AFP via Getty Imagesڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر رواں رکھے گا
ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ نے عالمی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے، جس سے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔
اس کی وجہ سے خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے کئی ممالک میں ایندھن کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کی جنگ سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 68 سے 70 ڈالر فی بیرل تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو ’ہر قیمت پر‘ کھول دے گا۔ انھوں نے کئی ممالک سے اپنے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ’دشمن ممالک کے جہازوں‘ کے لیے بند ہے۔
سنیچر کے روز انڈین حکومت نے کہا کہ ایل پی جی لے جانے والے دو بحری جہاز شیوالک اور نندا دیوی آبنائے ہرمز سے گزرے تھے اور انڈیا پہنچنے والے تھے، جہاں اس وقت ایل پی جی کے بحران کی خبریں سرخیوں میں ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ’ایران عسکری طور پر امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کمزور ہے۔ اس لیے وہ ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈالنے اور تیل اور گیس کی مارکیٹ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ جہاز رانی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کو امید ہے کہ اس سے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنازع ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔‘
دریں اثنا، صدر ٹرمپ کو اندرون ملک تنقید کا سامنا ہے۔ پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو عالمی معیشت کو خاصا نقصان پہنچے گا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش سے متاثر ہونے والے ممالک اس راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے میں امریکہ کا ساتھ دیں گے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’ہم پہلے ہی ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیت کو تباہ کر چکے ہیں۔ لیکن ان کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ ایک یا دو ڈرون بھیجیں، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائیں، یا اس آبی گزرگاہ کے ساتھ یا اس کے اندر کہیں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کریں، چاہے وہ کتنی ہی بری طرح سے شکست کھا جائے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر متاثرہ ممالک بھی اس علاقے میں اپنے بحری جہاز بھیجیں گے، تاکہ آبنائے ہرمز کو اب کسی ایسے ملک سے خطرہ نہ ہو جس کا پورا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہو۔ بہرصورت، ہم جلد ہی آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور آزاد کر دیں گے۔
ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ نے ایران کو عسکری، اقتصادی اور ہر طرح سے شکست دی ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے دنیا کے ممالک کو اس راستے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا، اور ہم اس میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ امریکہ ان ممالک کے ساتھ بھی تعاون کرے گا تاکہ سب کچھ جلد اور آسانی سے ہوسکے۔‘
اس سے قبل، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جزیرہ خارگ پر 90 سے زیادہ فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا تھا جو شمالی خلیج میں ایک اہم جزیرہ ہے اور ایران کی تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کا ذریعہ ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہاں اس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے شعبے پر حملہ کیا گیا تو وہ امریکہ سے منسلک توانائی کے تمام شعبوں پر حملہ کرے گا۔
سنیچر کو ہونے والا یہ حملہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر ہوا، جو خلیج عمان میں واقع مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی تیل تنصیبات میں سے ایک ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کو ہے اور توانائی کے مراکز پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کی درخواست قبل از وقت ہے
جوناتھن بیل، دفاعی نامہ نگار
AFP via Getty Imagesآبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً بند ہے
صدر ٹرمپ نے اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی ہے لیکن یہ اپیل قبل از وقت معلوم ہو سکتی ہے۔
خاص طور پر اس لیے کہ اس جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
اصل صورتحال یہ ہے کہ اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کو اس وقت امریکی بحریہ بھی سکیورٹی حصار مہیا نہیں کر رہی۔
موجودہ حالات میں یہ راستہ انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کئی ٹینکرز پر پہلے ہی حملہ کیا جا چکا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ فرانس خلیجی خطے میں جنگی جہاز بھیجنے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ صرف ایک ’ایسکارٹ مشن‘ ہو گا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا قدم اس وقت اٹھایا جائے گا جب تنازع کا شدید ترین مرحلہ اختتام پذیر ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے فرانس کے علاوہ جاپان، چین، جنوبی کوریا اور برطانیہ کا نام بھی لیا جو بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیج سکتے ہیں۔
