AFP via Getty Images
امریکہ کی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ان دونوں کو جوڑنے والے تمام دعوے ’آج ہی دفن ہونے چاہییں‘۔
جمعرات کو ایک غیر متوقع اعلان میں میلانیا نے ایپسٹین کی جنسی سمگلنگ کے متاثرین کے لیے کانگریس میں سماعتوں کا مطالبہ بھی کیا۔
انھوں نے آن لائن گردش کرنے والی ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ ایپسٹین نے ہی ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے کروائی تھی۔ ان کے مطابق یہ ’میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوششیں‘ ہیں۔
مگر تاحال یہ واضح نہیں کہ اس اعلان کی وجہ کیا تھی۔
ایپسٹین کے متاثرین کی جانب سے میلانیا ٹرمپ کی مداخلت پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون، لیزا فلپس، نے اس بیان کو ’جرأت مندانہ قدم‘ قرار دیا، لیکن یہ بھی پوچھا کہ خاتونِ اول ایپسٹین کے الزام لگانے والوں کی مزید کس طرح مدد کر سکتی ہیں۔
میلانیا کے دفتر کی جانب سے پہلے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا کہ وہ ایپسٹین کے بارے میں کوئی بیان دیں گی اور وائٹ ہاؤس نے بھی ان کی روزمرہ کے شیڈول میں شامل اس خطاب کے موضوع کا پہلے سے ذکر نہیں کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی چینل ایم ایس ناؤ کو بتایا کہ انھیں اپنی اہلیہ کے بیان کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے میلانیا ٹرمپ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا کہ صدر کو معلوم تھا کہ خاتونِ اول کوئی بیان دینے والی ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ ان کے موضوع سے آگاہ تھے یا نہیں۔
میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایپسٹین کی متاثرہ نہیں رہیں، اور ان کی اس سے صرف 2000 میں مختصر سی ’راہ گزرتے ملاقات‘ ہوئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے کبھی ایپسٹین کے اپنے متاثرین کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ میں کسی بھی حیثیت میں شامل نہیں تھی۔ میں اس کا حصہ نہیں تھی۔‘
انھوں نے ایپسٹین کی قید میں موجود ساتھی گیلین میکسویل سے کسی جان پہچان کی بھی تردید کی۔
Davidoff Studios/Getty Imagesسنہ 2000 میں لی گئی ایک تصویر میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گرل فرینڈ اور مستقبل کی اہلیہ میلانیا کناس کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے برابر ایپسٹین اور میکسویل مار اے لاگو کلب میں کھڑے ہیں
انھوں نے ایپسٹین فائلز میں شامل 2002 کی اس ای میل کا حوالہ دیا جو ان اور گیلین میکسویل کے درمیان ہوئی تھی، اور انھیں محض ’غیر رسمی خط و کتابت‘ اور ’شائستہ جواب‘ قرار دیا۔
جس ای میل کا وہ ذکر کر رہی تھیں، وہ غالباً ’جی‘ کے نام پر لکھی گئی تھی، جو بظاہرگیلین میکسویل کے لیے استعمال ہوا مخفف ہے اور اس میں نیویارک میگزین میں شائع ہونے والی ایک کہانی کی تعریف کی گئی تھی جس میں ’جے ای‘ یعنی ایپسٹین اور میکسویل کی تصویر شامل تھی۔ انھوں نے لکھا تھا کہ وہ پام بیچ جانے کے لیے ’بے تاب‘ ہیں۔
ای میل میں لکھا تھا کہ ’جب نیویارک واپس آؤ تو مجھے فون کرنا۔ اچھا وقت گزارو! محبت کے ساتھ، میلانیا۔‘
نیویارک میگزین کے اسی مضمون میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ اقتباسات بھی شامل تھے جن میں انھوں نے ایپسٹین کو ’زبردست شخصیت‘ اور ’ساتھ رہنے کے لیے بہت موزوں‘ قرار دیا تھا۔
US Department of Justice
مضمون کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے خوبصورت عورتیں اتنی ہی پسند ہیں جتنی مجھے، اور ان میں سے کئی نسبتاً کم عمر ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں، جیفری اپنی سماجی زندگی سے خوب لطف اٹھاتا ہے۔‘
جمعرات کو میلانیا ٹرمپ نے مزید مطالبہ کیا کہ قانون ساز ’ان متاثرین کو کانگریس کے سامنے حلف کے تحت گواہی دینے کا موقع دیں، تاکہ ان کے بیانات سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ’ہر عورت کو یہ حق ہونا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی کہانی عوام کے سامنے بیان کرے، اور پھر اس کی گواہی مستقل طور پر کانگریس کے ریکارڈ میں شامل کی جائے تو ہی ہمیں سچائی معلوم ہو سکے گی۔‘
جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آنے کے بعد گذشتہ چند مہینوں میں کئی نمایاں کاروباری شخصیات کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا ہے، اور میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس حقیقت کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قصوروار ہیں، لیکن ہمیں سچ سامنے لانے کے لیے کھلے اور شفاف طریقے سے کام کرنا ہوگا۔‘
انھوں نے صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔
ان کے بیان کے فوراً بعد جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں کیلیفورنیا کے نمائندے رابرٹ گارسیا، جو ایوان کی اوور سائٹ کمیٹی میں ڈیموکریٹس کی سب سے طاقتور آواز ہیں، نے کہا کہ ’ہم میلانیا ٹرمپ کے عوامی سماعت کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
