کیا عورتیں فطری طور پر مردوں سے زیادہ ہمدرد اور چہرہ شناس ہوتی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 19, 2026

Getty Imagesایک نمایاں انسانی خصوصیت جسے اکثر صنفی رنگ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے وہ ہمدردی ہے

سائنسی تحقیق صدیوں پرانے صنفی تصورات، خاص طور پر ہمدردی کے بارے میں، کو چیلنج کر رہی ہے اور مردانگی کو سمجھنے کے نئے زاویے سامنے لا رہی ہے۔

سنہ 1705 میں فلسفی میری ایسٹل نے لکھا کہ ماضی میں جب عورتیں بڑے کارنامے سرانجام دیتی تھیں تو غلط طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ’وہ عورتیں نہیں تھیں جنھوں نے یہ عظیم کام کیے، بلکہ وہ مرد تھے جو عورتوں کے لباس میں تھے۔‘

حتیٰ کہ ملکہ الزبتھ اول نے بھی کہا تھا کہ وہ ملک پر بادشاہ کی طرح حکومت کریں گی، باوجود اس کے کہ اُن کا جسم ’صنف نازک‘ والا ہے — گویا حکمرانی لازماً مردانہ راستہ ہونا چاہیے۔

اگرچہ یہ مثالیں ماضی کی ہیں، لیکن آج بھی کامیاب اور طاقتور فرد ہونے کے معنی میں صنفی تعصبات موجود ہیں۔

آج کے دور میں بھی ہم عام طور پر ہمدردی جیسی خصوصیات کو فطری طور پر نسوانی اور غلبہ یا خود اعتمادی جیسی خصوصیات کو مردانہ سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہجب مرد اور عورت ایک جیسا رویہ دکھائیں، تو مرد کو ’پراعتماد‘ جبکہ عورت کو ’جارحانہ‘ کہا جاتا ہے۔

ایک نمایاں خصوصیت جو اکثر اس طرح کے صنفی رنگ کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے وہ ہمدردی ہے۔ عورتوں کو فطری طور پر زیادہ ہمدرد سمجھا جاتا ہے، جبکہ مرد اگر زیادہ ہمدردی دکھائیں تو انھیں کمزور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیا واقعی عورتیں فطری طور پر مردوں سے زیادہ ہمدرد ہیں، یا ہمیں سماجی طور پر اس طرح بنایا گیا ہے؟

ایسے صنفی تصورات کے واضح اثرات بچوں کی پرورش، کام کی جگہ کا ماحول اور قیادت کے انداز سے جڑے ہیں۔ لیکن جو کم نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ تعصبات بہت جلد شروع ہو جاتے ہیں، اور یہ تصورات ہماری توقعات کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور دوسروں کے رویے پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں۔

اہم ہارمونز اور ان کا کردار

ہمدردی میں دوسروں کے خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ اسے دو پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے: شعوری ہمدردی: یعنی دوسروں کے جذبات کو پہچاننے اور ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت۔ اور جذباتی ہمدردی: یعنی جب ہم کسی کے خیالات اور جذبات پر براہِ راست جذباتی ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔

سائنسدان ہمدردی کو جانچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، جن میں سوالنامے اور عملی تجربات شامل ہیں۔

کافی عرصے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اوسطاً عورتیں مردوں کے مقابلے میں ہمدردی کے ٹیسٹوں میں زیادہ سکور کرتی ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے کلینیکل ماہرِ نفسیات سائمن بیرن۔کوہن کا کہنا ہے کہ عورتوں کا دماغ ’زیادہ تر ہمدردی کے لیے قدرتی طور پر بنا ہوا ہے‘، جس کی وجہ سے وہ دیکھ بھال کے کردار کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں، جبکہ مردوں کا دماغ ’زیادہ تر نظام کو سمجھنے اور بنانے کے لیے بنا ہوا ہے۔‘

