انڈیا کے قبائلی علاقے جہاں جادو ٹونہ کرنے کے شک پر خواتین کو ’چڑیل‘ قرار دے کر قتل کر دیا جاتا ہے

بی بی سی اردو  |  Apr 02, 2025

BBCآج بھی نندوربار میں خواتین کو چڑیل کہا جاتا ہے۔

’کیا کوئی لاپتہ ہے؟‘

عورتیں کہاں کم ہیں؟ خواتین کی کمی کہاں ہے؟

45 سالہ سوگی بائی وساوے (فرضی نام)، جنھیں ان کے گاؤں کے لوگ ڈائن کہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے گفتگو میں یہ سوال پوچھا۔ ان کا یہ سوال اتنا سادہ تھا کہ سمجھنے کے لیے انھیں اسے بھیلوری سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

وہ کہنے لگیں ’عورت اپنے پیٹ میں بچے کی پرورش کرتی ہے، وہ اسے جنم دیتی ہے، عورت اپنے بچے کو بھی پالتی ہے، تو اکیلی عورت کیسے کسی برائی کے خلاف اٹھ سکتی ہے؟

جیسے جیسے دن ڈھل رہا تھا، سوگی بائی کی بانس سے بنی جھونپڑی میں اندھیرا چھانے لگا تھا۔ چولہے میں جلتی آگ کی لو اور ہولی کے چاند کی مدھم روشنی میں کپڑے سے ڈھکا صرف ان کا چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔

جب وہ بات کر رہی تھیں تویوں لگ رہا تھا جیسے کوئی عورت،خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا جواب مانگ رہی ہو۔

نندربار ضلع کے اس گاؤں میں واقع ان کی جھونپڑی میں بجلی نہیں ہے۔ گھر کے سامنے نصب پانی کے ہینڈ پمپ کا پائپ بھی اکھاڑ دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم بجلیکے کھمبے سے تار لگا کر بجلی لے بھی لیں تو کوئی رات کو آ کر تار کاٹ دیتا ہے ہم اسے دوبارہ جوڑنے سے ڈرتے ہیں اس لیے رات کو اندھیرے میں بیٹھ جاتے ہیں۔

ان کے پاس کھڑا ان کا بیٹا مراٹھی جبکہ پاس بیٹھی بیٹی ہندی زبان میں بات کر سکتے ہیں۔

سوگی بائی نے بھاگ کر اپنی جان بچائیBBCسوگی بائی اس رواج کے خلاف لڑ رہی ہے۔

وہ ایک 'چڑیل' ہونے کی علامت ہے۔ ان پر یہ الزام پانچ سال قبل لگایا گیا تھا اور ان کے اپنے قبیلے اور رشتہ داروں نے ان پر 'چڑیل' ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

ان کے خاندان کی ایک عورت کے دانت میں سوجن تھی اور وہ بہت زیادہ درد میں مبتلا تھاتبھی اس نے اپنا غصہ سوگی بائی پر اتارتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایک 'چڑیل' ہیں اور لوگوں کو کھاتی ہے اور برے کام کرتی ہیں۔

اس کے بعد سے جب بھی گاؤں میں کچھ برا ہوا تو اس کا الزام سوگی بائی پر لگا دیا گیا۔

سوگی بائی کہتی ہیں کہ 'میں نے اپنے پر لگے الزام کو مٹانے کے لیے ہر قسم کے جتن کیے، ایک بھگت کا روپ دھارا، ڈاکنی ٹیسٹ دیا (انڈیا میں ڈاکنی کو ایک بدکردار مخلوق کے طور پر سمجھا جاتا ہے دراصل یہ ہندو مت اور بدھ مت میں ایک ایسی دیوی کا روپ ہے جو طاقتور، ہمدرد اور ہر قسم کا علم، حکمت، امن، محبت، خوشی اور یہاں تک کہ زندگی و موت سے آزادی عطا کرتی ہیں۔) اور پنچائیت میں اپنی بے گناہی کے دلائل پیش کیے لیکن کچھ بھی کام نہیں آیا۔'

ان کے حالات اس قدر بگڑ گئے کہ ایک دن وہ لوگ جو پہلے انھیں ہراساں کر رہے تھے وہیں سوگی بائی کو مارنے ان کی جھونپڑی میں آ گئے۔

سوگی بائی بتاتی ہیں کہ انھوں نے جھونپڑی کے پچھلے دروازے سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

اگست 2021 کی وہ رات انھیں اپنے بچوں کے ساتھ جنگل میں چھپ کر گزارنی پڑی۔

سوگی بائی کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ لوگ ان کی جھونپڑی کو جلانے بھیآئے تھے۔

