انڈیا کو مزید مسافر بردار طیاروں کی طلب، مگر کیا وہ خود انھیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 05, 2026

LightRocket via Getty Imagesدہلی اور ماسکو نے انڈیا میں ایس جے-100 طیارے بنانے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں

دنیا کی ہوا بازی کی مارکیٹ میں انڈیا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انڈیا کی کمپنیاں انڈیگو اور ائیر انڈیا پہلے ہی 90 فیصد مارکیٹ پر قابض ہیں اور اگلی دہائی میں تقریباً 1500 مزید طیارے خریدنے کا آرڈر دے چکی ہیں، یہ رجحان مسافروں کی تعداد میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

اس توسیع کا انحصار بوئنگ اور ائیربس پر منحصر ہے، یہ کمپنیاں دنیا کے 86 فیصد طیارے فراہم کرتی ہیں۔ سنہ 2024 میں ان کی جانب سے طیارے فراہم کرنے میں تاریخی تاخیر ہوئی، اس کا اثر انڈیا کے آرڈرز پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اس صورت حال سے ایک پرانے سوال نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے: کیا انڈیا کو اپنے مسافر بردار طیارے خود بنانے چاہییں؟

یہ امکان اکتوبر میں توجہ کا مرکز بنا، جب انڈیا اور روس نے ماسکو میں ایس جے-100 مسافر طیارے بنانے کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے، اس سے ملک میں طیارہ سازی کی امیدیں بڑھ گئیں۔

لیکن کیا روس سے معاہدہ کوئی حل بھی فراہم کرے گا؟

مشترکہ طیارہ سازی کے اس منصوبے کو حقیقت بننے سے پہلے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

Getty Imagesدنیا کی ہوا بازی کی مارکیٹ میں انڈیا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

ایس جے 100 دو انجنوں والا طیارہ ہے جو 103 مسافروں کے ساتھ اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ یونائیٹڈ ائیرکرافٹ کارپوریشن (یو اے سی) بناتی ہے اور اس کے مطابق کئی روسی ائیرلائنز پہلے ہی یہ طیارہ استعمال کر رہی ہیں۔

دہلی اس طیارے کو گیم چینجر قرار دے رہا ہے اور مختصر فاصلوں کی پروازوں کے لیے اسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن ماہرین اس منصوبے کی لاگت اور اس کے قابل عمل ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں، کئی باتیں تاحال غیر واضح ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ تو یہ ہے کہ کیا روسی کمپنی انڈیا میں پیداوار کا نظام قائم کر کے اسے وسعت دے پائے گی یا نہیں۔

طیارہ ساز کمپنی کے مطابق سنہ 2008 سے لے کر سنہ 2020 تک اس نے 200 ایس جے 100 طیارے فراہم کیے۔ لیکن سنہ 2022 میں صورت حال بدل گئی جب روس نے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کی۔ مغربی پابندیوں کی وجہ سے اہم پرزہ جات کی فراہمی بند ہو گئی جس کے بعد کمپنی کو 40 نظام بدلنے پڑے اور سنہ 2023 میں ایسا نظام لایا گیا جو درآمدی اشیا پر انحصار نہیں کرتا۔

یورپ میں محفوظ ہوا بازی یقینی بنانے والے ادارے نے طیارے کا سرٹیفیکیٹ منسوخ کر دیا، جس کی وجہ سے ایس جے 100 اور دوسرے روسی طیاروں پر یورپی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی لگ گئی۔

انڈیا طویل عرصے سے اپنے مسافر طیارے مقامی سطح پر تیار کرنے کا خواب دیکھتا آیا ہے لیکن ابھی تک اسے زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

مشکوک شواہد، متنازع اڑان اور کریڈٹ لینے کی دوڑ: کیا واقعی ہوائی جہاز رائٹ بردرز کی ایجاد تھی؟پی آئی اے کی نجکاری، قیاس آرائیاں اور حقیقت: کیا حکومت نے قومی ایئرلائن کو سستے داموں فروخت کر دیا؟’میں نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا‘: ایک چھوٹا سا پرندہ ہوائی جہاز کو کیسے تباہ کر سکتا ہے؟کھلونا پستول، کپڑے میں لپٹا گیند اور 600 روپے: انڈین ایئر لائنز کے ہائی جیکرز جو رکنِ اسمبلی بنے

سنہ 1959 میں حکومت نے نیشنل ایروسپیس لیباریٹریز (این اے ایل) بنائی تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے غیر فوجی طیارے تیار کیے جا سکیں۔ اس ادارے نے دو نشستوں والے ہنسا اور پانچ نشستوں والے تربیتی طیارے بنائے، لیکن بڑے مسافر طیارے ایک خواب ہی رہے۔

سنہ 1960 میں انڈیا نے غیر ملکی لائسنس کے تحت مسافر طیارے بنائے۔ انڈیا کے سرکاری ادارے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے درجنوں کی تعداد میں برطانیہ کے ڈیزائن کردہ ایورو 748 جیٹ بنائے جو تجارتی اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتے رہے۔

