Getty Images
مسلسل تیسرا آئی سی سی ایونٹ ہے کہ ٹورنامنٹ سے عین پہلے کچھ بُھولے بِسرے سٹارز ’کم بیک‘ کرتے ہیں۔ یہ سٹارز عموماً وہ کھلاڑی ہوتے ہیں جو کسی سابقہ ورلڈ کپ میں کہیں کوئی فاتحانہ کردار نبھا چکے ہوتے ہیں۔
گو کہ ٹیم ان ’سٹارز‘ کے بغیر بھی جیت رہی ہوتی ہے مگر ورلڈ کپ سر پر آتے ہی اچانک پی سی بی سربراہان کی سلیکشن میں دلچسپی بڑھتی ہے اور ستارے جگمگانے لگتے ہیں۔
پچھلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے عین پہلے جہاں کھلاڑیوں کو ملٹری ٹریننگ کی اچھوتی تیاریوں سے گزارا گیا، وہیں محمد عامر اور عماد وسیم جیسے اٹوٹ انگ بھی بابر اعظم کی ٹیم میں واپس لائے گئے جو کچھ ہی ماہ پہلے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران ٹی وی پر اپنے کپتان کے ’قصیدے‘ گا چکے تھے۔
چیمپیئنز ٹرافی 2025 سے عین پہلے بھی پاکستان آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے سیریز جیت کر لَوٹ رہا تھا مگر جب ہوم کنڈیشنز میں ٹائٹل کے دفاع کا وقت آیا تو سلیکشن معاملات ایک بار پھر سٹار کلچر اور براڈکاسٹ مارکیٹ کی نذر ہو گئے۔ اور پاکستان اپنے ہوم ایونٹ کے سیمی فائنلز کی دوڑ تک بھی نہ پہنچ پایا۔
مخمصہ ان ٹیڑھی میڑھی سلیکشنز کا یہ بھی ہے کہ جب ورلڈ کپ کے لیے ’کم بیک‘ کرنے والے سپر سٹارز ماضی میں کپتان بھی رہ چکے ہوں تو اُن کے پلٹتے ہی ڈریسنگ روم کا ماحول بھی اپنی آسانی کھونے لگتا ہے۔ کھلاڑیوں کے باہمی تعلق کی بُنت بھی احتیاط کے نرغے میں آ جاتی ہے۔
جب کسی کپتان کو اس کی منشا کی ٹیم نہ ملے یا کوئی ٹیم اگر اپنے کپتان کے مائنڈ سیٹ سے مکمل متفق نہ ہو تو نتیجے ایسے ہی بکھرے بکھرے اور ٹکڑوں میں نظر آتے ہیں جیسے اس ورلڈ کپ سفر کے دوران پاکستان کا مقدر ہوئے۔
Getty Images
جو ٹیم سلیکشن پاکستان نے پالیکیلے میں کسی معجزے کی امید پر رچائی، وہ دراصل اس گھونسے کی مانند تھی جو لڑائی کے اختتامی مراحل میں کسی کو یاد آئے۔ فیصلے جب وقت سے پیچھے رہ جائیں تو ثمرات بھی یونہی موسم کی نذر ہو جاتے ہیں جیسے اوس کے سامنے پاکستانی بولنگ ہوئی۔
صاحبزادہ فرحان کی گرج دار اننگز اور فخر زمان کی بے خطر پرواز کے باوجود پاکستان اس کرشماتی مجموعے سے خاصا پیچھے رہ گیا جو سیمی فائنل تک رسائی کی سچی امید جگا پاتا۔
جو مجموعہ بالآخر پاکستانی بولرز کو ملا، اس کے دفاع میں کسی بولنگ ماسٹر کلاس اور ایک جینئس کپتانی اپروچ کی ضرورت تھی جو بہرحال ناپید رہیں۔
جب تیسرے ہی اوور میں واضح ہو چکا تھا کہ سری لنکن بلے باز نئی گیند اور پیس بولنگ کے امتزاج سے لطف کشید کر رہے تھے تو سلمان آغا کے حواس بروقت فیصلہ سازی سے قاصر نظر آئے۔
عثمان طارق کو بالآخر دسویں اوور سے پہلے صرف کچھ مبصرین کے پرزور اسرار پر بولنگ اٹیک میں لایا گیا اور نتیجے نے واضح کر دیا کہ وہ پرانی گیند کے ساتھ ہی زیادہ موثر ثابت ہو سکتے تھے۔
سارے ہنگامے میں سے جو جیت بالآخر برآمد بھی ہوئی، وہ دوسرے سیمی فائنلسٹ نیوزی لینڈ کے ساتھ پوائنٹس کی برابری کا کمزور سا اخلاقی جواز تو پیدا کر سکتی ہے لیکن بنیادی سبق نظر سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے کہ عالمی سٹیج پر فاتحین کی صف میں جانے کا ایک ہی اصول ہے، تسلسل۔
پانچ برس پہلے جب بابر اعظم اس ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان تھے اور محمد رضوان کے ہمراہ اننگز اوپن کیا کرتے تھے تو پاکستان متواتر دو ٹی ٹونٹی ورلڈ ایونٹس کے سیمی فائنل اور فائنل تک پہنچا تھا مگر ڈیٹا کے اسیر ماہرینِ شماریات ان کے سٹرائیک ریٹس کا تقابل ایرون فنچ کے قبیلے سے کر کے فال نکالا کرتے تھے کہ پاکستان کرکٹ کے سارے زوال انہی دونوں کے دم سے ہیں۔
Getty Images
رکے رکے سے قدم جب رک کے بار بار چلتے ہیں تو منزل کبھی میسر نہیں ہو سکتی۔
1996 کے ورلڈ کپ سے عین پہلے جاوید میانداد کو ٹیم میں واپس لا کر پی سی بی نے اپنے ٹیم کلچر کو جو نئی جہت دی تھی، وہ تین دہائیوں کے بعد بھی برقرار ہے۔
چلیے پی سی بی میں لاکھ عیب سہی مگر یہ ایک خوبی تو مانئے کہ تین دہائیاں گزرنے اور جمہوری و مارشل لائی ادوار کے درجن بھر چئیرمین بدلنے کے باوجود کوئی ایک پالیسی تو مسلسل ہے۔
ورلڈ کپ جیتنا محض کرکٹنگ مہارت پر ہی موقوف نہیں، یہ ٹیم کلچر کا کھیل ہے۔ سٹارز جہاں تن تنہا میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہیں تن تنہا شکست کی راہیں بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اب کچھ سٹارز کے بارے ادراک کرنا ہو گا کہ ان کے ناتواں کندھے بھی ورلڈ ٹرافی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
پاکستان کی پانچ رنز سے فتح مگر ورلڈ کپ سے باہر: ’سوری سری لنکا، آپ کی صلاحیتوں پر شک کیا‘بابر اعظم کی بے بسی، پالیکیلے کی اوس اور بروک کی بے خوفی’ہمارا انتخاب کون کرتا ہے، کون نہیں یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں‘: صاحبزادہ فرحان ’دی ہنڈرڈ‘ کھیلنے کے لیے پُرامید