بارون کوہن کہتے ہیں کہ اگرچہ سماجی عوامل ہمدردی پر واضح اثر ڈالتے ہیں، لیکن ان کی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ رحمِ مادر میں ہارمونز کی موجودگی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سنہ 2006 کی ایک تحقیق، جس میں چھ سے نو برس کے 200 سے زائد بچوں کو شامل کیا گیا، یہ پایا گیا کہ حمل کے دوران امینیوٹک فلوئڈ میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح۔، جو لڑکوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے، براہِ راست اس بات سے جڑی ہے کہ بچے ’سسٹمائزنگ‘ یعنی اصولوں یا پیٹرنز کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کے علمی ٹیسٹ میں کیسے کارکردگی دکھاتے ہیں۔

دراصل، رحمِ مادر میں ٹیسٹوسٹیرون کی موجودگی بچے کے ٹیسٹ سکورز کی پیش گوئی کرنے میں جنس سے بھی زیادہ مضبوط عامل ثابت ہوئی۔

اسی طرح سنہ 2007 کی ایک تحقیق نے یہ بھی بات بھی سامنے آئی کہ رحمِ مادر میں ٹیسٹوسٹیرون کی موجودگی ہمدردی کے ٹیسٹ سکورز کے ساتھ اُلٹی نسبت رکھتی ہے۔

بارون کوہن کے مطابق ’یہ بات واضح ہے کہ ہمدردی یا سسٹمائزنگ جیسی خصوصیات حیاتیات اور سماجی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہیں۔‘

ہمدردی کے بارے میں اہم سوال: کیا یہ جینیاتی طور پر موجود ہے؟

نیورو سائنسدان جینا رپن جیسے کئی دیگر محققین ہارمونز سے متعلق اس نظریے کو مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جینا کہتی ہیں کہ ’یہ خیال کہ تمام عورتیں فطری طور پر زیادہ ہمدرد ہیں، دراصل نام نہاد ’فی میل برین مِتھ‘ کی ایک شکل ہے۔‘

جینا رپن یاد دلاتی ہیں کہ چھوٹے بچوں کے دماغ بیرونی اثرات کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔

ایک اہم تحقیق میں، جس میں ہمدردی کے ٹیسٹوں میں صنفی فرق پایا گیا، یہ فرق زیادہ بڑا نہیں تھا۔ 57 ممالک میں سے 36 میں عورتیں زیادہ ہمدرد نکلیں، لیکن 21 ممالک میں سکور تقریباً ایک جیسے تھے۔ محققین نے خود کہا کہ وہ اس کی وجوہات کا تعین نہیں کر سکتے۔

مزید یہ کہ اگرچہ عورتیں اوسطاً ہمدردی کے مطالعوں میں کچھ زیادہ سکور کرتی ہیں، لیکن مردوں اور عورتوں کے اندرونی فرق (یعنی ہر جنس کے اندر پائے جانے والے تنوع) دونوں کے درمیان فرق سے کہیں زیادہ ہے۔

جینا رپن کہتی ہیں ’اگر آپ مردوں اور عورتوں کی آبادی میں ہمدردی کے سکورز کے پھیلاؤ کو دیکھیں تو یہ بہت وسیع ہے۔‘

نوجوان مردوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا مگر مدد مانگنے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ ناک کے ذریعے سانس لینے کی ’سُپر پاور‘ جو آپ کی روزمرہ زندگی کو بدل سکتی ہےمیں نے خواتین کے دماغ کا 20 سال مطالعہ کرنے کے بعد کیا سیکھا؟’عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی، اس کا اپنا وجود ہے‘

