’میں غیرسیاسی ہوں اور فنکار ہوں، میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قیدی نمبر 804 کا جو گانا گایا وہ سٹیج کی قریب کھڑے ایک شخص کی دھمکی آمیز فرمائش پر گایا تھا۔ شالیمار باغ کی انتظامیہ اگر فنکاروں کو بلاتی ہے تو انھیں چاہیے کہ اُن کی حفاظت کا بندوبست بھی کرے۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان کے معروف قوال فراز امجد خان کا، جن کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ باغبانپورہ میں 'جیل اڈیالہ قیدی 804 ہوئے' نامی گانا گانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور نقض امن جیسی دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔
مقدمے میں قوال فراز خان کے ساتھ ساتھ اُن کے ہمنوا ساتھیوں (قوال پارٹی) کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے تاہم لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیاہے۔
قوال فراز خان نے لاہور کی عدالت سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری بھی حاصل کر لی ہے اور ایڈیشنل سیشن جج شازب ڈار نے تھانہ باغبانپورہ پولیس لاہور کو حکم دیا ہے کہ مقدمے میں نامزد قوال فراز کو 13 جنوری تک گرفتار نہ کیا جائے جبکہ قوال فراز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تھانے جاکر شامل تفتیش ہوں۔
دوسری جانب والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کے ترجمان کے مطابق اس واقعہ کے بعد غفلت کے مرتکب ہونے کے الزام میں والڈ سٹی کے تین اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ’نک دا کوکا‘ نامی یہ گانا ابتدائی طور پر معروف پاکستانی گلوکار محمد اشرف عرف ملکو نے گایا تھا۔ دسمبر 2023 میں اپلوڈ ہونے والے اس گانے کے یوٹیوب پر دس ملین سے زیادہ ویوز ہیں۔
تاہم اس کے باعث بعدازاں انھیں مبینہ طور پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور جون 2024 میں انھیں لندن جانے والی ایک پرواز سے بھی آف لوڈکر دیا گیا تھا۔ بظاہر اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملکو نے اپنے اسی مشہور گانے کا ایک نیا ورژن ’فوجی کوکا‘ بھی گایا۔
شالیمار باغ میں یہ واقعہ کب پیش آیا؟
تھانہ باغبانپورہ لاہور میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شالیمار باغ میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیراہتمام ایک میوزک اینڈ کلچرل نائٹ پروگرام ’چاندنی راتوں‘ کے عنوان سے سنیچر کی شب منعقد ہوتا ہے جو کہ خالصتاً ثقافتی نوعیت کی تقریب ہوتی ہے اور اس کا مقصد ثقافت، موسیقی اور ہم اہنگی کا فروغ دنیا ہوتا ہے۔
ایف آئی آر میں انچارج شالیمار باغ نے مؤقف اپنایا کہ ’اس تقریب میں کسی قسم کے سیاسی مواد کی تشہیر یا سیاسی نعرے بازی کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم تین فروری کو قوالی نائٹ کے دوران فراز خان اور اس کے ساتھی قوالوں نے دانستہ طور پر بغیر اجازت ایک سیاسی اشتعال انگیز نغمہ گایا جس کے بول ’جیل اڈیالہ قیدی 804‘ ہوئے تھے، جسے انتظامیہ نے بند کروا دیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’اس گانے کے نتیجے میں عوامی مجمع میں جوش و اشتعال پیدا ہوا، امن عامہ کا متاثر ہونے کا خدشہ ہوا، تقریب کا غیرسیاسی اور ثقافتی مقصد سبوتاژ ہوا اور ایک سرکاری ادارے کی ساکھ، غیرجانبداری اور وقار کو شدید نقصان پہنچا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ’قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ دارانہ، قابل مذمت اور قانونی حدود سے تجاوز کے مترادف ہے۔ یہ عمل عوام کو اشتعال دلانے، عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جو کہ قابل تعزیر جرم ہے۔‘
فوجداری قوانین کے ماہرمحمد اشرف بھٹہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 سب سیکشن ون بھی عائد کی گئی ہے جو کہ عوامی فساد کو ہوا دینے کے الزام سے متعلق ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس دفعہ کے تحت جو کوئی بھی بیان، افواہ یا رپورٹ بناتا، شائع کرتا یا پھیلاتا ہے، عوام یا عوام کے کسی بھی طبقے کو خوف یا خطرے کا باعث بننے کے ارادے سے، جس سے کسی بھی شخص کو ریاست کے خلاف یا عوامی سکون کے خلاف جرم کرنے پر اکسایا جا سکتا ہے، ایسے شخص کو جرم ثابت ہونے سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔‘
