’جادوئی محلول‘ بنانے کی کہانی: وہ سیکریٹری جنھوں نے اپنی غلطیوں کے سبب لاکھوں ڈالر کمائے

بی بی سی اردو  |  Jan 17, 2026

BBC

ایک دفعہ کا ذکر ہے، جب انٹرنیٹ نہیں تھا۔۔

انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے وجود سے پہلے دفاتر میں خطوط، ریکارڈ اور اہم دستاویزات کو ٹائپ رائٹرز کے ذریعے لکھا جاتا تھا، جس میں غلطی کی صورت میں ڈیلیٹ کا کوئی بٹن نہیں تھا۔

اگر آپ سے کوئی غلطی ہو جاتی تو اس میں ترمیم کا بھی کوئی آپشن نہیں تھا، آپ کو نئے سرے سے پورا مضمون دوبارہ ٹائپ کرنا پڑتا تھا۔

لیکن 1950 کی دہائی میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں سیکریٹری کے طور پر کام کرنے والی خاتون کی بدولت آنے والے عرصے میں چیزیں بہت آسان ہونے والی تھیں۔

اپنے باورچی خانے کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بیٹی گراہم نے پہلی بار اُس سفید مائع کو ایجاد کیا، جس کی مدد سے آپ کاغذ پر ہونے والی غلطیوں کو مٹا سکتے تھے۔ (1965 تک غلطیاں مٹانے والا یورپی برینڈ ٹپ ایکس متعارف نہیں کروایا گیا تھا)۔

بیٹی گراہم کی اس ایجاد نے نہ صرف دُنیا بھر کے دفاتر میں ٹائپ رائترز کوغلطیاں درست کرنے کا ایک طریقہ دیا، بلکہ یہ بہت جلد پینسل کیس کا حصہ بن گیا اور اس کی وجہ سے بیٹی گراہم کروڑ پتی بن گئیں۔

’میں صرف ایک اچھی سیکریٹری بننے کی کوشش کر رہی تھی‘

دوسری جنگِ عظیم کے کچھ عرصے بعد بیٹی گراہم کے پہلے شوہر نے انھیں اور ان کے کمسن بیٹے کو چھوڑ دیا، جس کے بعد اپنا اور اپنے بچے کا پیٹ پالنے کے لیے اُنھیں خود کام تلاش کرنا پڑا۔

شادی سے پہلے بھی وہ ایک جگہ پر بطور سیکریٹری کام کر رہی تھیں اور ٹائپ رائٹر کا استعمال جانتی تھیں۔ لیکن اب اُنھیں ٹیکساس بینک میں نوکری ملی، جہاں ایک جدید الیکٹرک ٹائپ رائٹرر اُن کا منتظر تھا، جس پر اُنگلیاں چلانا اُن کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔

اس ٹائپ رائٹرز کے بٹنز بہت حساس تھے، جس کی وجہ سے بیٹی گراہم سے ٹائپنگ کے دوران غلطیاں ہونے لگیں، جنھیں حذف کرنا ممکن نہیں تھا۔

ایک مصروف سیکریٹری اور کام کے دباؤ کی وجہ سے اُن کے پاس نئے سرے سے مضمون لکھنا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اُن کے پاس وقت تھا۔

BBCجب کچن اور دُنیا میں آگ لگ گئی

بیٹی اپنی آرٹسٹ ماں کے ساتھ بڑی ہوئی تھیں، وہ ڈرائنگ اور پینٹنگز بنانا پسند کرتی تھیں اور جانتی تھیں کہ فنکار صرف اپنی غلطیوں پر پینٹ کرتے ہیں۔ اس نے اُنھیں ایک نیا خیال دیا۔

بیٹی کے بقول ’میں گھر گئی اور ایک بوتل لی اور ایک محلول میں سفید روغن ڈالا اور اپنا چھوٹا سے واٹر کلر برش لے کر دفتر گئی۔ اس محلول کو استعمال کرتے ہوئے میں نے اپنی غلطیوں کو درست کرنا شروع کیا۔‘

بیٹی نے تسلیم کیا کہ شروع میں یہ ایک سادہ سے منصوبہ تھا اور وہ دُنیا بھر میں تقسیم کے لیے کوئی نئی چیز ایجاد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں اور نہ ہی اُن کے ذہن میں یہ تھا کہ وہ اس سے لاکھوں ڈالرز کمائیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں صرف اس کے ذریعے ایک بہتر سیکریٹری بننے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

بیٹی نے اس محلول کے استعمال سے اپنی ٹائپنگ کی غلطیوں کو درست کرنا شروع کیا اور اُن کے باس کو پتہ ہی نہیں چل سکا کہ ڈرافٹ میں کسی محلول کو استعمال کر کے درستگی کی گئی ہے۔