اکثر کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں اور عورتیں دوسروں کے چہروں کو زیادہ بہتر طور پر پہچانتی ہیں، جو ہمدردی کے لیے ایک اہم صلاحیت ہے۔ حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ یہ رجحان پیدائشی نہیں ہے۔ سنہ 2025 میں شائع ہونے والی ایک میٹا-انیلسز میں 31 مطالعات اور 40 الگ الگ تجربات کا جائزہ لیا گیا، جن میں دیکھا گیا کہ ایک ماہ کے لڑکے اور لڑکیاں دوسروں کے چہروں کو کیسے دیکھتے ہیں، کیا وہ دوسروں کے رونے پر روتے ہیں، اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے بارے میں کتنے چوکنے ہوتے ہیں۔ ان تمام پیمانوں میں، جنس سے قطع نظر، بچوں میں سماجی آگاہی اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

اسی طرح سنہ 2018 کی ایک بڑی جینیاتی تحقیق، جس میں 46,000 سے زائد شرکا نے سوالنامہ مکمل کیا اور ڈی این اے کے نمونے فراہم کیے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جینز کسی شخص کی ہمدردی کی سطح میں کردار ادا کرتے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے نیوروڈیولپمنٹل ریسرچ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اس تحقیق کے مصنف ورُن واریئر نے اس وقت وضاحت کی تھی ’چونکہ افراد کے درمیان ہمدردی کی سطح میں فرق کا صرف دسواں حصہ جینیات سے متعلق ہے، اس لیے غیر جینیاتی عوامل کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس ماحول میں کوئی شخص پروان چڑھتا اور زندگی گزارتا ہے، وہ بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہمدردی کی سماجی تربیت

عورتوں کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ ہمدردانہ خصوصیات ظاہر کرتی ہیں، لیکن کئی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ فطری نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کو بچپن سے ہی اپنی جذبات پر عمل کرنے اور دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دینے کی سماجی تربیت دی جاتی ہے۔

لڑکیوں کو اکثر ایسے کھلونے دیے جاتے ہیں جو نرم اور پرورش دینے والی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ لڑکوں کو اوزار اور گاڑیوں جیسے کھلونوں سے کھیلنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

جینا رپن کہتی ہیں کہ ’چھوٹی بچیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ نرمی کا رویہ اختیار کریں اور سخت یا بدتمیز نہ ہوں، اور یہ آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔‘

کئی مطالعات نے یہ بھی دکھایا ہے کہ طاقت ہمدردی کو بگاڑ دیتی ہے اور لوگوں کو اسے محسوس کرنے سے روکتی ہے۔ اپنی کتاب ’بریڈ ونرز‘ میں، میں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ چونکہ مرد تاریخی طور پر عورتوں کے مقابلے میں زیادہ طاقت رکھتے رہے ہیں، اور آج کے دور میں بھی کاروبار اور سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے وہ ہمدردی کم محسوس کرنے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔

دوسری طرف، مالی طور پر کمزور افراد کو دوسروں کے جذبات کو پڑھنے میں بہتر پایا گیا ہے۔

ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ وہ افراد جنھوں نے خود کو ’کم سماجی حیثیت، کم آمدنی اور نچلے طبقے سے وابستہ ثقافتی گروہوں‘ کا حصہ سمجھا، دوسروں کے جذبات کو بہتر طور پر پہچاننے میں کامیاب رہے۔

اس طرح، عورتوں کا ہمدردی میں زیادہ سکور کرنا اس ضرورت سے جڑا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی نسبتاً کمزور سماجی حیثیت کے باعث طاقتور افراد کے جذبات کو زیادہ باریکی سے سمجھیں۔

ہمدردی ایک قابلِ تغیر خصوصیت ہے

نیورولوجسٹ نیتھن سپرینگ، جو کینیڈا میں میک گل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، نے بی بی سی کے پروگرام دی ڈاکیومینٹری پوڈ کاسٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمدردی سیکھی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا ’جب ہم جذباتی تجربات کی وسعت کو سمجھ لیتے ہیں، تو ہم اس پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، دوسروں کے جذبات کو پہچاننا سیکھ سکتے ہیں، اور اپنی ہمدردی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ جامد نہیں بلکہ زندگی بھر ایک متحرک چیز ہے۔‘