'میں نے سوچا سب کچھ ختم ہو گیا! لیکن بہت زیادہ بارش ہونے لگی اور آگ نہیں جلی۔'

ان کا کہنا تھا کہ بے پناہ مشکلات تھیں، تنہائی تھی اور کسی کی طرف سے کوئی مدد نہیں تھی۔ یہاں تک کہ گاؤں، پنچایت یا پولیس انتظامیہ نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ 'سب کچھ اتنا ناقابل برداشت تھا کہ ہم، میاں بیوی، اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے ساتھ اجتماعی خودکشی کرنے کا سوچ رہے تھے۔'

جب میں نے سوگی بائی کی بات سنی تو میری آنکھوں کے سامنے ست پورہ کی کچی آبادیوں میں بیٹھی کئی خواتین کے چہرے اور کہانیاں آنے لگیں۔

خواتین کے قتل کی تاریخBBC

تقریباً 23 سال قبل اسی علاقے کے مانڈوی خورد گاؤں میں کلی بائی پاٹلے کو چڑیل ہونے کے شبہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اس کے قتل کے بعد ہی خواتین کو ڈائن یا چڑیل قرار دے کر پانے کی روایتمنظر عام پر آئی اور پہلی بار ست پورہ میں اس کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔

اس دوران علاقے میں توہم پرستی، جادو ٹونے اور خواتین کو 'چڑیل' قرار دینے کے خلاف ایک اجلاس اور مذاکراتی دور کا آغاز کیا گیا۔ محکمہ پولیس نے بھی اس متعلق کچھ مہم چلائی۔

حکومت اور انتظامیہ نے جادو ٹونے کے رواج کو ختم کرنے کے لیے کچھ کوششیں کی ہیں۔ اس کے بعد، سال 2013 میں مہاراشٹر میں انسداد توہم پرستی اور جادو ٹونہ ایکٹ کا قانون پاس کیا گیا تھا۔

اس قانون کی چھٹی اور ساتویں دفعات کے مطابق کسی شخص کی طرف سے کوئی بھی عمل یاکسی جانور کا دودھ خراب کرنا، بیماری پھیلانا، کسی کو چڑیل کہنا، جادو ٹونے کے نام پر کسی کو مارنا، کسی کو برہنہ رکھنا یا اسے روزمرہ کے کام سے روکنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔

اس جرم کی سزا سات سال تک قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ ہے۔

اس کے باوجود، جادو ٹونے کا رواج نہ صرف ست پورہ کی بھیل اور پواڑہ قبائلی برادریوں میں جاری ہے، بلکہ مہاراشٹر کے گڈچرولی، پالگھر اور انڈین ریاستوں جھارکھنڈ اور آسام میں بھی جاری ہے۔

اس میں کسی بھی عورت کو کسی بھی وقت 'چڑیل' قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی وجہ کافی ہے۔ جیسے گاؤں میں کوئی مر جائے، کوئی بیماری یا وبا پھوٹ جائے یا کھیت، فصل یا مویشی تباہ ہو جائیں تو اس کا الزام کسی بھی عورت پر لگا کر اس 'چڑیل' یا 'ڈائن' قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس شک کی بنیاد پر اس خاتون کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ انھیں شمشان گھاٹ سے راکھ اٹھا کر کھانے اور انسانی پیشاب پینے کا کہا جاتا ہے اور کالی سیاہی سے ان کے چہروں کو سیاہ کر دیا جاتا ہے۔ انھیں گاؤں سے باہر نکال دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار تو انھیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔

اگرچہ اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار تو دستیاب نہیں کہ آج تک کتنی خواتین کو چڑیل قرار دیا گیا، ان میں سے کتنی نے اپنے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی اور ظلم کو قبول کیا، کتنی خواتین کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے،کتنی خواتین کو قتل کیا گیا اور ایسی کتنی خواتین ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف پولیس میں شکایات درج کروائیں اور کتنے ملزمان کو سزائیں دی گئیں۔

اگر ہم مہارشٹر کے علاقے نندربار میں اس روایت کے خلاف کام کرنے والی تنظیم اندھ شردھا نرمولن سمیتی کے کارکنوں کی بات مانیں تو یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ ہر گاؤں میں عورت کو 'چڑیل' قرار دیا جاتا ہے۔

یہاں پہاڑوں میں چھ سات گاؤں آباد ہیں۔

تنظیم تنظیم اندھ شردھا نرمولن سمیتی (اننیس) کے ریاستی جنرل سکریٹری ونائک ساولے کہتے ہیں کہ صرف چند واقعات میں ہی ہماری جیسی تنظیموں یا پولیس سے مدد لی جاتی ہے۔'

