زاہد مصطفیٰ 35 سال سے امریکہ میں مقیم ہیں جہاں نیو جرسی میں وہ گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان کے پانچ امریکن نیشنل بچے جن کی عمریں اٹھارہ سے لے کر چار سال تک ہیں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اپنی والدہ کے ساتھ پشاور میں مقیم ہیں کیونکہ زاہد کی اہلیہ کو آج تک امریکی ویزا نہیں مل سکا۔
اب امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی جانب سے دی گئی ویزے کی ایسی درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے جن کی مدد سے وہ امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے تھے۔
یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور ویزا پابندیوں کے حوالے سے حالیہ دنوں میں یہ امریکہ کا سب سے سخت اقدام ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے زاہد مصطفیٰ بتاتے ہیں کہ ’ابھی جب امید پیدا ہوئی کہ اہلیہ کو امریکی ویزا مل جائے گا کیونکہ تمام پراسیس مکمل ہوچکا ہے تو امریکہ نے پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جن کے لیے امیگریشن ویزا پراسیس معطل کیا گیا۔‘
وہ کہتے ہیں ’اب پتا نہیں میرے امریکی نیشنل بچوں اور ان کی والدہ کا کیا مستقبل ہو گا۔‘
پابندی کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے قونصل افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ امیگریشن کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دیں۔
تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کو امیگرینٹ ویزا جاری کیا جا چکا، اسے منسوخ نہیں کیا جا رہا اور متاثرہ ممالک کے شہری امیگرنٹ ویزا کی نئی درخواستیں بھی جمع کروا سکتے ہیں اور انٹرویوز دے سکتے ہیں لیکن جب تک پابندی لاگو رہے گی اس وقت تک انھیں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
Getty Images
امریکہ کی جانب سے امیگریش ویزا پراسیس معطل ہونے سے صرف زاہد مصطفیٰ ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی واحد علی بھی ان میں شامل ہیں۔
واحد علی گذشتہ کچھ سال سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان میں مقیم ہیں جبکہ ان کا 23 سالہ بیٹا جو امریکہ میں پیدا ہوا تھا، اس وقت امریکہ میں ہی مقیم ہے۔
ان کا بیٹا وہاں پر تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرتا ہے تاکہ اپنے والدین کو امریکہ بلا سکیں۔ واحد علی کی اہلیہ کو ویزا مل چکا جبکہ واحد علی کا اپنا ویزا پراسیس آخری مراحل میں ہے۔
واحد علی کہتے ہیں کہ ’مجھے کہا جا رہا ہے کہاہلیہ کو21 تاریخ سے پہلے بھیج دوں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بعد میں ان کو بھی امریکہ داخل نہ ہونے دیا جائے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنی اہلیہ کے بغیر اور بیٹا اپنی والدہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘
امریکی ویزا پابندیاں: پاکستانیوں کا 'امریکی ڈریم' خطرے میں’یہ میرے پاس ہو تو میں زیادہ محفوظ ہوں‘: امریکہ میں ملک بدری کے منڈلاتے خطرے کے بیچ تارکینِ وطن کو ’ریڈ کارڈ‘ کا سہاراپاکستانی پاسپورٹ بدستور نچلے درجے پر مگر وہ 33 ممالک جہاں پاکستانی پہنچ کر ویزہ لے سکتے ہیں75 ممالک کے لیے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘معطل: ’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی کیوں لگائی‘
واحد علی کہتے ہیں کہ ’میں کچھ برس قبل اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ پاکستان واپس آ گیا تھا۔ میرا بیٹا امریکہ میں پیدا ہوا اور وہ امریکن نیشنل ہے۔ کچھ سال قبل بیٹا واپس امریکہ چلا گیا جہاں پر اس نے تعلیم کے ساتھ ساتھ کام کرنا شروع کر دیا اور ہمارے لیے ویزا پراسیس شروع کیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس ویزا پراسیس میں کافی وقت لگا اور جب تمام قانونی تقاضے پورے ہو گئے تو اچانک ہی پراسیس کو معطل کر دیا گیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ’ہم انتہائی ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں اور سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ میری اہلیہ کی بھی عجیب صورتحال ہے، ایک طرف بیٹا اور دوسری طرف میں ہوں۔‘