سنہ 2023 کی ایک نیورولوجیکل تحقیق نے واضح طور پر دکھایا کہ جب مردوں اور عورتوں کو تکلیف دہ یا غیر جانبدار چہروں کی تصاویر دکھائی گئیں، تو دونوں کے دماغی لہریں تقریباً ایک جیسا ردِعمل ظاہر کرتی ہیں۔ لیکن جب شرکا نے سوالنامے بھرے جن میں انھوں نے اپنی ہمدردی کی سطح کو درجہ دیا، تو اوسطاً مردوں کے سکور عورتوں سے کم تھے۔

اس گروپ میں جن مردوں کو یہ سوالنامہ بھرنے سے پہلے یہ معلومات دی گئی تھیں کہ مرد بھی دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور خیال رکھنے میں فطری طور پر ’اچھے‘ ہوتے ہیں، وہاں صنفی فرق ختم ہو گیا اور مردوں نے عورتوں جتنی ہی ہمدردی ظاہر کی۔

یہ نتائج نہ صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خود رپورٹ کردہ ہمدردی کے تجربات کو ذاتی اور سماجی تعصبات سے الگ کرنا مشکل ہے، بلکہ یہ اس مفروضے کو بھی تقویت دیتے ہیں کہ کسی شخص کی توقعات اور محرکات اس کی ہمدردی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

جینا رپن کہتی ہیں کہ ’خواتین زیادہ ہمدرد دکھائی دیتی ہیں جب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ہمدردی کی سطح کو جانچا جا رہا ہے۔ یہ ایک سماجی طور پر قابلِ قبول خصوصیت ہے، اس لیے وہ زیادہ سکور کرتی ہیں۔‘

ایک تحقیق میں پایا گیا کہ عورتیں صرف اس وقت مردوں سے بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں جب انھیں پہلے یہ کہا جائے کہ وہ سوچیں کہ وہ خود کیسا محسوس کرتی ہیں۔ اگر انھیں اس طرح توجہ دلائی نہ جائے، تو صنفی فرق نظر نہیں آتا۔ اور جب محققین نے شرکا کو دوسروں کے جذبات کو درست طور پر پہچاننے پر مالی انعام کی پیشکش کی، تو دونوں جنسوں میں ہمدردی کی درستگی بہتر ہو گئی۔ شرکا نے آسانی سے ہمدردی سیکھ لی کیونکہ ایسا کرنے پر انعام ملنا تھا۔

یونیورسٹی آف اوریگن کی ماہرِ نفسیات اور اس تحقیق کی شریک مصنف سارہ ہاجز تجویز کرتی ہیں کہ عورتیں زیادہ درست ہمدردی اس لیے ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ان کی فطری صلاحیت نہیں بلکہ سماجی توقعات انھیں ایسا کرنے پر زیادہ متحرک کرتی ہیں۔

سارہ ہاجز کے مطابق ’ہمیں ہمدردی کو ایک جامد خصوصیت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایک ایسے عمل کے طور پر سمجھنا چاہیے جو مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے، جیسے جسمانی حرکت، گفتگو، دقیانوسی تصورات، ذاتی تجربات اور سابقہ تعلقات۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب لوگ زیادہ متحرک ہوتے ہیں کہ جانیں دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے یا محسوس کر رہا ہے، تو وہ اس کو سمجھنے کے لیے زیادہ ذرائع استعمال کرتے ہیں۔‘

ہمدردی میں تعصب کے سنگین نتائج

سارہ ہاجز کہتی ہیں کہ کم بات کی جاتی ہے کہ ہمدردی صرف ایک نرم صلاحیت نہیں جو اچھے مقاصد کے لیے استعمال ہو، بلکہ اسے دوسروں کو قابو میں کرنے یا استحصال کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق مثال کے طور پر، مذاکرات میں اگر آپ کو دوسرے شخص کی آخری حد معلوم ہو، تو آپ بہتر مذاکرات کار بن جاتے ہیں۔

