انڈین اداکار رنویر سنگھ کی فلم ’دھورندھر‘ نے گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان میں کافی ہلچل مچائی تھی۔ فلم کے پہلے حصے میں ایک منظر تھا جہاں اکشے کھنہ (رحمان بلوچ) کے بھائی رنویر سنگھ کے کردار سے پوچھتے ہیں کہ ’تم کہاں سے آئے ہو؟‘
رنویر جواب دیتے ہیں: ’خروٹ آباد، کوئٹہ۔ نام — حمزہ علی مزاری۔‘
’دھورندھر‘ کا دوسرا حصہ آج (19 مارچ) ریلیز ہو رہا ہے جس میں رنویر پاکستان میں مقیم ایک انڈین ایجنٹ کا کردار نبھاتے نظر آئیں گے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں بھی رنویر سنگھ کے خاندان کی جڑیں درحقیقت پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔
اس کے لیے ہمیں 1940 کی دہائی تک جانا ہو گا جب برق خاندان غیرمنقسم پنجاب کے ایک گاؤں میں رہتا تھا جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔
نوجوان سیموئل مارٹن برق اور اُن کی بہن چاند برق اس خاندان کا حصہ تھے — وہی چاند برق جو رنویر سنگھ کی دادی ہیں۔
چاند برق آگے چل کر فلموں میں معاون اداکارہ بنیں۔
سیموئل مارٹن برق سے متعلق مزید جاننے کی خواہش مجھے لندن میں مقیم ان کی بیٹی نوئل پارسنز تک لے گئی۔
سیموئل برق اور چاند برق کے والد خیرالدین تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اُردو شاعری کرتے تھے اور ان کا تخلص ’برق‘ تھا۔
نوئل پارسنز نے تصدیق کی کہ سیموئل مارٹن کے دادا، چودھری اللہ دتہ، نے عیسائیت قبول کر لی تھی۔
’سینما زی‘ انڈیا میں فلمی تاریخ جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔
سینما زی کی شریک بانی آشا بترا بتاتی ہیں کہ ’ہندی اور پنجابی فلموں میں کامیاب کیریکٹر اداکارہ کے طور پر چاند برق لاہور میں بننے والی کئی فلموں میں نظر آئیں، اور اپنی رقص کی صلاحیت کی وجہ سے ’پنجاب کی ڈانسنگ للی‘ کے نام سے مشہور تھیں۔ بعد میں انھوں نے راج کپور کی فلم ’بوٹ پالش‘ میں اہم کردار ادا کیا۔‘
اسی دوران، سیموئل مارٹن برق نے بطور سفیر پاکستان کی کئی ممالک میں نمائندگی کی۔
رنویر کی دادی چاند برق کے بھائی، سیموئل مارٹن برق، 1906 میں پنجاب میں ننکانہ صاحب کے قریب مارٹن پور گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان انتخاب کا مسئلہ
تاہم، کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔
نوئل بتاتی ہیں کہ تقسیمِ برصغیر کے بعد اُن کے والد ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے خیال سے گہری کشمکش کا شکار رہے اور انھوں نے غیر منقسم ہندوستان اور اپنی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور انگلینڈ منتقل ہو گئے۔
سنہ 1946 میں جب ہندوستان کی تقسیم پر بات چیت جاری تھی، سیموئل مارٹن برق پنجاب کے پہلے الیکشن پٹیشنز کمیشن کے چیئرمین تھے، یعنی وہ جج تھے۔
اپنی یادداشت ’اے لائف آف فلفلمنٹ‘ میں سیموئل مارٹن برق لکھتے ہیں: ’میرے غیرجانبدار رہنے کا واحد طریقہ یہ تھا کہ میں واضح کر دوں کہ تقسیم کے بعد میرا ارادہ انڈیا یا پاکستان کی حکومت میں خدمات انجام دینے کا نہیں تھا۔ ریٹائر ہونا سب سے باعزت راستہ محسوس ہوا۔ میں شاید پہلا ایشیائی بن گیا جس نے بھارتی سول سروس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست کی۔‘
’نتیجتا، میں اچانک انڈین سول سروس میں جج سے نوتشکیل شدہ پاکستان میں بے روزگار ہو گیا اور ایک عیسائی ہونے کے ناطے، میرا تعلق ایک اسلامی جمہوریہ میں ایک چھوٹی سی اقلیت سے تھا۔‘
سنہ 2009 میں سینیئر صحافی ساجدہ مومن کی ملاقات 103 سالہ سیموئل مارٹن برق سے ہوئی تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساجدہ مومن نے سیموئل مارٹن برق کے بارے میں کئی واقعات شیئر کیے۔
ساجدہ بتاتی ہیں کہ جب وہ سیموئل سے اُن کی 103ویں سالگرہ پر ملی تھیں تو انھیں انڈین سول سروس کے افسران کی طرف سے پیغامات ملے تھے کیونکہ وہ اس وقت غیر منقسم انڈیا سے انڈین سول سروس کے سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والے رُکن تھے۔
سیموئل پاکستانی سفارتکار کیسے بنے؟
