Bloomberg via Getty Imagesسکھ کارکن اور امریکہ کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے گرپتونت سنگھ پنّوں قتل کی سازش کا ہدف تھے
نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار انڈین شہری نے امریکہ کی وفاقی عدالت میں تین جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔
54 سالہ نکھل گپتا نے قتل کرنے کے لیے رقم لینے، اجرت کے عوض قتل اور منی لانڈرنگ کی سازش کرنے کے جرائم قبول کیے۔ انھیں 40 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
قتل کی اس مبینہ سازش کا ہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنّوں تھے، جو خالصتان کے حامی ہیں۔ خالصتان تحریک انڈیا میں سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ نکھل گپتا کو قتل کرنے کے احکامات انڈین حکومت کے اہلکار نے دیے تھے۔ انڈیا پنّوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔
امریکی وکیل جے کلیٹن نے کہا: ’نکھل گپتا نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش کی، صرف اس لیے کہ وہ امریکی شہری آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کر رہے تھے جو یہ ملک انھیں دیتا ہے۔‘
’نکھل گپتا کا خیال تھا کہ انھیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن وہ غلط فہمی کا شکار تھے، انھیں اب انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔‘
بی بی سی نے تبصرے کے لیے گپتا کے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔
Reuters
پنّوں نے بی بی سی کو اپنے بیان میں کہا: ’نکھل گپتا کے اعترافِ جرم نے عدالتی طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈیا کی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی سازش تیار کی تھی۔‘
انڈیا نے پنّوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے، تاہم اس کی تردید کرتے ہوئے پنّوں کہتے ہیں کہ وہ تو صرف ایک کارکن ہیں۔
سکھ انڈیا میں ایک مذہبی اقلیت ہیں جو ملک کی آبادی کا تقریباً دو فیصد ہیں۔ کچھ گروہ طویل عرصے سے سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
یہ تحریک اس وقت انڈیا میں نمایاں نہیں، تمام سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پنجاب کی سیاسی جماعتیں بھی، جہاں سکھوں کی اکثریت ہے۔ تاہم سکھ برادری کے بیرون ملک مقیم حامی خالصتان کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔
کینیڈا خالصتان کے معاملے پر انڈیا کے اعتراضات کو نظر انداز کیوں کر رہا ہے؟ خالصتان تحریک: جب ایئر انڈیا کا طیارہ 329 مسافروں سمیت فضا میں تباہ کر دیا گیاآپریشن بلیو سٹار: وہ فوجی کارروائی جس کی قیمت اندرا گاندھی نے اپنی جان دے کر چکائیکینیڈا میں سکھوں کے جلوس میں اندرا گاندھی کے قتل کی منظر کشی کرنے پر انڈیا برہم
استغاثہ کا الزام ہے کہ گرپتونت سنگھ پنّوں کو قتل کرنے کے لیے مئی 2023 میں انڈین حکومت کے ایک ملازم نے گپتا کو ذمہ داری سونپی۔ ممکنہ قتل پر بات چیت کے لیے دونوں نے دہلی میں ملاقات کی۔
فرم جرم کے مطابق وکاش یادو نامی یہ افسر انڈین حکومت کے کابینہ سیکریٹیریٹ میں کام کرتا تھا۔ انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا دفتر بھی وہیں پر ہے۔
ان الزامات کے سلسلے میں یادو کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ یادو کے حکم پر گپتا نے ایک شخص سے رابطہ کیا تاکہ نیو یارک میں قتل کے لیے کسی کو اجرت دی جا سکے۔
یہ شخص اصل میں امریکی حکومت کا مخبر تھا۔ اس نے گپتا کو ایک دوسرے شخص سے ملوایا جو خود کو قاتل ظاہر کر رہا تھا لیکن حقیقت میں وہ امریکہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات کا خفیہ افسر تھا۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ یادو نے گپتا کو قتل کے ہدف کے بارے میں معلومات دیں، جن میں نیو یارک میں ان کے گھر کا پتہ اور فون نمبر شامل تھے۔ پھر گپتا نے یہ معلومات ’اُجرتی قاتل‘ (خفیہ افسر) کو دیں۔
یہ ہدف ہردیپ سنگھ نجر کے ساتھی تھے۔ ہردیپ سکھ علیحدگی پسند تحریک میں سرگرم تھے اور جون میں کینیڈا میں ایک نقاب پوش حملہ آور کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے تھے۔
استغاثہ کے مطابق نجر کے قتل کے کچھ ہی عرصہ بعد مبینہ طور پر گپتا نے ’اُجرتی قاتل‘ کو بتایا کہ ’ہمارے پاس بہت سے اہداف‘ ہیں اور نجر ’بھی ایک ہدف‘ تھے۔
اس کے بعد کینیڈا نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ نجر کے قتل کے ساتھ ساتھ پنّوں کے قتل کی سازش میں بھی ملوث ہے۔ انڈیا نے دونوں معاملات میں کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔
Getty Imagesگرو پتونت پنو کون ہیں؟
پیشے کے اعتبار سے وکیل گرو پتونت سنگھ کا خاندان پہلے انڈیا کے گاؤں ناتھوچک میں رہتا تھا جو بعد میں انڈین پنجاب میں امرتسر کے قریب واقع ایک گاؤں خان کوٹ چلے گئے۔
پنو کے والد مہندر سنگھ پنجاب مارکیٹنگ بورڈ کے سیکرٹری تھے۔
1990 کی دہائی میں، انھوں نے پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کے زمانے سے ہی وہ ایک طالب علم کارکن بن گئے اور طلبہ سیاست میں سرگرم ہو گئے۔
نوے کی دہائی میں پنوں کے خلاف امرتسر، لدھیانہ، پٹیالہ اور چندی گڑھ کے شہروں میں واقع تھانوں میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گرو پتونت کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ پنو کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے ہیں۔
اس کے بعد پنوں 1991-92 میں امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے کنیٹیکٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فنانس میں ایم بی اے اور نیویارک یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز کیا۔
امریکہ میں اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، پنو نے 2014 تک نیویارک میں وال سٹریٹ میں سسٹم اینالسٹ کے طور پر کام کیا۔
انھوں نے 2007 میں سکھس فار جسٹس نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ پنو اکثر عوامی طور پر ایک علیحدہ خالصتان کے قیام کی اپیل کرتے ہیں۔
سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں کینیڈا میں گرفتار ہونے والے تین انڈین شہری کون ہیں؟ سکھ رہنما کے قتل کی سازش اور انڈیا کو امریکی تنبیہ:’اسرائیل نے بھی دوست ممالک میں اس طرح ٹارگٹڈ کلنگ نہیں کی‘ہردیپ سنگھ نجر: ’دہشت گرد‘ قرار دیے گئے خالصتان حامی رہنما کون تھے اور انڈیا کو کن مقدمات میں مطلوب تھے؟خالصتانی رہنماؤں کے پراسرار قتل، تجارتی معاہدے پر ’جھٹکا‘: کینیڈا اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی عروج پر کیوں پہنچ رہی ہے؟سکھ رہنماؤں کی تردید کے بعد انڈین فوج کا وضاحتی بیان: ’گولڈن ٹیمپل پر طیارہ شکن سسٹم نصب نہیں کیا گیا‘