Getty Images
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس ضمن میں کئی اہم اعلانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ کے ذریعے کیے ہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ صحافیوں سے براہ راست بات چیت کے دوران بھی نئی اور اہم معلومات دیتے رہتے ہیں۔
چاہے پاکستان کی تجویز پر ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو یا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ، دنیا بھر کا میڈیا ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے، کیونکہ اہم خبر یہیں پوسٹ کی جاتی ہے۔
مگر وائٹ ہاؤس کو کور کرنے والے بعض صحافیوں کو خود ٹرمپ تک بھی رسائی حاصل ہے۔ وہ جب ٹرمپ کو کال کرتے ہیں تو ٹرمپ خود اُن سے بات کرتے ہوئے انھیں تازہ ترین صورتحال اور مستقبل قریب سے متعلق اہم فیصلوں اور اعلانات سے آگاہ کرتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ گذشتہ روز امریکی صحافی کیٹلن ڈورنبس کے ساتھ ہوا جس کی تفصیلات انھوں نے خود بیان کی ہیں۔ صحافی کیٹلن ڈورنبس نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ٹرمپ کو کال کر کے دریافت کیا کہ آیا ایران سے دوبارہ مذاکرات ہونے جا رہے ہیں؟ اور پھر ایک دلچسپ انداز میں ٹرمپ نے انھیں اسلام آباد ہی میں رہنے اور مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور سے متعلق بات کی۔
ٹرمپ کی کال اور اسلام آباد رہنے کا مشورہ
امریکی خارجہ پالیسی کے اُمور کور کرنے والی صحافی کیٹلن ڈورنبس نے اخبار ’نیو یارک پوسٹ‘ کے لیے اپنی تحریر میں بتایا ہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اگلے دو روز میں دوبارہ مذاکرات کا دور شروع ہو سکتا ہے۔
صحافی کے ساتھ امریکی صدر کے اس انٹرویو کا احوال بھی کچھ دلچسپ ہے۔
صحافی طلعت حسین نے امریکی صحافی کیٹلن ڈورنبس سے بات کی ہے جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بذریعہ فون انٹرویو کیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ٹرمپ کے بقول اگر ایران سے دوبارہ مذاکرات ہوئے تو وہ اگلے دو روز کے دوران ہو سکتے ہیں اور یہ بات چیت اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔
کیٹلن کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود امریکی وفد میں شامل نہیں ہوں گے لیکن ’یہ کافی دلچسپ ہے کہ اسلام آباد دوبارہ مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے۔‘
انھوں نے طلعت حسین کو بتایا کہ ’یہ سب ایسے ہوا کہ میری کل (پاکستان سے امریکہ) واپسی تھی۔ میں ٹرمپ سے ان افواہوں کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی کہ آیا مذاکرات اسلام آباد میں ہی جاری رہیں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ٹرمپ کو کال کے دوران بتایا کہ وہ اِس وقت اسلام آباد میں ہی ہیں تو کیا ’مجھے گھر واپسی کی فلائٹ بُک کروا لینی چاہیے؟‘
’ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا کہ جی ہاں آپ گھر واپس آ جائیں۔۔۔ شاید انھیں ابتدائی طور پر خود بھی ایسا نہیں لگا تھا کہ مذاکرات (دوبارہ) اسلام آباد میں ہوں گے۔‘
کیٹلن نے مزید بتایا کہ اس ابتدائی کال کے ’37 منٹ بعد مجھے ٹرمپ کی طرف سے کال موصول ہوئی اور انھوں نے کہا کہ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو وہیں اسلام آباد میں ہی رہتا۔ پیشرفت ہو رہی ہے اور یہ ممکن ہے کہ 48 گھنٹوں میں کچھ ہو جائے۔‘
امریکی صحافی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی دوسری کال کے بعد انھوں نے اپنے ایڈیٹر کو بتایا کہ انھیں اسلام آباد میں مزید رُکنا پڑ سکتا ہے۔
جب طلعت حسین نے پوچھا کہ ’آپ کے کیریئر میں یہ کتنا غیر معمولی ہے کہ صدر آپ کو واپس کال کرے؟‘
ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟ٹرمپ کی جانب سے خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر دکِھانے والی تصویر پر تنقید: ’میں سمجھا تھا کہ یہ میں ہوں، بطور ڈاکٹر‘تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟غیر روایتی سفارتی گیم: ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟
کیٹلن نے کہا کہ ’یہ میرے ساتھ پہلی بار ہوا ہے۔ ہم بات کرتے ہیں، لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ انھوں نے خود مجھے کال کی۔‘