سنہ 1980 کی دہائی میں انڈیا نے جرمن کمپنی ڈورنیئر کے ساتھ مل کر 19 نشستوں والے مسافر جیٹ بنائے، ان میں سے کچھ آج بھی عسکری اور محدود شہری پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اس رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے انڈیا نے مقامی طور پر چھوٹے مسافر طیارے ڈیزائن کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

Hindustan Times via Getty Imagesگذشتہ ماہ انڈیگو کی جانب سے پروازیں منسوخ کیے جانے کے بعد ہزاروں مسافر مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے

سنہ 2000 میں انڈیا نے روس کے ساتھ معاہدہ کیا تاکہ نیشنل ایروسپیس لیباریٹریز کے 15 نشستوں والے طیارے ساراس بنانے میں مدد لے سکے۔ طیارے نے مئی 2004 میں اپنی پہلی اڑان بھری، لیکن سنہ 2009 میں یہ منصوبہ اس وقت روک دیا گیا جب دوسرے پروٹوٹائپ (نمونے) کو حادثہ پیش آیا اور تین پائلٹ ہلاک ہو گئے۔

کئی سال بعد انڈین حکومت نے یہ منصوبہ دوبارہ شروع کیا، اس پروٹوٹائپ کا نام ساراس MK2 ہے، یہ 19 نشستوں والا طیارہ ہے لیکن ابھی تک اسے سرٹیفیکیشن جاری نہیں کی گئی۔

ایک اور منصوبہ ریجنل ٹرانسپورٹ ائیرکرافٹ (آر ٹی اے) بھی برسوں سے سست روی کا شکار ہے۔ ایس جے 100 کے مقابلے پر نوے نشستوں والا یہ طیارہ بنانا کس حد تک قابل عمل ہے، اس پر رپورٹ سنہ 2011 میں جمع کرائی گئی تھی اور پھر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں طویل عرصے سے طیارہ سازی کے راستے میں رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ این اے ایل کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر ابھے پاشلکار کے مطابق ابھی کچھ وقت پہلے تک تو مقامی سطح پر مانگ کی بھی کمی تھی، تربیت یافتہ افراد کی کمی اور مقامی سطح پر ناسازگار حالات سے یہ شعبہ زیادہ ترقی نہ کر سکا۔

ان کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی طیارہ سازوں کے ساتھ شراکت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

تو کیا ایس جے 100 منصوبہ واقعی گیم چینجر بن سکتا ہے؟ فی الحال ایسا ہی لگتا ہے۔

ایچ اے ایل کے سابق ترجمان گوپال سوتر کے مطابق انڈیا کے اپنے منصوبے مکمل ہونے میں بہت تاخیر ہے لہذا ایس جے 100 ایک قابل عمل حل فراہم کرتا ہے۔

یہ منصوبہ روس کے لیے بھی اہم ہے، اگر ایس جے 100 کو قبولیت ملتی ہے تو اس سے ثابت ہو گا کہ مغربی ٹیکنالوجی کے بغیر بھی غیر فوجی طیارے بنائے جا سکتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ اس ڈیل میں انڈیا کو فائدہ ہو گا تو کسی چیز سے دستبردار بھی ہونا ہو گا، اس ڈیل سے طیارہ سازی میں انڈین عزائم پر بھی سوال اٹھتے ہیں، لیکن گوپال سوتر کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ روس کا کردار انڈیا کے ثابت قدم حامی کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ُپابندیوں سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن دونوں ممالک نے اس کا اندازہ پہلے ہی لگا لیا ہو گا۔‘

انڈیا میں ہوابازی کو درپیش مسائل میں جہازوں کی فراہمی صرف ایک مسئلہ ہے؛ اس صنعت کو فروغ کے لیے تجربہ کار افراد کی بھی ضرورت ہو گی۔

اسی مہینے کے آغاز میں انڈیگو نے ہزاروں پروازیں منسوخ کیں کیوں کہ پائلٹس کی ڈیوٹی لگانے کی منصوبہ بندی ناقص تھی۔ اس وجہ سے دس ہزار سے زیادہ مسافر کئی گھنٹے حتیٰ کے کئی دن تک پھنسے رہے۔

مشکوک شواہد، متنازع اڑان اور کریڈٹ لینے کی دوڑ: کیا واقعی ہوائی جہاز رائٹ بردرز کی ایجاد تھی؟’میں نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا‘: ایک چھوٹا سا پرندہ ہوائی جہاز کو کیسے تباہ کر سکتا ہے؟کھلونا پستول، کپڑے میں لپٹا گیند اور 600 روپے: انڈین ایئر لائنز کے ہائی جیکرز جو رکنِ اسمبلی بنےانڈیا کے ’26 منزلہ عمارت جتنے طویل‘ اور اربوں روپے مالیت کے نئے جنگی جہاز ’ارنالہ‘ میں خاص کیا ہے؟پی آئی اے کی نجکاری، قیاس آرائیاں اور حقیقت: کیا حکومت نے قومی ایئرلائن کو سستے داموں فروخت کر دیا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More