Getty Imagesامریکی سفیر ایوریل ہیریمن نے یہ مہر فخریہ طور پر سنہ 1952 تک اپنے گھر میں لٹکائے رکھی
آج سے تقریباً 80 سال قبل دوسری عالمی جنگ کے آخری چند ہفتوں میں روسی سکاؤٹس کے ایک گروپ نے ماسکو میں تعینات امریکی سفیر کو تحفے میں ہاتھ سے تراشی امریکی مہر یا مونو گرام دیا تھا۔
یہ تحفہ جنگ کے دوران روس اور امریکہ کے درمیان تعاون کی علامت تھا۔ جسے امریکی سفیر ایوریل ہیریمن نے فخریہ طور پر سنہ 1952 تک اپنے گھر میں لٹکائے رکھا۔
لیکن امریکی سفیر اوراُن کی ٹیم تحفے میں ملنے والی اس مہر میں جاسوسی کے لیے نصب آلے سے اُس وقت تک لاعلم رہی جب تک سکیورٹی ٹیم نے اس چیز کا پتہ نہیں لگایا۔
اس کے ذریعے سات سال تک سفارتی بات چیت کی جاسوسی کی گئی اور سوویت یونین نے بظاہرسادہ اور بے ضرر آرٹ ورک کے ذریعے دشمن کی صفوں میں شامل ہو کر سٹرٹیجک فائدہ اٹھانے جیسے اقدامات میں ’ٹروجن ہارسز‘ کو بھی مات دی دے ہے۔
لیکن جاسوسی کے افسانے جیسی داستان درحقیقیت ایک سچا واقعہ ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
کاؤنٹر سرویلنس کے ماہر 79 سالہ جان لٹل بہت عرصے تک جاسوسی کے اس آلے کے سحر میں مبتلا رہے اور یہاں تک کہ انھوں نے اس سے ملتی جلتی ڈیوائس بنائی۔
لٹل کے اس شاندار کام پر ایک ڈاکومینٹری بنائی گئی ہے جس کی سکریننگ اگلے ماہ ہو گی۔
پراسرار گولی، ملزم کی ہلاکت اور سازشی نظریات: جان ایف کینیڈی کا قتل جس کے حوالے سے شکوک آج بھی موجود ہیںامریکہ کی پہلی خاتون جاسوس جنھوں نے صدر لنکن کے قتل کے منصوبے کو ناکام بنایاوہ ’ڈبل ایجنٹ‘ جس نے سوویت یونین کو خفیہ معلومات بیچ کر امریکہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایاجب سٹالن نے ماؤ کے فضلے کی ’جاسوسی‘ کی
انھوں نے اس ڈیوائس، جیسے ’دا تھنگ‘ کا نام دیا گیا ہے، کی ٹیکنالوجی کو موسیقی کے انداز میں بیان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ آرگن پائپ جیسی ٹیوبز پرمشتمل ہے اور ان ٹیوبز پر ڈرم کی طرح ایک باریک جھلی ہے جس میں انسانی آواز سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹوپی کی پن جتنی چھوٹی ہے کیونکہ اس میں کوئی ’الیکٹرونکس اور بیٹری‘ نہیں ہے، اسی وجہ سے سکرینگ کے دوران اس کا پتہ چل سکا۔
تاریخ دان کیتھ ملٹن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ایک آلے کی انجینئرنگ کے لیے بہت مہارت چاہیے کیونکہ یہ سوئس گھڑیوں اور مائیکرومیٹرکے درمیان کی کوئی ٹیکنالوجی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ دا تھنگ آڈیو مانیٹرنگ کی سائنس کو اس سطح پر لے آئی ہے جسےپہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
سفیر کی رہائش گاہ کے اندر یہ ڈیوائس اُسی وقت فعال ہوتی جب قریبی عمارت میں موجود ریموٹ ٹرانسیور کو آن کیا جاتا، جو ہائی فریکوئنسی سگنل بھیجتا اور بگ ڈایوائس کے تمام پیغامات وصول ہونے لگتے۔
یہ سب اُس وقت تک جاری رہا جب اچانک سنہ 1951 میں ماسکو میں موجود برٹش ملٹری ریڈیو پر آپریٹر نے غلطی سے دا تھنگ کی ویو لنتھ پر ٹیون کیا تو انھیںدور دراز کمرے میں ہونے والی گفتگو سنائی دی۔
امریکی تکنیکی ماہرین نے سفیر کی رہائش گاہ کو خالی کروایا اور تلاشی لی۔ تین دن کے اندر ہی انھوں نے محسوس کیا کہ ہاتھ سے تراشی ہوئی اس مہر میں ایک ’خفیہ کان‘ ہے جو سفیروں کے مابین ہونے والی بات چیت سن سکتا ہے۔
جاسوسی کے لیے آرٹ کا استعمال
روسی ٹیکنکشن جنھوں نے کئی عرصے تک جاسوسی کے آلے دا تھنگ کوآپریٹ کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ’طویل عرصے تک ہم مخصوص اور انتہائی اہم معلومات حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس سے ہمیں سرد جنگ میں کچھ فوائد بھی حاصل ہوئے۔‘