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 153 اے بھی اشاروں سے یا کسی اور طریقے سے امن و امان میں خرابی کا باعث بننے سے متعلق ہے، جس کی سزا تین سال قید اور جرمانہ ہے۔
’میں غیرسیاسی ہوں، وزیر اعلیٰ پنجاب مقدمہ خارج کروائیں‘
قوال فراز خان نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی طرف سے سنیچر کی شب قوالی کےلیے مدعو کیا گیا تھا اور شالیمار گارڈن میں اُس تقریب کے دوران لگ بھگ 500 شہری موجود تھے جو کہ اُن کی قوالیاں سننے کےلیے آئے ہوئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’سب لوگ جانتے ہیں کہ میں نے کبھی سیاسی ایشوز کی طرف دھیان نہیں دیا، نہ ہی کبھی کسی سیاستدان کی تشہیری مہم کا حصہ بنا ہوں۔ میں ایک فنکار ہوں اور اپنی یہی شناخت برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔‘
فراز خان کے مطابق ’وہ اپنی پرفارمنس کا مظاہرہ کررہے تھے کہ اس دوران ایک شخص عقب سے سٹیج کے قریب آ گیا اور اس نے میرے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی اور سخت لہجے میں کہا کہ 'نک دا کوکا ، قیدی نمبر 804' والا گانا گاؤ، میں اس کی اس حرکت پر سخت پریشان ہو گیا اور دائیں بائیں دیکھا تو کوئی سکیورٹی اہلکار یاپارک انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہ آیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے اُس شخص کو ٹالنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ پارک انتظامیہ کو کہو، لیکن یوں معلوم ہو رہا تھا کہ اس شخص کے کچھ مزید ساتھی اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔ اس نامعلوم شخص نے کہا کہ اگر گانا نہ گایا تو جب تم لوگ باہر نکلو گے تو ہم تم سے نمٹ لیں گے، اب میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ میں اس کا فرمائش کردہ گانا گاتا۔‘
فراز خان کہتے ہیں کہ ’میں نے صرف دو بول گائے اور پروگرام ختم ہونے کے بعد پارک انتظامیہ کو اس شخص کے بارے میں بتا دیا تھا لیکن انھوں نے سارا ملبہ میرے اوپر ڈال دیا۔ اگر فرمائش نہ مانتے تو ایسے میں اگر میری یا میرے کسی ساتھی کی جان کو خطرہ ہوتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟‘
انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ وہ اِس واقعہ کی تحقیقات کروائیں اور اُن کے خلاف بلاجواز مقدمہ خارج کروایا جائے۔
سوشل میڈیا پر تبصرےGetty Images
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
سابق سینیٹر اور سیاسی رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس کیس کی ایف آئی آر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’قوال فراز خان کا یہ فعل انتہائی غیر ذمہ درانہ اور قابل مذمت ہے جس سے عوام میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا: ایف آئی آر کا متن۔ اپنے اوپر گول کرنا اور کِسے کہتے ہیں؟‘
جبکہ تحریک انصاف کے حامی متعدد ’ایکس‘ اکاؤنٹس نے اس معاملے کو اُن کی پارٹی کے خلاف جاری مبینہ ’کریک ڈاؤن‘ کی کڑی قرار دیا۔
صارف زاہدہ راؤ نے تبصرہ کیا کہ ’یہ کوئی مفت کا ایونٹ نہیں تھا، لوگ تین ہزار روپے فی شخص دے کر آئے تھے، پولیس کے مطابق قوال مفرور ہے اور ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا ہے، افسوسناک کام یہ ہے کہ اب جو کوئی بھی یہ گانا گائے گا یا آگے شیئر کرے گا اس پر مقدمہ درج ہو گا۔‘
عمران افضل راجہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ اس گانے سے عوام میں جوش و اشتعال پیدا کیا لہذا قوال کے خلاف سنگین مقدمہ درج کیا جائے: اسے کہتے ہیں خوف۔‘
ذیشان نامی صارف نے کہا کہ ’گانا گانے پر قوال اور ہمنواؤں کے خلاف مقدمہ۔۔۔ خوفناک صورتحال ہے۔‘
’نک دا کوکا‘ کے بعد ’فوجی کوکا‘: معروف گلوکار ملکو کو فوج کی حمایت میں مکھڑا کیوں گانا پڑا؟عمران خان سے نواز شریف تک: پاکستانی سیاست میں ’لاڈلے‘ کی اصطلاح کیوں مشہور ہوئی؟وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورہ لاہور: کیا پی ٹی آئی پنجاب کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئی اور کیا یہی اس کا مقصد تھا؟’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