تقسیم کے بعد سیموئل مارٹن برق نے اپنی برطانوی اہلیہ کے ساتھ برطانیہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔
لیکن سیموئل، جو انڈیا اور پاکستان دونوں چھوڑ کر برطانیہ میں آباد ہوئے، بعد میں پاکستانی سفارتکار کیسے بنے؟
ان کی بیٹی نوئل پارسنز بتاتی ہیں کہ تقسیم کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے — جو سیموئل کے لیے ایک گاڈ فادر کی طرح تھے — سیموئل مارٹن برق کو خارجہ امور کے لیے پاکستانی وزارت کھڑی کرنے میں مدد کرنے پر آمادہ کیا۔
سیموئل نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے ساتھ کام کیا اور مختلف ادوار میں، 11 ممالک میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، جن میں برطانیہ، تھائی لینڈ، کینیڈا اور ناروے بھی شامل ہیں۔
فلم دھورندھر پر میجر موہت اور چوہدری اسلم کے خاندانوں کو اعتراض: ’سنجے دت ان کے پسندیدہ اداکار تھے‘چوہدری اسلم: ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کہلائے جانے والے پولیس افسر ہیرو تھے یا ولن؟’دھورندھر‘: عربی گانے پر جھومتے بلوچ مردوں میں ’رحمان ڈکیت‘ کی انٹری اور ’شیرِ بلوچستان‘ پر بحثانڈیا میں دھورندھر کے ناقد ’منظم حملوں اور ہراسانی‘ کی زد میں: ’فلم پاکستان کو بے قابو اور وحشی معاشرے کے طور پر پیش کرتی ہے‘چاند برق، بوٹ پالش کی ویمپ
سیموئل کے برطانیہ جانے کے فیصلے کے وقت اُن کے دیگر بہن بھائی بھی کینیڈا منتقل ہو گئے جبکہ ایک بہن چاند برق نے، جو پنجابی فلموں میں کام کرتی تھیں، انڈیا کا رُخ کیا اور بمبئی میں سکونت اختیار کر کے ہندی سینما میں اداکاری شروع کر دی۔
جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی پھوپھو چاند یعنی رنویر سنگھ کی دادی کو جانتی ہیں؟ تو نوئل نے ہنستے ہوئے کہا ’کیوں نہیں، وہ میری خالہ تھیں۔‘ فون پر بات چیت کے دوران اُن کی آواز میں گرمجوشی اور مسکراہٹ محسوس کی جا سکتی تھی۔
اگر آپ نے سنہ 1954 کی ہندی فلم ’بوٹ پالش‘ دیکھی ہے، تو اس ظالم، لالچی عورت کو بھولنا ناممکن ہے جو دو چھوٹے یتیم بچوں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت دیتی ہے۔ یہ کردار چاند برق نے ادا کیا تھا۔
سینما زی کی آشا بترا کے مطابق چاند برق اپنی سنہ 1949 کی فلم ’ہماری منزل‘ کے بعد مکمل طور پر بُھلا دی گئیں اور پھر اُن کی واپسی کا سہرا راج کپور کے سر جاتا ہے۔
کیا نوئل رنویر کو جانتی ہیں؟
دھورندھر اور برق خاندان کی بات کریں تو ایک بھائی جج بنے، پھر ایک معروف پاکستانی سفارتکار بن گئے، دوسری بہن چاند برق لاہور سے بمبئی پہنچیں اور راج کپور، نرگس، نمی، پردیپ کمار، پران، اور منوج کمار جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور بعد میں اُن کے پوتے رنویر سنگھ انڈین فلمی صنعت کا حصہ بنے۔
فلم دھورندھر میں، انھیں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا موقع ملا جو پاکستان میں کام کر رہا تھا — وہ سرزمین جہاں سے ان کے آباؤ اجداد آئے تھے۔
کیا سیموئل مارٹن برق کی بیٹی نوئل انڈیا کے رنویر سنگھ کے بارے میں جانتی ہیں؟ میرا سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی نوئل نے کہا، ’ہاں‘۔
لیکن دونوں کبھی رابطے میں نہیں رہے، کیونکہ مختلف ممالک میں مقیم نسلیں کبھی کبھار وقت کے ساتھ رابطہ کھو دیتی ہیں۔
فلم دھورندھر پر میجر موہت اور چوہدری اسلم کے خاندانوں کو اعتراض: ’سنجے دت ان کے پسندیدہ اداکار تھے‘’دھورندھر‘: عربی گانے پر جھومتے بلوچ مردوں میں ’رحمان ڈکیت‘ کی انٹری اور ’شیرِ بلوچستان‘ پر بحث’جب فلم سائن کی تب سب ٹھیک تھا‘: دلجیت کا ’سردار جی تھری‘ میں ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے پر موقف’دھورندھر‘ اور چوہدری اسلم: انڈین فلم کا ٹریلر جس میں سنجے دت پاکستانی ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے روپ میں نظر آ رہے ہیں اپنی ماں کا قاتل رحمان ڈکیت، جس نے بھتے اور منشیات سے کمائی دولت سے ایران تک میں جائیدادیں خریدیںڈمپل کپاڈیا سے عامر خان تک، وہ معروف انڈین شخصیات جن کے رشتہ دار پاکستان میں رہتے ہیں