وارن بفٹ: اپنے شیئر ہولڈز کو 61 لاکھ فیصد منافع دلانے والے ’دنیا کے بڑے سرمایہ کار‘ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 05, 2026

Getty Images

فنانس کی دنیا کے ’لیجنڈ‘ وارن بفٹ 95 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے ہیں۔

یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے صرف 11 سال کی عمر میں پہلی بار سرمایہ کاری کی اور 13 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تھے۔

وارن بفٹ گذشتہ چھ دہائیوں تک اپنی کمپنی ’برکشائر ہیتھاوے‘ کے سی ای او رہے۔ اور اس دورانیے میں اُن کی اِس کمپنی کے شیئر ہولڈرز نے لگ بھگ 61 لاکھ فیصد منافع کمایا ہے۔

ریاست ’اوماہا‘ میں قائم اپنی کمپنی کے ذریعے انھوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی اور آج کی تاریخ میں اس کمپنی کی قدر 10 کھرب ڈالر ہے جبکہ بفٹ کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔

فاربز میگزین کی فہرست کے مطابق وہ سنہ 2025 میں دنیا کے چھٹے امیر ترین شخص ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 154 ارب ڈالر بنتی ہے۔

’برکشائر ہیتھاوے‘ کی ذیلی کمپنیوں میں بیمہ فراہم کرنے والی کمپنی گیکو، بی این ایس ایف ریل روڈ، درجنوں مینوفیکچرنگ اور توانائی کے کاروبار اور ریٹیل برانڈز جیسے بروکس، ڈیری کوئین، فروٹ آف دی لوم اور سیز کینڈی شامل ہیں۔

ستمبر 2025 کے اختتام تک برکشائر ہیتھاوے کے پاس 381.7 ارب ڈالر نقد اور اربوں ڈالرز کے دیگر اثاثے تھے۔

سٹاکس کے اعتبار سے اس کمپنی کے پورٹ فولیو میں ایپل اور امریکن ایکسپریس جیسی انتہائی معروف کمپنیاں شامل ہیں۔

کوکا کولا اور آئس کریم کے شوقینGetty Imagesاپنے کیریئر کے دوران اتنی دولت جمع کرنے کے باوجود انھیں دیگر ارب پتی شخصیات کی طرح اپنی دولت خرچ کرنے کا شوق نہیں ہے

بیٹلز، بائبل اور وارن بفٹ میں کیا چیز قدر مشترک ہے؟

بیٹلز وہ میوزک بینڈ ہے جس کی کیسٹیں سب سے زیادہ فروخت ہوئیں، بائبل دنیا میں سب سے زیادہ بِکنے والی کتاب رہی ہے جبکہ وارن بفٹ کو ’دنیا کا سب سے کامیاب سرمایہ کار‘ قرار دیا جاتا ہے۔

60 سال تک اپنی قائم کردہ کمپنی برکشائر کے سربراہ رہنے کے بعد وہ یکم جنوری 2026 کو ریٹائر ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اس کمپنی کی بنیاد 60 کی دہائی میں رکھی تھی۔ اور اُن کی ریٹائرمنٹ کو ’ایک دور کے خاتمے‘ جیسا کہا جا رہا ہے۔

تو بفٹ کے اپنے الفاظ میں وہ کیسے سرمایہ کار ہیں؟

اِس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ 'میں صرف اسی چیز پر قائم رہتا ہوں جو مجھے معلوم ہوتی ہے۔ اگر کسی کے پاس 50 مختلف سٹاکس ہیں تو کیا وہ 50ویں نمبر والے سٹاک کو اسی طرح رینک کر سکتے ہیں جیسا کہ وہ پہلے نمبر والے سٹاک کو رینک کرتے ہیں؟ کیا انھیں دونوں کے بارے میں مکمل معلومات ہے، میرا نہیں خیال۔‘