واحد علی کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل میرے بیٹے کو امریکہ میں ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ جس کے بعد علاج معالجے سے بہتری تو آئی مگر اسے ایک سرجری سے گزرنا ہے اور اس کا کوئی بھی قریبی اس کے پاس نہیں جو اس کا خیال رکھ سکے۔ اس وجہ سے وہ سرجری ابھی تک ممکن نہیں ہو پائی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرجری نہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اس کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
واحد علی کا کہنا تھا کہ ’میرا اپنی اہلیہ کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے جبکہ بیٹا اپنی والدہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور میں درمیان میں لٹکا ہوا ہوں کیونکہ اب میری درخواست پر پراسیس ہی معطل ہو گیا۔ پتا نہیں یہ کتنے عرصے کے لیے ہے اور ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔‘
Getty Images’ہم مجبور ہیں، بچے اپنی والدہ کے بغیر نہیں رہ سکتے‘
زاہد مصطفیٰ کہتے ہیں کہ ’میری اہلیہ کے ویزے کا سارا پراسیس تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ ان کا بائیو میٹرک بھی ہوا اور امید تھی کہ اب کچھ ہی دن میں انٹرویو کی تاریخ آ جائے گی اور میری اہلیہ ہمارے پانچ بچوں کے ساتھ امریکہ آ سکے گیں مگر اب میں سکتے کے عالم میں ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے امریکن نیشنل بچے صرف اس لیے امریکہ نہیں آسکے کہ ان کی والدہ کے پاس ویزا نہیں تھا۔‘
زاہد کا کہنا تھا کہ ’میرے بچے پشاور میں مقیم ہیں جہاں پر امن وامان کی صورتحال سنگین ہے۔ مگر ہم مجبور ہیں کہ چھوٹے بچے اپنی والدہ کے بغیر نہیں رہ سکتے اور میں خود کاروبار میں مصروف ہوتا ہوں، ان کو امریکہ میں رکھ کر ان کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا۔‘
زاہد کا کہنا تھا کہ ہمارا خاندان طویل عرصےسے بکھرا ہوا ہے۔ ’ہمیں زندگی میں ایک ساتھ رہنے کا موقع بہت کم ملا۔ میں اپنے بچوں اور اہلیہ سے جدا رہا ہوں جبکہ بچے اور اہلیہ بھی میرے بغیر ہی رہے ہیں۔‘
’قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ سب سہتے رہے تاکہ اہلیہ امریکہ آ سکیں مگر اب سارا کچھ بدل گیا اور میں شدید ذہنی کرب کا شکار ہوں۔‘
’دو سالہ بچہ والدین سے دور‘
اویس خالد سنہ 2018 سے امریکہ میں مقیمہیں۔ انھوں نے پاکستان میں شادی کی تو ان کی اہلیہبھی تھوڑے عرصے کے بعد گرین کارڈ پر امریکہ پہنچ گئیں اور دونوں نے اپنے بیٹے کو امریکہ بلانے کے لیے پراسیس شروع کر دیا۔
کئی ماہ کے بعد انٹرویو کے لیے فروری کے پہلے ہفتے کی تاریخ رکھی گئی مگر اب ویزا پراسیس معطل ہو چکے ہیں۔
اویس خالد کہتے ہیں کہ ’میں نے پہلے امریکہ آ کر گرین کارڈ حاصل کیا اور پھر شہریت حاصل کی جس کے بعد میری اہلیہ بھی گرین کارڈ پر امریکہ آ گئیں تھیں۔‘
’گرین کارڈ ملنے کے بعد میری اہلیہ کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنا زیادہ وقت امریکہ میں گزاریں جس وجہ سے ہمیں اپنے کم عمر بیٹے کو اس کی نانی کے پاس چھوڑنا پڑا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ کے پراسیس کے بعد فروری کے پہلے ہفتے میں انٹرویو کی تاریخ آئی اور ’ہم پرامید تھے کہ میرے بیٹے کو ویزا مل جائے گا اور وہ ہمارے پاس جائے گا مگر اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہوا۔ میں امریکہ میں کام کرتا ہوں اور مکمل ٹیکس ادا کرتا ہوں۔‘
اویس خالد کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال ہمارے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو چکی ہے۔ سوچ رہے ہیں کیا کریں کیونکہ بیٹے کو زیادہ عرصہ ماں باپ کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر اہلیہ واپس جاتی ہیں تو میں تنہا رہ جاؤں گا۔‘
