Lewis Relfe
یہ ایک آن لائن رومانس ہے جس نے 3500 میل کا فاصلہ بھی جھیل لیا اور کووڈ وبا بھی۔ جس کا مطلب ہے انھیں ورچوئلی شادی کرنا پڑی۔
برطانیہ میں ویلز کے رہائشی لیوس ریف چیز بنانے کا کام کرتے ہیں۔ سنہ 2017 میں فرائیڈے دی تھرٹینتھ نامی ہارر ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے انھوں نے امریکی ریاست ورجینیا کی امیلیا ہنڈرسن سے تعلق قائم کیا۔
ریف سے ملنے کے لیے امیلیا نے کتنی ہی بار بحر اوقیانوس پار کیا، ایک بار تو وہ چھ ماہ تک رہیں۔ ویلز کے قصبے ابیرس ٹوئٹھ میں سمندر میں جاتے پُل پر کھڑے ہو کر ریف نے امیلیا کو شادی کی پیشکش کی۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے گیم کے مرکزی کردار جیسن وورہیز جیسا لباس پہنا تھا۔
انھیں یہ بات خاصی مزاحیہ لگتی ہے کہ وہ ایک ایسا جوڑا ہیں جس کی ملاقات بھی ورچوئلی ہوئی اور شادی بھی، تاہم اب وہ اپنی بیٹی ایویلین کے ساتھ ویلز کے علاقے کیری ڈیگیئن میں رہتے ہیں۔
Ameila Relfeہیلووین کی رات لیوس ریلف نے سمندر میں جاتے پُل پر کھڑے ہو کر امیلیا کو شادی کی پیش کش کی
لیکن والدین بننے کے بعد ذمہ داریوں کی وجہ سے اب وہ اُس چیز کا لطف نہیں اٹھا پاتے جس نے ان کا ملن کرایا تھا۔
اب دونوں میں سے ایک گیم کھیلتا ہے اور دوسرا ایویلین کو بہلاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ دونوں مل کر فرائیڈے دی تھرٹینتھ یا کوئی دوسری گیم اب نہیں کھیل سکتے۔
گذشتہ سال ورجن میڈیا کی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ 51 فیصد برطانوی شہری ڈیٹنگ ایپس کے بجائے آن لائن گیمنگ کے ذریعے اپنے رومانوی ساتھی سے ملنا پسند کریں گے۔
لیوس ریف کہتے ہیں: ’امیلیا کا کسی سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہ گیم چھوڑنے ہی والی تھیں کہ انھیں برطانوی لہجہ سنائی دیا۔‘
یوں وہ آن لائن گیمنگ کی دنیا میں امیلیا سے اتفافیہ ملنے کی کہانی بیان کرتے ہیں، ایک ایسی دنیا، جہاں، لیوس کے مطابق، مردوں کا غلبہ ہے۔
Lewis Relfeگذشتہ سال جوڑے کے ہاں پہلی اولاد ہوئی، اب انھیں اکٹھے ویڈیو گیمز کھیلنے کا وقت نہیں ملتا
ویڈیو گیم فرائیڈے دی تھرٹینتھ کھیلنے والوں کو قاتل جیسن وورہیز سے بچ نکلنے کی کوشش کرنا ہوتی ہے۔ یہ گیم کھیلتے ہوئے لیوس ریلف بھی اسی ٹیم میں منتخب ہوئے جس میں امیلیا موجود تھیں۔
یہ کردار سنہ 1980 کی کلاسیکی ڈراؤنی فلم میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔ اس پر مجموعی طور پر 12 فلمیں، ناول، کامک بکس اور ویڈیو گیمز بن چکی ہیں۔
لیوس نے پھر امیلیا کو ایک وائس پارٹی میں شامل ہونے کی درخواست بھیجی، جہاں کھلاڑی ایک دوسرے سے نجی طور پر بات کر سکتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ امیلیا نے درخواست قبول تو کر لی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا غلطی سے ہوا تھا۔
لیوس ریلف کے مطابق: ’میرے ذہن میں تھا کہ لڑکیوں سے کبھی آن لائن بات نہیں کروں گا۔ لیکن جب امیلیا سے ملا تو سوچا، ایک بار کوشش کر ہی لی جائے۔‘
Getty Imagesامیلیا کو شادی کی پیش کش کرتے ہوئے لیوس نے گیم کے ولن جیسا لباس پہنا
اس اتفاقیہ ملاقات کے بعد وہ دونوں قریبی دوست بن گئے، پھر آہستہ آہستہ یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔
امیلیا اب بھی ورجینیا میں رہتی تھیں، اس کا مطلب ہے دونوں کی ملاقات کم کم ہی ہو پاتی تھی۔
لیوس کہتے ہیں: ’مستقل طور پر یہاں منتقل ہونے سے پہلے، آخری بار امیلیا چھ ماہ کے لیے آئیں تاکہ فیصلہ کر سکیں۔ اگر اس کے بعد بھی ہم ایک دوسرے کو برداشت کر سکتے تھے تو اس کا مطلب تھا یہ رشتہ چل جائے گا۔‘
امیلیا کے واپس جانے سے پہلے لیوس انھیں شادی کی پیشکش کرنا چاہتے تھے۔ اور پھر انھوں نے ایسا ہی کیا، ہیلووین کی رات ابیرس ٹوئٹھ کے پُل پر کھڑے ہو کر انھوں نے یہ پیشکش کی۔
اس موقع پر انھوں نے گیم کے ولن جیسن وورہیز جیسا لباس پہنا تھا۔
لیوس یاد کرتے ہیں کہ وہ سمندر کی باتیں کر کے امیلیا کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے اور پھر ’جب وہ پلٹیں تو میں گھٹنوں کے بل تھا، ہاتھ میں انگوٹھی لیے۔‘