تو باقی خواتین کا کیا ہوا؟

کبھی دھاگاؤں کی بھوری بائی پوار (فرضی نام) جیسی خواتین، 60 کی دہائی میں مایوسی کے عالم میں اپنے گاؤں چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر لوٹ جاتی تھیں، یا کچھ بے گھر ہو جاتی تھیں۔'

وادی نرمدا کے ایک دور دراز علاقے سے راجی بائی وساوے (فرضی نام) جیسی کچھ خواتین خودکشی کر لیتی ہیں۔

یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن خواتین کو 'چڑیل' قرار دے کر ان کی نس بندی کی گئی تھی (تاکہ وہ بچے کو جنم نہ دے سکیں)، ان کی بیٹیوں نے بھی لوگوں کے ظلم سے تنگ آ کر خودکشیاں کر لی ہیں۔

ایسا گاؤں جہاں بچہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں’گنجوں کے سر میں سونا`: موزمبیق میں توہم پرستی کے نتیجے میں مردوں کے قتلفلپائن کا وہ ’طلسماتی جزیرہ‘ جہاں آج بھی ہر بیماری کا علاج ’جادو ٹونے‘ سے کیا جاتا ہےکینیا میں معمر افراد کو جادوگر قرار دے کر قتل کیوں کیا جا رہا ہے؟بھگت کے فیصلے کی اہمیت BBCمقامی قبائلی بھگت فیصلہ کرتے ہیں کہ خواتین چڑیل ہیں یا نہیں۔

سوگی بائی کا کہنا ہے کہ 20 سال قبل جب ان کے گاؤں کی ایک خاتون کو چڑیل قرار دیا گیا تھا تو وہ بھاگ کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی۔ لیکن سوگی بائی نے سب کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔

سوگی بائی نے کہا کہ 'میں جانتی تھی کہ میں چڑیل نہیں ہوں، اسی لیے میں بھگت کے پاس جانے کو راضی ہو گئی۔'

ایسے میں بھگت کے پاس آنے اور جانے کے تمام اخراجات اسی عورت کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جنھیں 'چڑیل' قرار دیا جاتا ہے۔

قبائلی معاشرے میں خواتین بھکتوں یا عقیدت مندوں کا تناسب کم ہے اور لوگوں کا ان پر اعتماد بھی کم ہے۔ اگر کچھ غلط ہو جائے یا ان کے مسائل بڑھ جائیں تو خواتین عقیدت مندوں کو بھی چڑیل کہا جاتا ہے۔

سوگی بائی کو گورا گاؤں کے ایک بھگت کے پاس جانچ کے لیے لے جایا گیا۔ سوگی بائی نے کہا 'گورا کے بھگت کے پاس ایک بہت بھاری پتھر تھا۔ اس نے پتھر اٹھانے کا ڈرامہ کیا۔ اس نے کہا کہ اگر اس نے یہ پتھر اٹھا لیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ عورت چڑیل ہے۔'

سوگی بائی کے مطابق اس بھگت کا کہنا تھا کہ 'چڑیل' کی طاقتوں کی وجہ سے پتھر اٹھانا ممکن ہوا۔ سوگی بائی کو شک ہے کہ گورا کے اس بھگت نے ہی اس کی زندگی خراب کر دی۔

Getty Imagesانڈیا کے کئی حصوں میں جادو ٹونا اب بھی موجود ہے

اسی طرح اپریل 2024 میں ایک بھگت نے 45 سالہ پوٹی بائی وساوے (فرضی نام) پر 'چڑیل' ہونے کا براہ راست الزام لگایا تھا۔ اس وقت پولیس نے اسے گرفتار بھی کیا تھا۔

ڈھڈگاؤں میں پوتی بائی کے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک کچی سڑک پر بہت سے پہاڑوں کو عبور کرنا پڑا اور آگے بھی اتنے ہی پہاڑ نظر آ رہے تھے۔

پوتی بائی کے گھر کے ساتھ رہنے والے خاندان کے ایک 24 سالہ نوجوان کی ایک ماہ کی بیماری کے بعد موت ہو گئی تھی۔ اس وقت وہ پوٹی بائی سے 200 کلومیٹر دور گجرات کے شہر سورت کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کوما میں تھے۔

ان کے اہل خانہ باجرے کے دانے لے کر بھگت کے پاس گئے اور رولا بھگت نامی اس شخص نے اناج کو ایک مخصوص طاق سے ترتیب دیا اور گھر والوں کو بتایا کہ ایک 'چڑیل' ان کے بچے کو کھا رہی ہے۔