تاہم، گذشتہ ہفتے ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو برطانیہ کے طیارہ بردار بحری جہاز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ’ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘
برطانوی رائل نیوی کے پاس دو طیارہ بردار بحری جہاز ہیں۔ ان میں سے ایک، ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز، کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے لیکن وہ شمالی بحر اوقیانوس کی طرف سفر کرنے والا ہے۔
بحریہ کے پاس اس وقت خطے میں کوئی دوسرا جنگی جہاز نہیں ہے۔ تاہم، ایچ ایم ایس ڈریگن اب قبرص میں فضائی سکیورٹی تعینات کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟BBC
آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری تجارتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل پہنچایا جاتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کئی بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے اپنے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنا چاہیے۔
یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے اندازوں کے مطابق ہر ماہ تقریباً 3000 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں۔
2025 میں اس راستے سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرے گا۔ یہ سالانہ توانائی کی تجارت میں تقریباً 600 بلین ڈالر کے برابر ہے۔
یہ تیل صرف ایران سے ہی نہیں آتا بلکہ دوسرے خلیجی ممالک جیسے عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی آتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تخمینے کے مطابق 2022 میں آبنائے ہرمز سے بہنے والے تقریباً 82 فیصد خام تیل اور مائع ہائیڈرو کاربن ایشیائی ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔
آبنائے ہرمز بند ہوئی ہو کیا ہو گا؟مشرق وسطیٰ میں ’جی پی ایس جیمنگ‘ کی جنگ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا پہلا پیغام
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکروں کے لیے کافی گہرا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے بڑے پروڈیوسرز اور ان کے صارفین استعمال کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ممالک کو اپنے ساحلی خطوں سے 12 ناٹیکل میل (13.8 میل) تک سمندری حدود کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس کے تنگ ترین مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کی بحری گزرگاہیں مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں واقع ہیں۔
اگر اسے روک دیا گیا تو نہ صرف ایران جس کا 90 فیصد تیل چین کو برآمد ہوتا ہے بلکہ کئی خلیجی ممالک کی تیل کی نقل و حمل بھی بند ہو جائے گی۔
اس لیے ٹرمپ کے لیے اسے کھولنا جنگ کی جیت یا ہار سے جڑا ہوا ہے۔
صرف چار روز قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بارودی سرنگیں بچھانے والے 16 بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔
جنگ کس طرف جا رہی ہے؟Gallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2024جزیرہ خارگ شمالی خلیج میں واقع ہے اور ایران کی تیل کی 90 فیصد برآمدات کا مرکز ہے (فائل فوٹو)
بین الاقوامی امور کے ماہر برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کی بے چینی مزید واضح ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ’آپریشن ایپک فیلیئر‘ ہونے کا خطرہ ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ’یہ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے‘ اور یہ کہ امریکہ نے ان تمام فوجی اڈوں پر حملہ کر دیا ہے جنھیں وہ نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے بجائے، اس نے ایران کے تیل کی برآمد کے اہم مرکز، خارگ جزیرے پر بمباری کر کے تنازع کو بڑھا دیا۔
’ممکنہ طور پر ایرانی سرزمین پر اترنے کے لیے خلیجی علاقے میں میرین ایکسپیڈیشنری فورسز بھیج کر، انھوں نے وہی عمل دہرایا ہے جس نے ایک بار امریکہ کو ویتنام میں ایک طویل زمینی جنگ میں گھسیٹ لیا تھا، جس کا خاتمہ شکست پر ہوا۔ اگر ویتنام کی جنگ سے ایک بڑا سبق ہے، تو وہ یہ ہے کہ بتدریج بڑھتی ہوئی فوجی کارروائی خاموشی سے ایک محدود جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور کھلی جنگ میں بدل سکتی ہے۔‘
برہما چیلانی نے لکھا کہ ’حقیقت میں، جنگیں اکثر اسی وقت پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں جب لیڈر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں پانی کا کردار: کیا یہامریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ’ایک ہتھیار‘ بن گیا ہے؟حملوں کی تصاویر پر پابندی اور فوج کی منظوری سے رپورٹنگ: اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستیں میڈیا اور انٹرنیٹ کو کیسے کنٹرول کر رہی ہیں؟صدام حسین اور خامنہ ای: کیا امریکہ نے ایران میں وہی غلطی دہرائی ہے؟خارگ: ہرنوں کی آماجگاہ اور ’تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ‘، ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد قبضے کی بازگشت’اگر ہم کھنڈرات اور اس موجودہ رجیم کے ساتھ رہ گئے تو کیا ہو گا:‘ ایران میں طویل ہوتی جنگ سے مایوس شہریوں کے خدشاتامریکہ کی عراق میں اپنے فوجی طیارے کی تباہی میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق: ’KC135‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