کیٹلن نے دعویٰ کیا کہ ’وہ بالکل واضح تھے کہ میزبانی کا مقام اسلام آباد ہی ہو گا۔‘
ان کے مطابق ٹرمپ نے ان کے پوچھے بغیر کہا کہ اسلام آباد کا انتخاب ’فیلڈ مارشل (عاصم منیر) کی وجہ سے کیا گیا۔ انھوں نے انڈیا سے ساتھ جنگ کے بعد (عاصم منیر سے) اپنے تعلق کا ذکر کیا۔‘
پاکستانی سوشل میڈیا پر چرچا
پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور صحافی کے درمیان اس فون کال کا کافی چرچا ہے۔
ایکس پر صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ ’امریکی صدر کتنا اپنے رپورٹرز کا خیال رکھتا ہے، فون کرکے بتاتا ہے کہ کس محاذ پر مورچہ بند رہنا ہے۔‘
سید علی شاہ نے لکھا کہ صدر ٹرمپ صحافی کی کال موصول کرنے اور دوبارہ کال کرنے کے لیے وقت نکال سکتے ہیں۔ ’لیکن ہمارے حکمران اور عہدے دار اکثر صحافیوں کی کال نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘
جبکہ ریاض الحق نے کہا کہ امریکہ کے صدر نے اسلام آباد میں موجود رپورٹر کو فون کر کے ’عالمی بحران سے متعلق سکوپ شیئر کیا۔‘
ایک پاکستانی صارف نے طنزیہ کہا کہ ’مجھے ٹرمپ کا موبائل نمبر دیں۔ مجھے ان سے کچھ کام ہے۔‘
ٹرمپ صحافیوں کو انٹرویو کیسے دیتے ہیں؟
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق امریکی صدور کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی موبائل نمبر واشنگٹن ڈی سی کے صحافتی حلقوں میں بڑے پیمانے پر جانا پہچانا ہے۔ وہ اکثر صحافیوں کی کال خود بھی اٹھا لیتے ہیں۔
اے ایف پی کے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار ڈینی کیمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند منٹ بعد ٹرمپ کو فون کیا تھا۔ اس گفتگو کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ چین بھی شامل تھا۔
ڈینی کیمپ نے اس حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کیا کہ ’دنیا کے سب سے طاقتور‘ شخص کو کال کرنا کیسا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب بس ایک نمبر ملاتے ہیں اور ٹرمپ فون اٹھا لیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد رات 10 بجے کا وقت تھا۔ ان کے بقول ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے صحافیوں کو اچھے وقت کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، جیسے شام کا وقت یا ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران جب وہ گالف کھیل کر پُرسکون حالت میں ہوں اور کوئی بریکنگ نیوز کی صورتحال ہو جس میں آپ نئی معلومات حاصل کر سکیں۔
ڈینی کے مطابق دوسری رِنگ پر ٹرمپ نے فون اٹھا کر ’ہیلو‘ کہا اور یہ آواز انھی کی تھی۔ ’کوئی آپریٹر نہیں ہے، آپ نمبر ملاتے ہیں اور آگے سے ٹرمپ بات کرتے ہیں۔‘
اے ایف پی کے صحافی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے نمائندوں کو اکثر ٹرمپ کے ساتھ اس کال میں زیادہ وقت نہیں مل پاتا۔
وہ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ منٹ بعد ٹرمپ نے ’تھینک یو‘ کہہ کر کال کاٹ دی تھی۔
انھوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں کئی صحافیوں کے پاس ٹرمپ کا نمبر ہے اور وہ ایسے صحافی کو بھی جانتے ہیں جنھوں نے اُن سے آٹھ منٹ تک بات کی۔
ڈینی کے مطابق ان کے پاس سابق صدور جیسے جو بائیڈن کا نمبر نہیں تھا۔ ’صحافی اسی وقت ٹرمپ کو کال کرتے ہیں جب کوئی بڑی خبر سامنے آئی ہو۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ کال انھوں نے گھر کے سٹڈی روم سے کی تھی اور کچھ دیر پہلے ہی انھوں نے اپنے بچوں سے خاموش رہنے کا کہا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ فی الحال واشنگٹن کا ہر رپورٹر ’یہ تجربہ حاصل کرنا چاہے گا۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی اطلاعات: ’مستقل جنگ بندی‘ کی کوششوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ٹرمپ کی جانب سے خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر دکِھانے والی تصویر پر تنقید: ’میں سمجھا تھا کہ یہ میں ہوں، بطور ڈاکٹر‘ٹرمپ کو چھت سے اُتارنے کے بدلے پاکستان کو کیا انعام ملے گا؟غیر روایتی سفارتی گیم: ٹرمپ کا اعتماد جیت کر پاکستان کیسے ایران جنگ میں ایک غیرمتوقع ثالث بنا؟تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