اُس وقت سے لے کر اب تک سوائے سوویت انٹیلیجنس کے کوئی یہ نہیں جانتا کہ جاسوسیکے لیے ایسےمزید کتنے آلے استعمال ہوئے ہیں۔
جاسوسی کی ڈیوائس کے طور پر اس کی کامیابی کی وجہ اس کی تکنیک تھی اوریہ اس لیے بھی موثر تھا کیونکہ اس نے خوبصورت اشیاء لیے انسانی رویوں کو استعمال کیا۔ ہم اپنی حیثیت، شوق اور ثقافتی رجحانات کے سبب آرٹ ورکس اور آرائشی اشیا پسند کرتے ہیں۔ روسی انٹیلی جنس نے اس مفروضے کو استعمال کیا۔
آرٹ کے نمونے کے ذریعے جاسوسی کی یہ واحد مثال نہیں ہے۔
ماضی میں بھی آرٹ کو جاسوسی اور فوجی حکمت عملی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔مشہور مونا لیزا کی پینٹنگ بنانے والے مصورلیونارڈو ڈاونچی نے ٹینک اورمحاصرہ کرنے والے ہتھیار بھی ڈیزائن کیے۔پیٹر پال روبن نے جنگ کے دوران جاسوسی کی۔
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں مختلف فنکار کئی حفیہ مشنز کا حصہ رہے ہیں۔ برطانوی تاریخ دان ایتھونی بلنٹ دوسری جنگِ عظیم میں اور سرد جنگ کے آغاز پر جاسوسی کرتے رہے۔
جاسوس کے لیے عجیب آلہ دا تھنگ کی بنیاد بھی آرٹ ہی ہے۔
اس آلے کے موجد روس میں پیدا ہونے والے موسقیار لیئون تھیریمینتھے جنھوں نے دنیا کا وہ پہلا الیکٹرانک انٹسرومنٹ بنایا، جس میں موسیقی کےآلے کو چھوئے بغیر دھن بنائی جا سکتی ہے۔ اس میں اینٹینا کے ارد گرد ہوا کے ذریعے ہاتھ کی حرکت نوٹس کو کنٹرول کرتی ہے۔ موسیقی کے اس ساز کو اُس کے موجد تھیریمین کے نام سے جانا جاتا ہے۔
Getty Images
سفیر کی رہائش گاہ سے نکلنے والا جاسوسی کا آلہ دا تھنگ کو امریکی انٹیلیجنس نے خفیہ رکھا کیونکہ سفیر کی رہائش گاہ میں جاسوسی سکیورٹی اہلکاروں کیناکامی تھی۔
لیکن سنہ 1960 میں جب جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اپنے عروج پر تھی تو اس وقت ماسکو میں امریکی جاسوس طیارہمار گرایا گیا۔
اس کے بعد سفارتی ہنگامے کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ’مہر والے معاملے‘ کو افشاں کر دیاتاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ سرد جنگ کے دوران کی جانی والے جاسوسی یک طرفہ نہیں ہے۔
جان لٹل کا کہنا ہے کہ ’جاسوس طیارے کو مار گرانے ہی دراصل دا تھنگ کو منظرِعام پر لانے کی وجہ بنا لیکن اس کی تکنیکی مہارت کبھی بھی عام نہیں کی گئی۔
برطانوی کاؤنٹر انٹیلی جنس نے خفیہ طور پر اس آلے کا تفصیلی مطالعہ کیا اور یہ معلومات اُس وقت تک راز میں رہیں جب تک سابق سکیورٹی آفیسر پیٹر رائٹ کی یادداشت پر مبنی کتاب ’سپائی کیچر‘ سنہ 1987 شائع ہوئی۔
دا تھنگ کی تکنیکی نفاست او سرد جنگ میں اس کے کردار نے مورخین کو پریشان رکھا لیکن یہ ماضی کی اعلی ثقافت کے تاریخ پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے جو شانداراوپیرا ہاؤسز اور آرٹ گیلریوں سے اوجھل ہے۔
اس میںکلاسیکل موسیقار جاسوسی کے آلات تیار کرتے ہیں اور ہاتھ سے تراشے ہوئے فن پارے عسکری راز اکٹھا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
پشاور سے امریکی جاسوس طیارے کی سوویت یونین تک پرواز جس نے دو دشمن ممالک کو مزید تلخیوں کی طرف دھکیل دیاپراسرار گولی، ملزم کی ہلاکت اور سازشی نظریات: جان ایف کینیڈی کا قتل جس کے حوالے سے شکوک آج بھی موجود ہیں’پیسوں کا لالچ اور جی پی ایس لوکیشن‘: مظفر آباد میں حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کی معلومات انڈیا کو دینے کے الزام میں گرفتار شخص کون ہے؟وہ شخص جسے اسرائیل کے جوہری پروگرام کا راز افشا کرنے پر دو دہائیاں جیل میں گزارنا پڑیںوہ ’ڈبل ایجنٹ‘ جس نے سوویت یونین کو خفیہ معلومات بیچ کر امریکہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا