Getty Imagesفائل فوٹو
کچھ روز قبل پاکستان کے شہر لاہور سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کا عنوان تھا۔ ’بریکنگ نیوز: لاہور میں یوگا کی اجازت نہیں ہے۔‘
اس ویڈیو کو لاہور کے رہائشی علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ( ڈی ایچ اے) کی ایک رہائشی عشا امجد نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شیئر کیا تھا۔
عشا امجد، جو ایک پلاٹیز ٹرینر ہیں، نے یہ ویڈیو اپنے فون پر اس وقت ریکارڈ کی تھی جب وہ ڈی ایچ اے میں اپنی رہائش گاہ کے قریب ایک عوامی پارک میں یوگا کرنے کی غرض سے گئی تھیں لیکن ان کے یوگا کرنے کے دوران انھیں پہلے ایک شخص نے مبینہ طور پر ہراساں کیا اور بعد میں وہاں موجود سکیورٹی گارڈ نے انھیں یہ کہہ کر کہ پارک سے جانے کو کہا کہ ’یہاں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘
اس ویڈیو اور اس واقعے کے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عشا کا کہنا ہے کہ یوگا کے دوران پارک میں موجود ’ایک مرد جو جو کافی وقت سے مجھے گھور رہے تھے، ہنس رہے تھے، میری ویڈیوز بنا رہے تھے، آ کر مجھے کہنے لگےکہمیرے ساتھ ٹک ٹاک بناؤ اور پھر مجھے یوگا سے منع کرنے لگے۔'
انھوں نے اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس کے بعد وہاں موجود ایک سکیورٹی گارڈ نے بھی آ کر انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہا۔
عشا کے مطابق یہ سب ان کے لیے نیا نہیں تھا۔ انھیں ’پاکستان میں رہتے ہوئے اس بات کی عادت ہے۔‘
BBCعشا کا کہنا ہے کہ یوگا کے دوران پارک میں موجود ’ایک مرد جو جو کافی وقت سے مجھے گھور رہے تھے، میری ویڈیوز بنا رہے تھے، آ کر مجھے کہنے لگے میرے ساتھ ٹک ٹاک بناؤ اور پھر مجھے یوگا سے منع کرنے لگے‘
وہ کہتی ہیں کہ وہ گارڈ کے پارک سے چلے جانے پر وہاں سے جانے کو بھی تیار تھیں لیکن انھیں غصہ اس بات کا تھا کہ انھیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے والا مرد ہی انھیں بتا رہا تھا کہ خواتین کے لیے پارک میں کیا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
عشا کہتی ہیں کہ اس بارے میں جب انھوں نے پارک میں موجود سیکورٹی گارڈ سے اس شخص کی شکایت کی تو اس نے بھی اس شخص کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں تحفظ دینے کے بجائے، خود انھیں ہی وہاں سے چلے جانے کا کہا۔
وہ کہتی ہیں کہ جب اس شخص کی شکایت کی تو گارڈ کا جواب تھا ’میں ان کی آنکھیں تو بند نہیں کر سکتا۔‘
BBCعشا کہتی ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا صارفین نے جس قدر آسانی سے کمنٹس میں نفرت بھرے پیغامات بھیجے ’یہ بہت خطر ناک ہے‘’آن لائن پیغامات پارک سے نکالے جانے سے بڑا مسئلہ ہے‘
عشا کے مطابق انسٹا گرام پر ان کی یہ ویڈیو کافی وائرل ہوئی لیکن جہاں بہت سی خواتین نے ان کی پوسٹ پر کمنٹس میں اپنے ساتھ ہونے والے ایسے ہی واقعات کا ذکر کیا وہاں عشا کو آن لائن نفرت انگیز پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں نازیباً اور دھمکی آمیز الفاظ بھی تھے۔
عشا اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا یا آن لائن موصول ہونے والے نفرت انگیز پیغامات پارک سے نکالے جانے سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ ’وہ خوفناک رد عمل تھا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا صارفین نے جس قدر آسانی سے کمنٹس میں نفرت بھرے پیغامات بھیجے ’یہ بہت خطر ناک ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ آن لائن لوگوں کا ردعمل دیکھ کر ’مجھے میرے گھر والوں، سہیلیوں کے پیغامات آ رہے تھے کہ تم پوسٹ پر کمنٹس یا تبصرے نہ پڑھنا اور نہ ہی ان سے پریشان ہونا۔ کچھ نے تو ان تبصروں پر مجھ سے پوچھا عشا تم ٹھیک ہو نا؟‘
’میں بے باک لڑکی ہوں لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا‘پاکستان میں عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے اور فحش حرکات کے واقعات میں اضافہ کیوں؟ہراسانی کے واقعات: ’آپ کے مرد دوست بھی فحش تصاویر بھیج کر آپ کو ہکا بکا کر دیتے ہیں‘خواتین ہراسانی کے خلاف آواز کیسے بلند کر سکتی ہیں؟
عشا بتاتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد کچھ خواتین نے ان سے رابطہ کیا اور ان کا ایک گروپ مل کر دوبارہ اسی پارک میں ورزش کے لیے گیا۔
ایک بار پھر ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا۔ اسی گارڈ نے انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ اس بار کچھ خواتین کے شوہر بھی ان کے ساتھ تھے۔
سکیورٹی گارڈ سے بحث کے دوران انھوں نے پارک کے ضوابط پوچھے، جو پارک کےگیٹس پر بھی موجود ہیں۔ جواب میں جو پرچہ دکھایا گیا اس پر کہیں یہ درج نہیں تھا کہ پارک میں یوگا کرنا منع ہے۔ البتہ مردوں کے لیے لباس کی شرائط موجود ہیں جیسا کہ شارٹسپہننے پر پابندی وغیرہ۔
عشا کے مطابق انھوں نے پارک میں داخلے کے وقت ویسا ہی لباس پہن رکھا تھا جو یوگا جیسی ورزش کے لیے ضروری ہے کیونکہ ’کھلے یا ڈھیلے ڈھالے لباس میں یوگا کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘
کیا لاہور کے عوامی پارکس میں خواتین کے یوگا کرنے پر پابندی ہے؟BBCہم نے ڈی ایچ اے کے سکیورٹی افسران اور انتظامیہ سے رابطہ کیا تو جواب میں پارک کے لیے وہی تحریری ہدایات دکھائی گئیں جو پارک کے باہر بھی آویزاں ہیں اور جو عِشا کو بھی دکھائی گئیں
لاہور شہر کے کسی بھی عوامی پارک کی انتظامیہ یا سکیورٹی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا لاہور میں پارکس میں خواتین کا یوگا کرنا ممنوع ہے تو جواب میں پارککے لیے طے کیے گئے ضوابط دکھائے جاتے ہیں جن میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا کہ خواتین پارک میں یوگا نہیں کر سکتیں۔
بی بی سی کے لیے ہم نے ڈی ایچ اے کے سکیورٹی افسران اور انتظامیہ سے رابطہ کیا تو جواب میں وہی تحریری ہدایات دکھائی گئیں جو پارک کے باہر بھی آویزاں ہیں اور جو عِشا کو بھی دکھائی گئیں اور جن میں کہیں بھی خواتین کے یوگا یا ورزش کرنے پر پابندی نہیں ہے۔
دوسری طرف پاکستان بھر کے پارکس میں مردوں کے گروہ اکثر یوگا کرتے نظر آتے ہیں۔
بظاہر یہ غیر رسمی پابندی ان اصولوں میں سے ایک ہے جو خواتین کی صنف کے لیے مخصوص ہیں۔
بالکل اسی طرح جیسے گھر سے باہر چہل قدمی، موٹر سائیکل چلانا، یا کسی بھی کام کے لیے اکیلے نکلنامردوں کے لیے تو معمول کی بات ہے لیکن خواتین کو کسی بھی وقت روک کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹھیک نہیں۔
پاکستان میں عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے اور فحش حرکات کے واقعات میں اضافہ کیوں؟’میں بے باک لڑکی ہوں لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا‘’کوئی مرد عوامی مقام پر اتنی گھٹیا حرکت کیسے کر سکتا ہے‘خواتین ہراسانی کے خلاف آواز کیسے بلند کر سکتی ہیں؟عوامی مقامات پر مردوں کی نازیبا حرکتیں: ’ایسا محسوس ہوا جیسے میرا جسم سُن ہو گیا ہو‘ہراسانی کے واقعات: ’آپ کے مرد دوست بھی فحش تصاویر بھیج کر آپ کو ہکا بکا کر دیتے ہیں‘