لیکن بالآخر، ہمدردی کے گرد موجود توقعات اور اسی طرح کے عوامل معاشرے میں عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج عورتوں اور مردوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

عورتوں کو قیادت کی صلاحیت رکھنے کے امکان میں مردوں سے کم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہم عام طور پر لیڈروں کو غالب اور پُراعتماد ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔۔ وہ خصوصیات جو عموماً مردانگی سے جوڑی جاتی ہیں۔

جب بات تنہائی کی آتی ہے تو عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ امکان رکھتی ہیں کہ وہ اپنے سماجی نیٹ ورک سے مدد حاصل کریں۔ اس کے برعکس، سماجی تنہائی ایک معروف خطرہ ہے جو خودکشی کی کوشش سے جڑا ہوا ہے، اور اس کی شرح مردوں میں کہیں زیادہ ہے۔

آئرلینڈ کی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی ڈبلن کے ماہرِ عمرانیات نیئل ہینلن کے مطابق خوش قسمتی سے مردوں اور عورتوں میں جذباتی صلاحیتوں کی اہمیت کے بارے میں بیانیہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔ اس میں دوسروں کے لیے ہمدردی اور دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کی اہمیت بھی شامل ہے۔

نیئل ہینلن کہتے ہیں کہ عمومی طور پر مردوں اور لڑکوں کو اس طرح سماجی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ دیکھ بھال کو عورتوں اور لڑکیوں کی طرح نہ سمجھیں، اور یہ مرد ہونے کے سفر کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

وہ مزید وضاحت کرتے ہیں ’وہ خود کو والد کے طور پر ضرور تصور کرتے ہیں، لیکن یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بنیادی دیکھ بھال کرنے والے ہوں گے۔‘

لیکن معاشرہ پہلے ہی اس سمت میں بدل رہا ہے کہ زیادہ مرد دیکھ بھال کی ذمہ داریاں قبول کریں اور زیادہ واضح طور پر ہمدردی دکھائیں۔ مرد آج کل بچوں کے ساتھ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہتے ہیں۔

نیئل ہینلن کے مطابق مردوں کو زیادہ ہمدرد اور دیکھ بھال کرنے والا بنانے کے لیے جو کام کیا جا رہا ہے، وہ ایک نئی قسم کی مردانگی کے دروازے کھولے گا۔۔ ایسی مردانگی جو خودمختار اور طاقت پر مبنی فرد کے بجائے باہمی انحصار اور ہمدردی پر زور دیتی ہے۔

نیئل ہینلن کہتے ہیں کہ ’بہت سی تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ یہ طریقہ بہت بہتر ہے۔ مردوں، عورتوں اور بچوں سب کے لیے یہ اچھا ہے۔‘

میلیسا ہوگن بوم بی بی سی کی نامہ نگار برائے صحت ہیں اور دو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ ان کی کتاب ’بریڈ ونرز‘ سنہ 2025 میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب کا نام ’دی مدر ہُڈ کمپلیکس‘ ہے۔

میں نے خواتین کے دماغ کا 20 سال مطالعہ کرنے کے بعد کیا سیکھا؟نوجوان مردوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا مگر مدد مانگنے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ ناک کے ذریعے سانس لینے کی ’سُپر پاور‘ جو آپ کی روزمرہ زندگی کو بدل سکتی ہے’عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی، اس کا اپنا وجود ہے‘کاجل اور ارمان کا قتل: ’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے گاؤں میں بھی ایسا ہوگا‘خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے کالجز میں تقریبات کے دوران موسیقی، رقص اور موبائل فون پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟’میں نے ایک پولیس افسر پر ریپ کا الزام لگایا لیکن میرے خلاف ہی مقدمہ بنا دیا گیا‘گروک اے آئی کا خواتین کی نیم برہنہ تصاویر بنانے کے لیے استعمال: ’نامناسب مواد بنانے کا عمل تکنیکی خامی نہیں، کاروباری انتخاب ہے‘ بے چینی آپ کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے اور اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More