بعدازاں بیٹی نے اپنی سیکریٹری دوستوں کو یہ ’جادوئی محلول‘ دکھایا تو اُنھوں نے بھی بیٹی سے کہا کہ یہ ہمیں بھی چاہیے۔ لیکن بیٹی اسے مزید بہتر بنانا چاہتی تھیں۔

وہ یہ جاننا چاہتی تھیں کہ کاغذ میں مائع کیسے جذب ہوتا ہے اور اسے تیزی سے کیسے خشک کرتا ہے۔ وہ مختلف فارمولے تیار کرنے کے لیے لائبریری میں گئیں اور مختلف کیمیکل کمپنیوں سے بھی مصنوعات کے نمونے لیے، جس کے بعد وہ ایک اور تجربے کی قابل ہوئیں۔

وہ گھڑی جو موجد کو لاکھوں میں پڑی’سمائلی فیس‘ کس نے ایجاد کیا اور یہ کیسے منافع بخش کاروبار بناجب دوست سے لگائی گئی شرط کامیاب کاروبار میں بدل گئی’دی ٹائم سیلر‘: وہ خاتون جنھوں نے لوگوں کو ’درست وقت‘ بتانے کا کاروبار کر کے پیسے کمائے

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اس فارمولے کو لے کر باورچی خانے میں گئی۔۔میں کیمیا دان نہیں تھی اور اسی وجہ سے مجھ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں اور ایک وقت میں میرے باورچی خانے میں آگ لگ گئی۔‘

آخرکار وہ ایک ایسا سفید محلول تیار کرنے میں کامیاب ہو گئیں، جسے اُنھوں نے نیل وارنیش کی چھوٹی بوتلوں میں پیک کیا اور ساتھ ایک چھوٹا سے برش متعارف کرایا۔ اس کے بعد بیٹی اور ’لیکویڈ پیپر‘ کے نام سے اس محلول کی ہر طرف دُھوم تھی۔

بیتی نے دفاتر کو سٹیشنری کی اشیا فراہم کرنے والے میگزینز کو کچھ نمونے بھیجے، جس کے بعد اُنھیں تیزی سے آرڈرز ملنے لگے۔

بیٹی کا کہنا تھا کہ ’میں سارا دن بطور سیکریٹری کام کرتی اور کبھی کبھار رات بھر ڈاک کا جواب دینے کے لیے کام کرتی۔‘

اکیلی ماں سے عالمی کاروباری خاتون تک

سنہ 1962 تک بیٹی ایک ہفتے میں تقریباً ایک ہزار بوتلیں فروخت کر رہی تھیں۔ اُنھوں نے ملازمت چھوڑ دی اور گھر سے ہی مدد لی۔

اُن کے بقول ’میرا 15 سالہ بیٹا اور اس کے دوست میرے ساتھ کام کر رہے تھے، وہ سکول سے آنے کے بعد کام کرتے اور میں اُنھیں فی گھنٹہ ایک ڈالر ادا کرتی تھی۔‘

بیٹی کی زندگی عروج پر تھی، اس محلول کی تیاری اب اُن کے باورچی خانے کے بجائے باغیچے میں ایک ٹریلر میں ہو رہی تھی۔ اس دوران اُنھوں نے رابرٹ گراہم نامی شخص سے دوسری شادی کر لی، جو اس کاروبار میں بیٹی کو مدد دینے لگے۔

رابرٹ گراہم نے فون بک میں دفتروں کو سپلائی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے رابطے کیے اور اُنھیں یہ فروخت کرنے لگے۔

بیٹی کے بقول چھوٹے دفاتر میں زیادہ سیکریٹریز دفاتر میں آنے والے سامان کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں اور سیکریٹریز اس ’لیکویڈ پیپر‘ کو پسند کر رہے تھے کیونکہ وہ ان کے کام کو آسان بنا رہا تھا۔

سنہ 1965 تک کمپنی کے نو ملازمین تھے اور ایک خودکار سپلائی تھی۔ اُنھوں نے کینیڈا اور بیلجیئم میں بھی کارخانے قائم کر لیے۔

سنہ 1973 تک وہ اکیلی ماں جس نے اپنے باورچی خانے کو تقریباً اُڑا دیا تھا، اُنھوں نے ایک عالمی کاروبار قائم کر لیا، جس میں ایک سال میں ڈھائی کروڑ بوتلیں فروخت ہوئیں۔

BBCطلاق اور کمپنی کی فروخت کا معاہدہ

ایک کامیاب کاروبار بنانے کے باوجود بیٹی کی دوسری شادی کا اختتام بھی طلاق پر ہوا۔ رابرٹ گراہم نے 1975 میں اُنھیں کمپنی سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے ’لیکوڈ پیپر‘ کے فارمولے کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس سے مستقبل میں اُن کے لیے رائلٹی کا مسئلہ بھی بن سکتا تھا۔