Lewis Relfeامیلیا کہتی ہیں کہ کیری ڈیگیئن کا منظر انھیں اپنے گھر کی یاد دلاتا ہے
سنہ 2021 شروع ہوتے ہی لیوس اور امیلیا ایک ورچوئل تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
اگرچہ یہ فیصلہ کووڈ وبا کی وجہ سے مجبوری میں کرنا پڑا تھا، لیکن انھیں یہ بات بہت مزاحیہ لگتی ہے کہ وہ ایک ایسا جوڑا ہیں جس کی ملاقات بھی آن لائن ہوئی تھی اور شادی بھی۔
لیوس ہنستے ہوئے کہتے ہیں: ’کم از کم یہ شادی کی ایک باقاعدہ تقریب جتنی مہنگی تو نہیں تھی۔‘
چھ سال تک ایک دوسرے سے دور رہنے کے بعد امیلیا ویلز منتقل ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
سنہ 2023 میں وہ کیری ڈیگیئن پہنچیں جہاں لیوس چیز بنانے میں معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ’یہ بالکل مختلف ہے۔ جہاں سے میں آئی ہوں، اس کے مقابلے پر یہاں کی زندگی زیادہ پر سکون اور آرام دہ ہے۔ مجھے یہاں نوکری بھی مل گئی ہے اور میل جول بھی بڑھا ہے۔ سب لوگ بہت اچھے ہیں، مجھے یہ سب اچھا لگتا ہے۔‘
کیا آپ واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں یا یہ صرف ہوس ہے؟ فرق کیسے معلوم کیا جائےدنیا میں مقبول ہم جنس پرست خواتین کی محبت پر مبنی ڈرامے کس طرح کروڑوں ڈالر کی منافع بخش صنعت بنے’محبت گمشدہ میری‘: ’یہ لڑکا لڑکی کی پہلی محبت کی کہانی ہے۔۔۔ رومیو جولیٹ کا دیسی ورژن‘شاہ جہاں اور ممتاز کی شادی، جس کے لیے منگنی کے بعد پانچ سال تک انتظار کرنا پڑا
امیلیا کہتی ہیں کہ کیری ڈیگیئن کا منظر انھیں اپنے گھر کی یاد دلاتا ہے، کیوں کہ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتی تھیں جہاں ’بہت سا زرعی رقبہ اور پہاڑیاں تھیں۔‘
لیکن وہاں ساحل سمندر ان سے چھ گھنٹے کی دوری پر تھا اور یہاں صرف چند منٹ کی دوری پر۔
وہ کہتی ہیں: ’یہ بہت اچھا ہے کہ ساحل سمندر صرف 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔‘
امیلیا ویلز کی تاریخ کے بارے میں بھی ذوق و شوق سے جان رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا: ’مجھے ہمیشہ سے قرون وسطیٰ کے دور سے دلچسپی رہی ہے، قلعوں اور تاریخی مقامات کی سیر کرنا واقعی بہت زبردست ہے۔‘
Lewis Relfeسنہ 2021 شروع ہوتے ہی لیوس اور امیلیا ایک ورچوئل تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے
گذشتہ سال ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام انھوں نے ایویلین رکھا۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ اب وہ قریب تو آ گئے ہیں لیکن اکٹھے گیمز کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
لیوس بتاتے ہیں کہ ’اب ننھی بچی ہی ان دونوں کو مصروف رکھتی ہے۔ عام طور پر ایک شخص گیم کھیل رہا ہوتا ہے اور دوسرا بچی کو بہلا رہا ہوتا ہے۔‘
والدین بننے کے تجربے کو اپنے اور امیلیا کے لیے ’دلچسپ اور بے مثال‘ قرار دیتے ہوئے لیوس کا کہنا ہے ’یہ خوشی کا ایک نیا تجربہ ہے لیکن ہم تنگ بھی پڑ جاتے ہیں۔‘
اپنی محبت کے سفر کا جائزہ لیتے ہوئے لیوس کہتے ہیں کہ گذشتہ چند سال اکٹھے گزارنے کے بعد اب انھیں دوری کا وقت ’مشکل سے ہی یاد‘ ہے۔
لیوس کے مطابق طویل فاصلے کا یہ تعلق نبھانا بہت ہی مشکل تھا لیکن ویڈیوز گیمز سے ان کی مشترکہ محبت نے اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے کہا: ’دور رہتے ہوئے ہم نے چار چار گھنٹے تک بے شمار گیمز کھیلیں، میرا خیال ہے اس سے ہمیں یہ تعلق قائم رکھنے میں بہت مدد ملی۔‘
عروسی لباس پر تنازع، بیوی کی مبینہ توہین اور ’ہائی جیک‘ ہونے والا شادی کا ڈانس: ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکہم کے بیٹے والدین سے ناراض’مجھ سے پہلی سی محبت۔۔۔‘: فیض نے یہ نظم کس کی یاد میں لکھی تھیوہ دور جب محبت کو ’بیماری‘ سمجھا جاتا اور مریض کو مرغی کا گوشت کھانا اور سرکہ پینا پڑتاپہلی نظر میں محبت، شادی کے بغیر حمل اور 40 برس کی دُوری: ایک جوڑے کا دہائیوں بعد ملاپ جو کسی فلم کی کہانی سے کم نہیںمحبت صرف ایک جذبہ یا انسانی جسم اس کی شدت محسوس بھی کر سکتا ہے؟کیا محبت دماغ میں کیمیکلز کے وقتی ابال سے پیدا ہوتی ہے؟