اس بھگت نے پوتی بائی کا براہ راست نام لیے بغیر، واضح اشارے دیے کہ 'چڑیل' عورت کا شوہر کمزور ہے، اس کے دو بچے ہیں، اس کا گھر کنکریٹ سے بنا ہے۔

پورا گاؤں جانتا تھا کہ پوتی بائی کا شوہر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ پہلے ہی شک کی نظر سے دیکھی جاتی تھی اور بھگت نے ان کی طرف اشارہ کیا تھا۔

سب نے اسے سچ مان لیا جو جھوٹ ثابت نہ ہو سکا۔ بیٹے کی موت کی خبر جیسے ہی سورت پہنچی، گاؤں والوں کی بڑی تعداد پوتی بائی کے گھر پہنچ گئی۔

وہ سچ جو بدلا نہیں جا سکتاBBCپوتی بائی کے زخم ابھی تک تازہ ہیں

پوتی بائی کہتی ہیں کہ ان میں سے ایک نے میرے بال کھینچے، مجھے زمین پر پھینک دیا اور مجھے لاتیں اور گھونسے مارنے لگے۔ دوسرے نے مجھے سر پر مارا۔ میرے وہ زخم آج تک تازہ ہیں۔'

پوتی بائی بتاتی ہیں کہ اس سب کے دوران 'ان میں سے ایک نے میری ساڑھی پھاڑ دی، بھیڑ میں سے ایک آدمی مجھ پر بیٹھ گیا اور مجھے چھونے لگا۔'

انھوں نے مزید نہیں بتایا کہ ان کے ساتھ اور کیا ظلم کیا گیا۔ بس یہ کہا کہ 'آخر کار انھوں نے مجھے گاؤں سے نکال دیا۔ لوگوں نے میرے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اپنی ماں کو گھر میں رکھا تو وہ اسے مار ڈالیں گے اور گھر کو جلا دیں گے۔'

لیکن مہینوں کے بعد پوتی بائی کے پاس گھر واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تقریباً سات ماہ کے بعد جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو وہ گاؤں واپس آگئی۔

اسی دوران گاؤں کے اصول کے مطابق پنچائیت ہوئی جس میں پوتی بائی کا خاندان، جادو کرنے والا جادوگر اور گاؤں کے کچھ بزرگ شامل تھے۔

پنچائیت نے مشورہ دیا کہ 'چڑیل' کو 500 روپے کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے اور معاملہ طے کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس کے بعد بھی پوتی بائی کے پاس کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ اسے چڑیل کہہ کر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ یہ خدشہ بھی تھا کہ یہ کہا جائے گا کہ پوتی بائی دراصل چڑیل تھی۔ اس لیے ان کے بڑے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا۔

ان کی شکایت پر تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن فی الحال وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

قانون کا خوف جادو ٹونے سے زیادہ ہےBBCاب وہاں قانون کا خوف نظر آرہا ہے۔

اس گاؤں میں پوتی بائی کے گھر کے سامنے والے کھیت کے پار گرفتار ملزم کا گھر ہے۔ ہم نے اس خاندان سے بات کی جو پوتی بائی کو 'چڑیل' کہتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ اس سب کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے۔

خاندان کے ایک نوجوان بیٹے نے کہا کہ 'گاؤں میں کوئی بھی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ ہم نے انھیں باہر نکال دیا تھا کیونکہ گاؤں میں سب نے ایسا کہا تھا۔ جب پولیس سے ہماری شکایت کی گئی تو گاؤں والوں نے ہمارا نام آگے کر دیا۔'

کچھ پوچھ گچھ کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس نوجوان نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے اور وہ ایک سماجی تنظیم کے لیے کام کر رہا ہے جو بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی ہے۔

وہ اس سوال پر خاموش رہا کہ کیا گاؤں میں کوئی چڑیل رہتی ہے؟

نوجوان کا کہنا تھا کہ 'جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ بھول جائیں اور پولیس میں درج شکایت واپس لے لیں۔ لیکن پوتی بائی نہیں سن رہی ہے۔'

اس خاندان میں قانون کا خوف صاف نظر آرہا تھا۔ یہ خوف چڑیل کے خوف سے بھی بڑا تھا۔

پوتی بائی نے مزید بتایا کہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کے بعد گاؤں میں ایک اور پنچایت ہوئی تھی جس میں پنچائت نے فیصلہ دیا تھا کہ اس معاملے کو سلجھایا جائے اور پولیس کو دی جانے والی شکایت واپس لی جائے۔ اور اگر پوتی بائی پر دوبارہ چڑیل ہونے کا الزام لگایا گیا تو الزام لگانے والے خاندان پر 15 سے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