اویس خالد کی اہلیہ نسیم کہتی ہیں کہ ’میں تین ماہ پہلے پاکستان اپنے بیٹے کو ملنے کے لیے گئی تھی اور گرین کارڈ کی وجہ سے زیادہ عرصہ نہیں رک سکتی تھی مگر واضح طور پر پتا چل رہا تھا کہ چاہیے نانا نانی اور دیگر رشتہ دار بچے کا جتنا بھی خیال رکھیں، ماں باپ کے بغیر اس کی پرورش اس طرح نہیں ہو سکتی جس کا تقاضا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اکثر بیمار رہتا ہے اور ہمیں ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اظہار تو نہیں کر سکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کے بغیر اس کا رویہ جارحانہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے بیمار رہتا ہے۔ اس کی یہ حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے جس کے بعد اس کو بولنے اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔‘
نسیم اویس کہتی ہیں کہ ’اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ممکنہ طور پر مجھے اپنے خاوند کو چھوڑ کر اپنے بیٹے کے پاس جانا پڑے گا اور یہ بھی مجھے گوارہ نہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم عجیب و غریب صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں جس کا حل صرف انسانی ہمدری کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔‘
’کچھ پتا نہیں یہ معطلی کب تک رہے گی‘
رخسانہ ناز خٹک گذشتہ کئی سال سے ویزہ ایمیگریشن کی کنسلٹنسی سے منسلک ہیں۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
رخسانہ ناز کہتی ہیں کہ فی الحال یہ تو نہیں بتایا جا سکتا کہ ویزہ پراسیس کی معطلی سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے تاہم ہمارے اندازوں کے مطابق پوری دنیا میں کم از کم چار لاکھ لوگ ہر وقت ویزہ پراسیس مکمل ہونے کے انتظار میں ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق صرف اسلام آباد میں سوموار سے جمعہ تک روزانہ کم سے کم 80 سے 100 لوگوں کے انٹرویو ہو رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ویزہ پراسیس میں انٹرویو تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ’مختلف ویزوں کی مختلف کیٹیگریز ہیں۔ ماں باپ اور اپنے پارٹنر کو بلانے کے لیے نسبتاً کم انتظار کرنا پڑتا ہے جو کم از کم ڈھائی سال ہے جبکہ بہن بھائیوں کو بلانے کے لیے 17 سال تک بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
رخسانہ ناز کہتی ہیں کہ اس عرصے کے دوران مختلف پراسیس ہوتے ہیں جس کے دوران مختلف دستاویزات جمع کروانے پڑتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم دستاویز آمدن کا ثبوت اور اس کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ویزے کی درخواست دینے والا اپنی آمدن کے ثبوت کے ساتھ بیان حلفی بھی جمع کرواتا ہے کہ وہ جس کو بلا رہا ہے، ان کی ہر حال میں مکمل سپورٹ کرے گا۔
رخسانہ ناز خٹک کا کہنا تھا کہ جو لوگ لمبا انتظار کر کے انٹرویو کی تاریخ کے قریب پہنچے تھے ان کے لیے یہ اقدام بہت بڑی مایوسی ہے۔
’کئی خاندان مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ معطلی کے نوٹس میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا اور کچھ پتا نہیں کہ یہ معطلی کب تک رہے گی۔‘
75 ممالک کے لیے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘معطل: ’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی کیوں لگائی‘پاکستانی پاسپورٹ بدستور نچلے درجے پر مگر وہ 33 ممالک جہاں پاکستانی پہنچ کر ویزہ لے سکتے ہیں75 ممالک کے لیے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘معطل: ’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی کیوں لگائی‘امریکی ویزا پابندیاں: پاکستانیوں کا 'امریکی ڈریم' خطرے میں