نومبر 2025 میں انڈیا نے 73 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی جس کا مقصد چین پر انحصار کم کرنا ہے، خاص طور پر ’ریئر ارتھ میگنیٹس‘ یعنی نایاب دھاتوں سے بنے طاقتور مقناطیس کی پیداوار میں۔
یہ چھوٹے مگر انتہائی طاقتور مقناطیس جدید آلات کے بنیادی ستون ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز، سمارٹ فونز، میڈیکل سکینرز اور دفاعی آلات سمیت ہر شعبے میں استعمال ہوتے ہیں۔
ریئر ارتھ کا مکمل نظام تیار کرنا مہنگا، پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ انڈیا نے میگنیٹس یا مقناطیس پر توجہ مرکوز کر کے، جو ریئر ارتھ کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مصنوعات میں سے ایک ہیں، زیادہ جلدی خود انحصاری حاصل کرنے کا ہدف بنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس میدان میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ملک کتنی تیزی سے اس ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرتا ہے، اسے کس طرح سے محفوظ کرتا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار کس انداز میں بڑھاتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت منتخب مینوفیکچررز کو سرمایہ اور فروخت سے منسلک مراعات دی جائیں گی تاکہ وہ سات سال کے اندر سالانہ 6000 ٹن مستقل میگنیٹس تیار کریں۔ یعنی ایسے مقناطیس جو ہمیشہ اپنی کشش برقرار رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتے۔ اتنی بڑی مقدار میں اس مقناطیس کی تیاری کا مقصد بڑھتی ہوئی ملکی طلب کو پورا کرنا ہے جو حکام کے مطابق پانچ سال میں دوگنی ہو جائے گی۔
صنعتی ماہرین خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف پیسہ کافی نہیں ہوگا۔
آج انڈیا 80 سے 90 فیصد میگنیٹس اور متعلقہ مواد چین سے درآمد کرتا ہے جو عالمی ریئر ارتھ پروسیسنگ کا 90 فیصد سے زیادہ پر اپنا قبضے جمائے ہوئے ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا نے سنہ 2025 میں تقریباً 22 کروڑ دس لاکھ ڈالر مالیت کے میگنیٹس اور متعلقہ خام مال درآمد کیا۔
انڈیا کے چین پر انحصار کی یہ بات گذشتہ سال اس وقت سامنے آئی کہ جب چین نے ایک تجارتی تنازع کے دوران برآمدات پر کُچھ سختی کر دی، جس سے انڈین کار ساز اور الیکٹرانکس کمپنیاں متاثر ہوئیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو ریئر ارتھ میگنیٹس کے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
یہ رکاوٹ وقتی تھی لیکن اس سے جو سبق ملا وہ باقی رہا، اور وہ یہ تھا کہ اگر انڈیا اس میں آگے نہیں آتا تو صنعتیں کمزور پڑ سکتی ہیں اور اس کا مُلکی معشیت پر گہرا اثر پڑے گا۔
ای وائی انڈیا کے ٹیکس اور اقتصادی پالیسی کے ماہر راجنیش گپتا کہتے ہیں کہ ’انڈیا اکیلا نہیں ہے جو متبادل تلاش کر رہا ہے۔ یورپی یونین، آسٹریلیا اور دیگر نے بھی چین کی گرفت کو کم کرنے کے لیے اسی طرح کی کوششیں شروع کی ہیں۔ بہت سے ممالک کے لیے یہ سب حیران کر دینے والی رفتار سے سامنے آیا ہے۔‘
تاہم انڈیا کے لیے یہ چیلنج کُچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔
Bloomberg via Getty Imagesانڈیا اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے مقناطیس بنانے کی کوشش میں ہے
ماہرین کہتے ہیں کہ ’ایک وجہ یہ ہے کہ انڈیا کے پاس صنعتی مہارت کی کمی ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک نے برسوں تک مقناطیس بنانے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کے پاس تجارتی پیمانے پر تقریباً اس معاملے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔‘
بیٹریوں اور ریئر ارتھ منرلز سے متعلق ایک فرم بینچ مارک منرل انٹیلیجنس کی نیہا مکھرجی کہتی ہیں کہ ’یہ درست سمت میں ایک اچھا قدم ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’انڈیا کو سٹریٹجک شراکت داریوں کی ضرورت ہو گی تاکہ ٹیکنالوجی درآمد کرے، اپنی ورک فورس کو تربیت دے اور پھر اپنی صلاحیتیں میں خود آگے بڑھے۔‘
چین اور امریکہ کے بعد انڈیا بھی نایاب دھاتوں کی دوڑ میں شامل: مودی کا 70 ارب روپے کا منصوبہ اتنا اہم کیوں؟دنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر جو مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گانایاب معدنیات: کیا چین کے ہاتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی دُکھتی رگ لگ چکی ہے؟’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟
نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف سائنسدان ڈاکٹر پی وی سندر راجو نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں کہ صرف 73 ارب روپے دے دیے جائیں اور بغیر مستند تحقیق و ترقی کے پس منظر کے کوئی مصنوعات حاصل کر لی جائیں۔‘
وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کئی تحقیقی مراکز موجود ہیں جنھیں اس کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ ایک سہولت سنہ 2023 میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر میں قائم کی گئی تھی اور ایک اور پلانٹ جو عوامی اور نجی شراکت داروں کی مدد سے بنایا جا رہا ہے سنہ 2030 تک سالانہ 5000 ٹن میگنیٹس تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
لیکن ابھی تک کسی نے پیداوار کی اطلاع نہیں دی ہے۔
یہاں خام مال کا سوال بھی ہے۔ انڈیا کے پاس دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ریئر ارتھ ذخائر موجود ہیں جو عالمی ذخائر کے کل کا تقریباً آٹھ فیصد ہیں جو زیادہ تر ساحلی ریاستوں جیسے کیرالہ، تمل ناڈو، اوڈیشہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور گجرات کی ریت میں موجود ہے۔ پھر بھی یہ عالمی کان کنی کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
فی الحال صرف ایک کان جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں فعال ہے اور ابھی تک اس کی زیادہ تر پیداوار جاپان کو ایک دو طرفہ معاہدے کے تحت برآمد کی جاتی تھی۔ (تاہم جون سنہ 2025 میں انڈیا نے مبینہ طور پر ریاستی کان کن کمپنی آئی آر ای ایل کو یہ برآمدات معطل کرنے کو کہا تاکہ ملکی ضروریات کے لیے اسے محفوظ کیا جا سکے۔)
Corbis via Getty Imagesانڈیا میں نایاب معدنیات کے ذخائر زیادہ تر اس کے ساحل کے ساتھ ریت میں پائے جاتے ہیں
در حقیقت انڈیا بڑی تیزی سے فعال انداز میں اب کان کنی اور پروسیسنگ آپریشنز کو وسعت دینے پر کام کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر اس نے نیشنل کرٹیکل منرل مشن قائم کیا ہے جس کے تحت اس نے ذخائر برقرار رکھنے اور اپنی سپلائی چین کو مضبوط رکھنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
لیکن اگرچہ وہ اپنے ریئر ارتھ ذخائر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے، اس کے پاس صرف کچھ عناصر ہیں جو میگنیٹس بنانے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اس کے پاس ہلکے ریئر ارتھ جیسے نیوڈیمیم کی اضافی مقدار موجود ہے لیکن اس کے پاس بھاری عناصر جیسے ڈیسپروسیم اور ٹربیئم کی مناسب مقدار نہیں ہے جو کئی اعلیٰ کارکردگی والے میگنیٹس کے لیے نہایت اہم ہیں۔
تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میگنیٹس یا مقناطیس انڈیا میں بن بھی جائیں، تو کیا خام مال پھر بھی چین سے آئے گا؟
مکھرجی کہتی ہیں کہ ’اس آپریشن کے پیمانے کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ انڈیا پہلے ہی اندازاً سالانہ 7000 ٹن مقناطیس استعمال کرتا ہے۔ 2030 کی ابتدائی دہائی تک 6000 ٹن پیداوار بھی ملک کو کمی اور خطرے سے دوچار کر سکتی ہے کیونکہ طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘
مکھرجی اس پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اگر ہم صلاحیت کو بڑے پیمانے پر نہ بڑھائیں، تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم پھر بھی چین پر انحصار کریں گے اور چین اپنی صلاحیت بڑھائے گا۔‘
ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک اور چیلنج یہ ہوگا کہ مقامی طور پر بنے میگنیٹس کی قیمت اس طرح مقرر کی جائے کہ وہ درآمدات کے مقابلے میں کمزور نہ پڑیں۔ چینی مقناطیس سستے ہیں اور اگر انڈین متبادل مسابقتی قیمت پر نہ ہوں تو درآمدات غالب رہ سکتی ہیں۔
کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حل صرف مینوفیکچررز کے لیے نہیں بلکہ خریداروں کے لیے بھی مراعات میں ہو سکتا ہے۔
گپتا کہتے ہیں کہ ’اُمید ہے کہ انڈیا میں اس میدان میں قدم رکھنے والے بھی اپنی کاروباری توانائی لگاتے رہیں گے اور اس نظام کو آگے بڑھائیں گے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’چیلنجز کے باوجود اس سکیم کا آغاز انڈیا کی اپنی ریئر ارتھ ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کی خواہش کا اعتراف ہے اور یہ قابلِ قدر ہے۔‘
’میرے خیال میں تو یہ اس بات سے بہت بہتر ہے کہ بالکل قدم ہی نہ اٹھایا جائے۔‘
چین اور امریکہ کے بعد انڈیا بھی نایاب دھاتوں کی دوڑ میں شامل: مودی کا 70 ارب روپے کا منصوبہ اتنا اہم کیوں؟’بی وائی ڈی‘: سستی الیکٹرک کاریں بنانے والی چینی کمپنی نے ایلون مسلک کی ’ٹیسلا‘ کو کیسے مات دی؟مشرق وسطیٰ میں پہلا امریکی ’خودکش ڈرون یونٹ‘ جس کے ڈرونز کو ایران کے ’شاہد‘ کی نقل قرار دیا جا رہا ہےدنیا کا طاقتور ترین کمپیوٹر جو مستقبل میں کمپنیوں اور ممالک کی کامیابی اور ناکامی کی پیش گوئی کر سکے گاالیکٹرا میٹرو: پاکستان میں سستی الیکٹرک ’گاڑیوں‘ کے خریداروں کو کِن چیزوں پر سمجھوتہ کرنا ہو گا؟نایاب معدنیات: کیا چین کے ہاتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی دُکھتی رگ لگ چکی ہے؟