یا اگر پوتی بائی کے گھر والے دوبارہ اسے 'چڑیل'کہہ کر اس کی توہین کا معاملہ اٹھاتے ہیں، تو انھیں بھی یہی جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

انصاف کا معاہدہBBCقبائلی علاقوں کے دیہات میں لوگ 'جادوگرنی' کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

پوتی بائی کہتی ہیں کہ 'کبھی کبھی شراب پینے کے بعد بھی لوگ مجھے چڑیل کہتے ہیں۔ حالانکہ گاؤں والے میرے سامنے اس کے بارے میں بات نہیں کرتے، لیکن عورتیں جب پانی لینے جاتی ہیں تو دور رہتی ہیں۔ جب وہ گاؤں میں کہیں بھی بیٹھتی ہیں تو خواتین ان کے متعلق سرگوشیاں کرتی ہیں۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے اپنے گاؤں میں ایک عورت کو ان کے سامنے چڑیل قرار دیا گیا تھا۔

پوتی بائی کا کہنا ہے کہ 'گاؤں کی ایک عورت سانپ کے ڈسنے سے مر گئی تھی۔ لیکن کچھ دن پہلے گاؤں والوں نے ایک عورت کو باہر نکال دیا تھا کیونکہ وہ چڑیل کے زیر اثر تھی۔'

پوتی بائی کا کہنا ہے کہ 'خاتون کے خاندان اور الزام لگانے والوں کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا اور خاتون کو اس کے گھر والوں کے پاس واپس بھیج دیا گیا۔'

پولیس میں شکایت تب ہی درج کی جاتی ہے جب خاتون کے اہل خانہ ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ شکایت کسی پنچائت کے سامنے کی جائے تو وہ الزام لگانے والے اور خاتون کے خاندان دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، چاہے متاثرہ کو انصاف نہ بھی ملے۔

ونائک ساولے کہتے ہیں کہ 'ان تمام سوالوں کے جواب واضح ہیں، جیسے کہ یہ پنچائیت ڈائن پریکٹس کے تئیں کتنے حساس ہیں، کیا وہ واقعی اس میں یقین رکھتے ہیں، کیا وہ گاؤں میں امن برقرار رکھنے کے لیے ایسے فیصلے لیتے ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان پنچائیتوں میں خواتین بھی شامل ہیں یا نہیں۔'

پوتی بائی کے الفاظ سے یہ بھی واضح ہے کہ قبائلی، جو انڈین حکومت کے عدالتی نظام سے خوفزدہ اور بے چینی محسوس کرتے ہیں، اپنے پرانے پنچایتی نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ججوں کو 'چڑیل' کا الزام لگانے والے افراد پر بھاری جرمانے عائد کرنے چاہییں۔'

وہ کہتی ہیں ان کے بڑے بھائی نے درست فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب قانون کے ذریعے ہونا چاہیے، کسی پنچایت کے ذریعے نہیں۔'

دادی جانتی تھی کہ وہ چڑیل نہیں ہے۔ لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا کہ آیا چڑیلیں بھی ہوتی ہیں یا یہ محض توہمات ہیں۔'

توہم پرستی کی جڑیں کافی گہری ہیںBBCایک مندر میں قبائلی دیوتا یاہا موگی کی تصویر

رائے سنگھ پاڈوی کا کہنا ہے کہ چڑیلوں کی موجودگی کا عقیدہ قبائلی لوگوں کے ذہنوں میں بہت گہرا ہے۔

وہ خود ایک قبائلی ہیں۔ وہ وڈیبار ڈسٹرکٹ سکول، اکلاکووا میں استاد ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ قبائلی زبان میں توہم پرستی کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے۔

رائے سنگھ نے کہا کہ 'اتنے سالوں کے بعد بھی میں ان عقائد کو مکمل طور پر رد نہیں کر پایا ہوں جو نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔'

گذشتہ دو سالوں سے وہ مقامی سطح پر توہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی میں کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچپن سے ہی انھوں نے اپنی دادی اور دادا سے جادو ٹونہ اور توہم پرستی کے بارے میں بہت سی کہانیاں سنی ہیں۔ گاؤں میں آنے والی کسی اجنبی عورت پر کبھی کسی نے بھروسہ نہیں کیا۔

