسی جنرل جین بپٹسٹ وینٹورا ، جو رنجیت سنگھ کی فوج خاص کے کماندار تھے، کی ایک بیوی رہائش پذیر رہی۔

بارہ دری وزیر خان

مسجد وزیر خان تو لاہور کی پہنچان سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اب بارہ دری وزیر خان کو بھی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔

عجائب گھر کے عقب میں پنجاب پبلک لائبریری کے احاطے میں بارہ دری کی عمارت مغل دور کی ایک اور یاد ہے جسے اس وقت کے گورنر لاہور وزیر خان نے شہر سے باہر ایک باغ بنوا کر اس کے اندر تعمیر کروایا۔ یہ اسی دور میں ہی تعمیر کی گئی جب مسجد پر کام جاری تھا۔

اب بارہ دری وزیر خان کو بھی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے (فائل فوٹو: علی عثمان بیگ)جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر حملہ کیا تو وہ اسی بارہ دری میں قیام پذیر رہے۔ یہ علاقہ سکھ فوج کی چھاؤنی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اب اس عمارت کو بھی مکمل بحال کر دیا گیا ہے۔

والڈ سٹی نے ان پانچ تاریخی عمارتوں کے لیے ہفتہ وار گائیڈڈ ٹور بھی متعارف کروائے ہیں جس سے اب سیاحوں کو ان بحال شدہ عمارتوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More