لیکن وہ کمپنی پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ سنہ 1979 میں بیٹی نے اپنی کمپنی کو جیلیٹ کو چار کروڑ 70 لاکھ ڈالرز میں فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیا۔

بیٹی اپنی کہانی سے دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے بھی کوشاں تھیں۔ اُنھوں نے اپنی کمپنی کے دفاتر کو بچوں کی دیکھ بھال، ایک لائبریری اور گرین ایریاز کو شامل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا۔

اُنھوں نے خواتین کی فلاح و بہبود اور کاروبار میں اُن کی دلچسپی بڑھانے کے لیے چیریٹی کا کام بھی شروع کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتی ہوں کہ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کی ملازمت آپ کو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں دے رہی تو آپ غلط ہیں۔۔۔آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ آپ جہاں ہیں، وہاں ترقی کریں۔‘

BBCبیٹی کا بیٹا مائیک نیسمتھ (سب سے دائیں جانب)اُن کے کام کے جذبے نے کئی نسلوں کو متاثر کیا

ایک شخص جس نے بیٹی کے شانہ بشانہ کام کیا، وہ بیٹی کا بیٹا مائیکل تھا، جو اپنی ماں کے ساتھ مل کر باورچی خانے میں باکس پیک کرتا تھا۔

سنہ 1960 میں اُنھوں نے اُس وقت کے مشہور بینڈ ’دی مونکیز‘ میں شمولیت اختیار کی اور اپنی ماں کی جانب سے ملنے والی تخلیتی صلاحیتوں کا استعمال کیا۔

ٹیکساس سٹیٹ ہسٹوریکل ایسوسی ایشن سے وابستہ لوری ای جسنسکی کہتی ہیں کہ ’لوگ سنہ 1950 کی دہائی کی خواتین کو صرف گھریلو خواتین کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

لیکن اُن کے بقول ہم دیکھتے ہیں کہ اس عرصے میں بھی خواتین کام کی جگہوں پر اپنی مخلصانہ کوششوں سے بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔

لوری کہتی ہیں کہ اس وقت ان خواتین نے اپنے کریئر کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کے لیے بھی سخت محنت کی اور اپنے کاروباری جذبے سے اگلی نسل کو متاثر کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’بیٹی نے واضح طور پر اپنے بیٹے مائیکل کو متاثر کیا، جس نے 1960 کی دہائی کے بینڈ دی مونکیز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ میوزک ویڈیو پروڈکشن انڈسٹری کے ایک اہم رُکن تھے۔

مائیکل اپنی والدہ کے سب سے بڑے پرستار تھے۔ وہ مختلف میوزک ویڈیوز میں بھی نمودار ہوتی رہیں اور مائیکل نے اپنی شہرت کو اپنی والدہ کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے بھی استعمال کیا۔

مائیکل کا کہنا تھا کہ ’جب میں دی مونکیز کے لیے میوزک بنا رہا تھا تو ایک بہت ہی ہوشیار سیکریٹری بھی ایک اور نمبر ون ہٹ کے ساتھ آ رہی تھیں۔ اُنھوں نے کاغذ پر غلطیاں درست کرنے والا محلول تیار کیا۔۔وہ میری ماں ہیں۔۔ماں آپ نے کیا زبردست ایجاد کی۔‘

بیٹی گراہم کا انتقال 1980 میں 56 سال کی عمر میں ہوا، اُنھوں نے اپنی آدھی جائیداد اپنے بیٹے اور باقی خیراتی اداروں کے نام کر دی۔

بیٹی نے کہا تھا کہ وہ ایک میراث چھوڑنا چاہتی ہیں: ’میری جائیداد وہی ہوگی جو میں دوسروں کے لیے کر سکتی ہوں۔ میں اپنے پیسے کو لوگوں کی ترقی کے ذریعے کے طور پر دیکھتی ہوں۔‘

آج جدید دُنیا میں کمپیوٹر اور ڈیلیٹ کے آپشنز کے باوجود یہ سفید محلول سٹیشنری کی دکانوں میں دستیاب ہے۔

وہ خصوصیت جو خواتین کے کیریئر کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے’دی ٹائم سیلر‘: وہ خاتون جنھوں نے لوگوں کو ’درست وقت‘ بتانے کا کاروبار کر کے پیسے کمائےکیا ’ٹائم ٹریول‘ واقعی ممکن ہے اور اس پر علم طبیعات کیا کہتی ہے؟عورتیں اگر گھر کا کام کرنا چھوڑ دیں تو کیا ہوگا؟خواتین کو ترقی کے لیے مردوں سے زیادہ محنت کیوں کرنی پڑتی ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More