رائے سنگھ نے کہا کہ 'گاؤں میں ایک نایاب پرندہ ہے، یہ رات کو انسانوں کی طرح چیختا ہے۔ بہت سی عجیب و غریب کہانیاں ہیں کہ ایک چڑیل اس پرندے کا روپ دھار لیتی ہے، درخت پر بیٹھتی ہے، بیل کھاتی ہے اور لوگوں کو مار دیتی ہے۔'

'یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جن لوگوں پر چڑیل ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ لیکن اب کوئی کھل کر کسی عورت کو چڑیل قرار نہیں دیتا جیسا کہ پہلے کیا جاتا تھا۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'پہلے پورا گاؤں ان سے دور رہتا تھا، اب اگر کوئی شخص کسی عورت کو ہراساں کرتا ہے تو گاؤں کے باقی لوگ قانون کے ڈر سے مشکل سے کچھ کہتے ہیں۔'

ان کا ماننا ہے کہ یہ سب تبدیلی ہے جو پچھلے 23 سالوں میں آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ایک اور تبدیلی یہ ہے کہ اب پارٹی سیاست بھی اس کا حصہ بن چکی ہے، اگر آپ کسی دوسری سیاسی جماعت کے امیدوار یا کارکن کو گرانا چاہتے ہیں تو اس کے خاندان کی کسی خاتون کو چڑیل قرار دینا آسان ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بیواؤں اور اکیلی خواتین کے قریبی رشتہ دار بھی ان کی زمین ہتھیانے کے لیے انھیں چڑیل کہتے ہیں۔ لیکن جادوگرنی قرار دی گئی خواتین میں سے کسی نے بھی ہمیں یہ واضح طور پر نہیں بتایا۔

پولیس کو توہم پرستی اور جادو ٹونے کے قانون کی محدود سمجھBBCدھونڈی بائی کے جسم پر زخموں کے نشانات ہیں۔

کاٹھی کی رہنے والی 35 سالہ دھونڈی بائی راوت (فرضی نام) کے لیے بیماری بھی تکلیف کی وجہ تھی۔

جنوری 2025 میں، ان پر چڑیل ہونے کا الزام لگایا گیا اور انھیں مارا پیٹا گیا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ ڈھائی ماہ تک اپنی ماں کے پاس رہی اور ایک ہفتہ قبل ہی گاؤں واپس آئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ اب انھیں فکر ہے کہ گاؤں والے بھی انھیں نہیں چھوڑیں گے اور انھیں کون اور کیسے پریشان کرے گا، وہ اس بات پر تناؤ کا شکار ہیں۔

ان کے بڑے کزن کی بیٹی مسلسل بیمار رہتی ہے کیونکہ اسے انیمیا کا مرض لاحق ہے۔ لیکن کہا جاتا تھا کہ دھونڈی بائی اسے جادو سے بیمار کر رہی ہے۔

نو جنوری کو جب وہ گھر میں اکیلی تھیں تو انھیں لاتوں، گھونسوں اور لاٹھیوں سے بے دردی سے مارا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ 'وہ مجھے پورے گاؤں میں گھسیٹ کر لے گئے، مجھے مارا پیٹا اور اپنے گھر لے گئے، اور مطالبہ کیا کہ میں ان کی بیٹی اور گھر کو پہنچنے والے نقصان کو ٹھیک کروں۔ کسی طرح، میں ان کے چنگل سے بچ کر گھر بھاگ گئی۔'

دھونڈی بائی کہتی ہیں کہ 'پھر ان کا بیٹا ایک بڑا پتھر لے کر میرے پیچھے دوڑتا ہوا آیا۔ پھر وہ پورا خاندان میری جھونپڑی کی دیواریں توڑ کر گھر میں گھس گیا اور مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ جب میں بے ہوش ہو گئی تو سب یہ سوچ کر چلے گئے کہ میں مر گئی ہوں۔'

ان کے جسم پر مار پیٹ کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔

ان کی حالت اتنی خراب تھی کہ انھیں پنچایت چھوڑ کر سیدھا ہسپتال جانا پڑا اور پھر انھوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔

پولیس کو دیے گئے بیان میں یہ بھی لکھا گیا کہ لوگوں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ان سب کے باوجود ان کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں توہم پرستی اور جادوگرنی کے قانون کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اس میں صرف حملے اور چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ڈھائی ماہ میں ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

دھونڈی بائی کے اہل خانہ نے بتایا کہ 'پہلے تو وہ قانون کا حوالہ دینے سے گریزاں تھے۔ آخر کار، جب ہم نے سرکاری وکلا سے مشورہ کیا تو انھوں نے ہمیں مارا پیٹا۔'