اپنے کیریئر کے دوران اتنی دولت جمع کرنے کے باوجود انھیں دیگر ارب پتی شخصیات کی طرح اپنی دولت خرچ کرنے کا شوق نہیں ہے۔

’22 امیر ترین خاندان‘: پاکستان کے ماضی کے امیر ترین خاندانوں کی دولت میں کمی کیسے ہوئی اور ارب پتیوں کی نئی فہرست میں کون شامل ہے؟سعودی عرب کے شاہی خاندان کی دولت میں ایک سال میں 73 ارب ڈالر کا اضافہ: 2025 میں دنیا کے 10 ’امیر ترین خاندان‘ کون ہیں؟رتن ٹاٹا: نمائش سے دور سادہ زندگی گزارنے والے انڈین بزنس مین جنھوں نے اپنے کاروبار کو چھ براعظموں کے 100 سے زیادہ ممالک تک پھیلایاگیراج سے کتابیں فروخت کرنے والی غیر منافع بخش ویب سائٹ کے مالک دنیا کے سب سے امیر شخص کیسے بنے

ان کا پسندیدہ کھانا آئس کریم سنڈے ہے اور وہ اکثر چیری کوکا کولا پیتے نظر آتے ہیں۔

وہ دیگر امیر ترین لوگوں سے کچھ مختلف ہیں جن کے بارے میں ہم اکثر پڑھتے رہتے ہیں اور اُن کی دولت کی بنیاد پر ان پر رشک بھی کرتے ہیں۔ اگر آپ وارن بفٹ سے سرمایہ کاری کے اصول سیکھ کر دولت نہیں بھی کمانا چاہتے تو پھر بھی اُن سے زندگی گزارنے کے بہت سے گُر سیکھ سکتے ہیں۔

وارن بفٹ نے صرف چھسال کی عمر میں پہلی بار پیسے کمائے تھے، جبکہ 11 سال کی عمر میں انھوں نے پہلی بار سٹاکس خریدے تھے اور محض 13 سال کی عمر میں انھوں نے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے۔

اگرچہ وہ دنیا کے سب سے امیر افراد کی فہرست میں شامل ہیں مگر انھیں انسانی خدمت کے کاموں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکہ میں اُن کی کمپنی کی شیئر ہولڈر میٹنگ میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں اور کبھی کبھار ان میٹنگز کو کسی سٹیڈیم میں منعقد کیا جاتا ہے۔

بفٹ کی کامیاب سرمایہ کاری کا رازGetty Imagesامریکہ میں ان کی کمپنی کی شیئر ہولڈر میٹنگ میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں اور کبھی کبھار ان میٹنگز کو کسی سٹیڈیم میں منعقد کیا جاتا ہے

وارن بفٹ کے قریبی ساتھی لارنس کننگہم نے اُن کے مضامین کی اشاعت کی ہے۔

وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ اِن مشہور شیئر ہولڈر میٹنگز میں وارن بفٹ کے چاہنے والے انھیں دیکھنے کے لیے دور دور سے آتے تھے۔ ’یہ ایسا ہے کہ جیسے وارن بفٹ کسی کمرے میں ایک شخص سے بات کر رہے ہوں۔ وہ طنز و مزاح سے بھرپور شخصیت ہیں اور سٹیج پر بھی ان کا ایسا ہی برتاؤ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان میٹنگز میں ہزاروں لوگ ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ انھیں اپنے پیسے کہاں لگانے چاہییں؟

’وہ عوامی اجتماعات میں بالکل ویسے ہی ہیں، جیسے کسی ڈنر پر آپ کے ساتھ ہوں گے۔ وہ سب سے گرمجوشی سے ملتے ہیں۔‘

لارنس کننگہم کہتے ہیں کہ بفٹ کو پڑھنے کی عادت ہے جس میں انھوں نے زندگی کا بڑا حصہ صرف کیا ہے، چاہے وہ کاروباری مواد ہو یا نان فکشن کتابیں۔ وہ اکثر سالانہ رپورٹس کو پڑھنے میں وقت صرف کرتے ہیں۔ ’کوئی بھی استاد آپ کو یہی کہے گا کہ آپ بہت زیادہ پڑھ کر بہترین چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔‘

تو کیا وہ کسی کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اُس کے سربراہ کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں یا وہ صرف پراڈکٹ، اس کی طلب اور یہ کیسے بنتا ہے، یہ جانچ کر فیصلہ کرتے ہیں؟

اس پر لارنس کننگہم کہتے ہیں کہ ’کاروباری اعتبار سے سب اسی چیز پر محنصر ہے کہ کسی کاروبار کی بنیاد کیا ہے اور اس کا پراڈکٹ کیسے بنتا ہے۔ لیکن لیڈرشپ کا تعلق صرف لوگوں سے ہوتا ہے۔‘

’وہ قیادت میں یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ان پر کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے، ان کی شخصیت کیسی ہے اور وہ کیسی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ اور ان کا رویہ کیسا ہے۔ وہ یہی دیکھتے ہیں کہ لوگ کیسے ہیں اور اگے چل کر اُن کا ممکنہ رویہ کیسا ہو گا۔‘

لارنس کننگہم کہتے ہیں کہ وارن بفٹ کبھی بھی ایسے لوگوں کے ساتھ کاروبار نہیں کرتے جن پر وہ ’اعتماد نہ کرتے ہوں۔‘

Getty Images

تو کیا زمانے کے ساتھ بفٹ نے خود کو بھی بدلا؟ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ’وہ ہمیشہ ارتقا کے عمل میں رہتے ہیں۔ 70 کی دہائی میں انھوں نے قیمت پر توجہ دی، یعنی ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جو سستی تھیں۔‘

’پھر انھوں نے قدر پر توجہ دی۔ جیسے کبھی کبھار کوئی کاروبار اتنا اچھا ہوتا ہے کہ اسے خریدنے کے لیے کچھ زیادہ قیمت ادا کرنا بھی بُرا نہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ 2010 سے قبل وہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے تھے مگر اس کے بعد جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں تبدیلیاں رونما ہوئیں تو انھوں نے ’ایپل کے حصص خریدے۔ ان کے خیالات بدل گئے۔ میرا خیال ہے کہ انھوں نے ٹیکنالوجی اور اس کی قدر کو سمجھا۔‘

لارنس کننگہم کا کہنا ہے کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ وارن بفٹ بہت ذہین ہیں یا یہ کہ وہ مستقبل دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی سب سے بڑی خوبی اپنے جذبات پر قابو پانا ہے اور مسلسل ایک کام کو دہرانے کی صلاحیت ہے۔‘

ان کے مطابق بفٹ کو ’یہ نہیں لگتا کہ وہ سب سے ذہین ہیں۔‘

بفٹ کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایک استاد کے طور پر یاد رکھا جائے۔ ’یہ علم بانٹنے میں یقین رکھتے ہیں۔‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے استاد بنجامن گراہم نے انھی ساری تعلیم دی تھی جسے وہ اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

’22 امیر ترین خاندان‘: پاکستان کے ماضی کے امیر ترین خاندانوں کی دولت میں کمی کیسے ہوئی اور ارب پتیوں کی نئی فہرست میں کون شامل ہے؟سونا، سٹاکس یا پلاٹ: پاکستان میں 2025 کے دوران کِن اثاثوں کی قدر میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا؟سعودی عرب کے شاہی خاندان کی دولت میں ایک سال میں 73 ارب ڈالر کا اضافہ: 2025 میں دنیا کے 10 ’امیر ترین خاندان‘ کون ہیں؟ٹاٹا گروپ: انڈیا کی بڑی کاروباری سلطنت اپنے سابق سربراہ کی موت کے بعد طاقت کی آپسی کشمکش کا شکار کیسے ہوئی؟آذربائیجان میں مقدس مسلم مقامات کے قریب جوا خانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More