Getty Imagesگیلین میسکویل
انھوں نے کمیٹی کے چیئرمین، ریپبلکن رکنِ کانگریس جیمز کومر، پر زور دیا کہ وہ ’خاتونِ اول کی درخواست کا جواب دیں اور فوراً ایک عوامی سماعت کا شیڈول جاری کریں۔‘
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے لیزا فلپس نے کہا کہ وہ خاتونِ اول کی اس مداخلت پر حیران رہ گئیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اسے تھوڑا سا مثبت انداز میں دیکھنا چاہتی ہوں، اور کہنا چاہتی ہوں کہ ’اچھا، دیکھتے ہیں وہ کیا کر سکتی ہیں‘ اور شاید ان پر کچھ دباؤ بھی ڈالیں۔‘
لیزا فلپس نے مزید کہا کہ متاثرین پہلے ہی کیپیٹل ہِل جا کر اپنی کہانیاں بیان کر چکے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ’نجی سماعت‘ عوامی سماعت سے بہتر ہوگی، کیونکہ بہت سی متاثرہ خواتین نے عدم انکشاف کے معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں یا وہ اپنے مظالم بیان کرنے سے ’خوفزدہ‘ ہیں۔
انھوں نے صدر کی اہلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرین کی ’مدد کریں‘ اور ثابت کریں کہ ان کی تقریر محض ’سیاسی ڈرامہ‘ نہیں تھی۔
لیزا فلپس نے کہا کہ وہ میلانیا ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں گی کہ وہ اس سوال کا جواب دیں کہ ’آپ اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے کیا کر سکتی ہیں؟‘
جیفری ایپسٹین کی ایک متاثرہ خاتون ورجینیا جیفری کے خاندان، سکائی اور امانڈا رابرٹس‘اور دیگر متاثرین نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ وہ سامنے آ کر ’پہلے ہی غیر معمولی ہمت دکھا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اب ان سے مزید مطالبہ کرنا انصاف نہیں بلکہ ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے۔‘
انھوں نے خاتونِ اول پر الزام لگایا کہ وہ ’بااثر افراد‘ کی حفاظت کر رہی ہیں، جن میں ان کے شوہر کی انتظامیہ کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے اب تک جیفری ایپسٹین سے متعلق تمام تحقیقاتی فائلیں جاری نہیں کیں۔
’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگو’کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ شیطان ہیں؟‘ ایپسٹین سے سوالنو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی گیلین میکسویل کون ہیں؟نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟
خاتونِ اول اور ایپسٹین کے درمیان تعلقات کے دعوے پہلے بھی قانونی تنازعات کا باعث بن چکے ہیں۔
مثال کے طور پر اکتوبر 2025 میں ہارپر کولنز یوکے نے ایک کتاب سے وہ حصے واپس لینے کا اعلان کیا جن میں یہ ’غیر مصدقہ‘ دعویٰ شامل تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کی ملاقات ایپسٹین کے ذریعے ہوئی تھی۔ اسی طرح ڈیلی بیسٹ نے بھی ایک مضمون واپس لے کر معذرت کی، جس کے بارے میں بعد میں کہا گیا کہ ’وہ ہمارے معیارات پر پورا نہیں اترتا تھا‘۔
خاتونِ اول مصنف مائیکل وولف کے ساتھ ایک جاری قانونی تنازع میں بھی الجھی ہوئی ہیں، جنھوں نے اپنی کتاب فائر اینڈ فیوری میں دعویٰ کیا تھا کہ میلانیا کی ٹرمپ سے پہلی ملاقات ایک ایسے ماڈلنگ ایجنٹ کے ذریعے ہوئی تھی جس کا تعلق ایپسٹین سے تھا۔
جب میلانیا ٹرمپ نے ان کے خلاف ایک ارب ڈالر کے ہتکِ عزت کے مقدمے کی دھمکی دی تو مائیکل وولف نے جوابی مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی تھی۔
میلانیا ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ’میں اور میرے وکلا ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے خلاف کامیابی سے لڑتے رہے ہیں، اور میں اپنی ساکھ کے تحفظ کے لیے بغیر ہچکچاہٹ ایسا کرتی رہوں گی۔‘
وائٹ ہاؤس میں اس طرح خاتون اول کا نمودار ہونا ایک حیران کرنے والی پیشرفت تھی۔
خاتونِ اول کا یہ بیان ایپسٹین کی تحقیقات اور متعلقہ فائلز کے اجرا کے حوالے سے جاری عوامی بحث کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ایک وقت میں ایپسٹین کو جانتے تھے۔ لیکن بعد میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایپسٹین کو پام بیچ کے مار اے لاگو کلب سے اس لیے نکال دیا تھا کیونکہ وہ ’غیر مناسب رویے‘ کے حامل تھے۔
ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر کا کئی بار ذکر آیا ہے۔ لیکن ان کے خلاف کسی غلط کام کا کوئی اشارہ موجود نہیں۔
’اسے ہماری آنکھوں میں خوف دیکھنا پسند تھا‘: جیفری ایپسٹین کے متاثرین کی بی بی سی سے گفتگونئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال: ایلون مسک کی بے تابی اور بل گیٹس کی مبینہ بیماری، دستاویزات میں کیا کچھ ہے؟’کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ شیطان ہیں؟‘ ایپسٹین سے سوالنابالغ لڑکیوں سے سیکس اور خفیہ جزیرہ: ’ایپسٹین فائلز‘ جو ٹرمپ کے لیے دردِ سر ہیںاینڈریو سے ’شہزادے‘ کا خطاب واپس لیے جانے کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟نو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی گیلین میکسویل کون ہیں؟