پولیس نے بعد میں ایف آئی آر میں توہم پرستی اور جادو ٹونے کے خلاف دفعات شامل کیں۔

مجموعی طور پر ایسا لگتا ہے کہ پولیس کو توہم پرستی اور جادو ٹونے سے متعلق قوانین کی بہت محدود سمجھ ہے۔

BBCدھڑگاؤں پولیس سٹیشنتوہم پرستی اور جادو ٹونے کے قانون کے تحت کم مقدمات کا اندراج Getty Imagesخواتین کو چڑیل کہہ کر ان پر کئی طرح کے مظالم کیے جاتے ہیں

سال 2024 میں خواتین کو 'چڑیل' قرار دینے کے نو مقدمات ڈھاڈگاؤں پولیس نے درج کیے تھے۔ جب پولیس انسپکٹر راجندر جگتاپ سے ان جرائم کی تفصیلات پوچھی گئیں تو انھوں نے کہا کہ ثبوت کی کمی کی وجہ سے توہم پرستی اور جادو ٹونے کے قانون کو ان شکایت کی چارج شیٹ سے ہٹانا پڑا۔

پولیس کا خیال ہے کہ قبائلی بھتہ خور گاؤں میں تنازعات کا بدلہ لینے کے لیے اس قانون کا استعمال کرتے ہیں۔

علاقے کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر کوئی جھگڑا لڑائی کا باعث بنتا ہے، تو نئے تعزیرات ہند کے قانون کی دفعہ 115(2) لاگو ہوتی ہے۔ یہ ناقابلِ سزا جرم بن جاتا ہے۔ پھر سبق سکھانے اور بدلہ لینے کے لیے لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک چڑیل کو بلایا گیا تھا۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان پڑھ قبائلیوں کو قانون کے بارے میں اتنا کچھ کیسے معلوم ہے، تو انھوں نے کہا کہ ان کی درخواست ٹائپ کرنے والا شخص یا پولیس افسر انھیں معلومات دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر آپ انسداد توہم پرستی اور جادو ٹونہ ایکٹ کو صحیح طریقے سے پڑھتے ہیں، تو آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ شخص جسے 'چڑیل' کہا گیا ہے، سیکشن ٹو سی اور ٹوبی کے مطابق، گھر میں 'اگھوری پوجا' کرتا ہے یا آیا اس کے لیے سامان گھر پر موجود ہے۔'

’انھوں نے میرے آباؤ اجداد کو چڑیل کہہ کر مار دیا‘بنارس یونیورسٹی میں شعبہ بھوت پریت کا آغاز

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نندربار ڈسٹرکٹ کی کلکٹر ڈاکٹر متالی سیٹھی نے کہا کہ 'خواتین کو 'چڑیل' قرار دے کر ہراساں کرنے کی بہت سی شکایات اکثر پولیس میں درج ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن موصول ہونے والی شکایات کی تعداد اصل جرائم سے کم ہے۔'

چڑیل ہونے کا الزام لگانے کے بعد مارا پیٹا جانا بہت سنگین معاملہ ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ 'یہ تشدد پولیس تک پہنچنے والی معلومات سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ہو سکتا ہے۔'

انتظامیہ نے ضلعی سطح پر انسداد توہم پرستی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ان کی باقاعدہ ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ وہاں موصول ہونے والی شکایات پر بھی بات کی جاتی ہے۔

ڈسٹرکٹ کلکٹر سیٹھی نے کہا کہ مختلف ادارے اور تنظیمیں ان خواتین کی مدد کر رہی ہیں جو شکایت کرنے کے لیے آگے نہیں آسکتی ہیں۔ خواتین کے خلاف مظالم کی شکایات بھی ان کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔ جیسے ہی پولیس کو شکایت ملتی ہے، فوری کارروائی کی جاتی ہے۔'

اس کے علاوہ ڈاکٹر سیٹھی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ عوامی آگاہی پر بھی توجہ دیتی ہے۔

لیکن نندربار ضلع کلکٹر کے طور پر اپنے چھ ماہ کے دور میں، انھوں نے دیکھا کہ اس متعلق مہم کی ویڈیوز میں نظر آنے والے لوگ مقامی قبائلیوں سے واقف نہیں تھے۔

ڈاکٹر سیٹھی نے کہا کہ 'ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس اب مقامی سطح پر اس کے لیے ایک محکمہ بنائے گا۔ اس کے ذریعے مقامی لوگوں میں قبائلی زبان میں ہی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ ویڈیوز خاص طور پر 14 سے 18 سال کی عمر کے سکول جانے والے بچوں کے لیے ہوں گی۔'

انھوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ انتظامیہ جادو ٹونہ کے شکار افراد کی بحالی کے لیے کچھ اقدامات کرے گی۔

ڈاکٹر سیٹھی نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں پولیس کے لیے بھی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا جائے گا اور نہ صرف قانون کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی بلکہ خواتین کے خلاف تعصبات کے خاتمے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔

اصل ذمہ دار کون ہے؟BBCسوگی بائی نے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔

اے این این آئی ایس کے کارکن ونائک ساولے نے کہا کہ خواتین کو 'چڑیل' قرار دینے کے معاملے کے حوالے سے پولیس کا نظام نہ صرف نااہل ہے بلکہ بے حس بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اس کے علاوہ انتظامیہ، تعلیم اور صحت کا نظام اس مسئلے کو قبول نہیں کرتا۔ کوئی بھی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ عام قبائلی لوگوں میں طویل عرصے تک آگاہی پیدا کرنا ہو گی۔ لیکن جب اس کے لیے وسائل کم ہو تو اور کتنی خواتین اس کا شکار رہیں گی؟'

ان کا کہنا ہے کہ اب تک ڈائن پریکٹس تمام پیچیدگیوں کے درمیان ایک نظر انداز مسئلہ رہا ہے، ایسا مسئلہ جس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا۔

اندھیرے میں بیٹھی سوگی بائی کے معاملے میں بھی یہی کچھ نظر آیا۔ مقامی پولیس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے کے بعد، سوگی بائی 2021 میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے شکایت کرنے نندربار گئیں۔

ایک سیلون میں کام کرنے والے سوگی بائی کے بیٹے نے کہا کہ 'عدالت میں ہماری طرف سے لڑنے والا سرکاری وکیل ملزم کے وکلاء کے ماتحت کام کرنے والا ایک معاون ہے۔'

سوگی بائی کا خیال ہے کہ قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے تاکہ خواتین کو 'چڑیل' کہہ کر ہراساں کرنے والوں کو چھ ماہ سے لے کر ایک سال تک کی مقررہ مدت کی سزا دی جائے۔

لیکن کئی دنوں سے ان کے مقدمے کی سماعت کی تاریخ نہیں آئی۔ ملزم نے ایک دن جیل میں گزارا اور پھر ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جس سے سوگی بائی کا خاندان مزید خوف ک شکار ہوا۔

سوگی بائی کی سب سے بڑی بیٹی، 27 سالہ ارچنا (فرضی نام) نے کہا کہ'ہمیں نہیں معلوم کہ لوگ ہمیں کب ماریں گے، چاہے ہم کہیں بھی جائیں۔'

ارچنا کہتی ہیں کہ 'رات کو ہم اپنے دروازے بند کر کے، لالٹس بند کر کے اور اپنے موبائل فون کو سائلنٹ موڈ پر رکھ کر بیٹھتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی آواز آتی ہے تو ہم دھیمی آواز میں بولتے ہیں۔ ہمیں صرف ڈر لگتا ہے کہ کوئی ہماری آواز سن کر واپس آ کر ہمیں مار دے گا۔'

اگر ماں کو 'چڑیل' قرار دیا جاتا ہے تو یہ بدنامی کا داغ بیٹی پر بھی لگایا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ماں اپنی بیٹی کو دودھ کے ذریعے جادو ٹونے کا فن سکھاتی ہے۔ اس لیے ارچنا اچھی طرح جانتی ہے کہ مستقبل میں وہ بھی 'چڑیل' کہلائے گی۔

اسے لگتا ہے کہ انھیں ان تمام پریشانیوں کو پیچھے چھوڑ کر کم از کم ایک دن کے لیے دل سے ہنسنا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ماں تو مر گئیں۔ لیکن ہمارا کیا۔' اس کے سوال نے سوگی بائی کی جھونپڑی کے اندھیرے کو مزید گہرا کر دیا کیونکہ یہ نندربار کی اس جیسی کئی نوجوان لڑکیوں کی آواز تھی۔

بزرگوں پر جادو ٹونے کا الزام لگا کر انھیں قتل کرنے کی کوشش کیوں؟’انھوں نے میرے آباؤ اجداد کو چڑیل کہہ کر مار دیا‘بنارس یونیورسٹی میں شعبہ بھوت پریت کا آغازیورپ کا بھوت ٹرین سٹیشن پھر سے زندہ ہو گا؟ہپناسس: درد سے نجات کا قدیم طریقہ جسے سائنسی شواہد کے باوجود جادو ٹونا سمجھا جاتا ہےفلپائن کا وہ ’طلسماتی جزیرہ‘ جہاں آج بھی ہر بیماری کا علاج ’جادو ٹونے‘ سے کیا جاتا ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More