’پینلٹی شوٹ آؤٹ‘: جس نے فٹبال میں قرعہ اندازی اور سکّہ اچھال کر جیت کے فیصلے کا نظام ختم کیا

بی بی سی اردو  |  Jun 20, 2026

مارٹن کیلی کو آج بھی اپنی وہ خواہش یاد ہے جب وہ چاہتے تھے کہ گراؤنڈ میں موجود دیگر بچوں کی طرح ان کے پاس بھی ایک سٹول ہوتا تاکہ وہ بہتر طور پر وہ منظر دیکھ سکیں۔

دنیا کے پہلے باضابطہ پینلٹی شوٹ آؤٹ کو وہ دوسرے لوگوں کے سروں کی وجہ سے اوجھل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

وہ پانچ اگست 1970 کی ایک گرم شامتھی جب ہل کے بوتھ فیری پارک میںکپ میچ کے دوران مانچسٹر یونائیٹڈ اور ہل سٹی کی ٹیمیں اضافی وقت کے اختتام پر 1-1 گول سے برابر تھیں۔

اس میچ سے چھ ہفتے قبل، فٹبال کے قوانین بنانے والوں نے فاتح کے تعیّن کے لیے سکّہ اچھالنے کے طریقے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بدلے ہر ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کی جانب سے 11 گز کے فاصلے سے گول کیپر کے خلاف کِک لینے کا طریقہ متعارف کرایا گیا تھا۔

اور یہ وہ وقت تھا جب 11 سالہ ہل سٹی کے مداح کیلی نے سوچا، ’اوہ ہاں۔۔۔ یہ جارج بیسٹ ہیں، تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک۔ وہ دنیا کے پہلے پنلٹی شوٹ آؤٹ کی پہلی کِک لینے والے ہیں۔‘

یہ ایسی چیز تھی جسے دیکھنا ضروری تھا۔

ابھی تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ برابر ہونے والے فٹبال میچ کا فیصلہ کرنے کا یہ نیا طریقہ ایک ایسا اعصاب شکن تجربہ بن جائے گا جسے کچھ مداح، کھلاڑی اور منیجر بمشکل ہی دیکھ پاتے ہیں۔

پہلا آفیشل پینلٹی شوٹ آؤٹ

اس سے قبل ایسے کپ یا ناک آؤٹ میچ جو برابر پر ختم ہوتے تھے، ان کا فیصلہ ری پلے، قرعہ اندازی یا سکے کے ٹاس سے کیا جاتا تھا۔

1968 کے یورپی چیمپئن شپ میں اٹلی نے سوویت یونین کے خلاف 0-0 کے ڈرا کے بعد ہیڈ یا ٹیل کے درست اندازے سے فائنل میں جگہ بنائی۔

اس کے بعد یوگوسلاویہ کے خلاف فائنل 1-1 سے برابر رہا اور دو روز بعد ری پلے میں اٹلی نے 2-0 سے کامیابی حاصل کی۔

جو لوگ برابری ختم کرنے کے موجودہ طریقوں کے حامی نہیں تھے ان کے لیے چار ماہ بعد فیصلہ کن لمحہ آ گیا جب اسرائیل کے کپتان نے بڑے سے ہیٹ میں سے ’نو‘ لکھا کاغذ نکالا۔

اس ’نو‘ کا مطلب تھا کہ ان کی ٹیم 1968 کے اولمپک کوارٹر فائنل میں بلغاریہ کے خلاف 1-1 کے ڈرا کے بعد باہر ہو گئی ہے۔

ان کے اس انداز پر ان کے ملک کی فٹبال گورننگ باڈی کے کچھ افراد شدیدبرہم ہوئے۔

اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن کے عہدیدار یوسف ڈگان نے کہا کہ ایسے بڑے لمحات کا فیصلہ کرنے کا کوئی بہتر طریقہ ہونا چاہیے یا کم از کم ایسا جو نظریاتی طور پر قسمت کے بجائے مہارت پر زیادہ مبنی ہو۔

ڈگان اور مائیکل الموگ( جو بعد میں اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہ بنے) نے 1969 میں فیفا کو ایک باضابطہ تجویز بھیجنے سے پہلے پینالٹی شوٹ آؤٹ کا خاکہ تیار کیا۔

یہ تجویز فٹبال کے عالمی ادارے کے سرکاری جریدے میں شائع ہوئی۔

اس خط میں الموگ نے لکھا کہ ’فاتح کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کرنے کے اس طریقے کو ختم ہونا چاہیے، یہ ہارنے والی ٹیم کے لیے غیر اخلاقی اور حتیٰ کہ ظالمانہ ہے اور جیتنے والی ٹیم کے لیے بھی باوقار نہیں۔‘

انھوں نے تجویز دی کہ ہر ٹیم کو پانچ پینالٹیاں دی جائیں اور اگر اس کے بعد بھی نتیجہ برابر رہے تو یہ سلسلہ تب تک جاری رہے جب تک ایک ٹیم ناکام ہو اور دوسری کامیاب۔

اس تجویز پر بھرپور بحث ہوئی اور بالآخر 27 جون 1970 کو انورنس میں انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) کے سالانہ اجلاس میں اسے منظور کر لیا گیا۔

قرعہ اندازی سکے کے ٹاس اور ری پلے کے علاوہ، ماضی میں ڈرا کے فیصلے کے دیگر طریقے بھی آزمائے گئے تھے، جن میں مشترکہ ٹائٹل دینا یا کارنرز کی تعداد گننا شامل تھا اور کچھ مقامی و چھوٹے مقابلوں میں پینالٹی شوٹ آؤٹ کی مختلف شکلیں بھی استعمال ہوئی تھیں۔

جب بی بی سی سپورٹ نے فیفا سے پوچھا کہ آیا واٹنی کپ شوٹ آؤٹ پہلا باضابطہ پنلٹی شوٹ آؤٹ تھا تو عالمی ادارے نے جواب دیا کہ اس کے پاس ’اس دعوے کی تصدیق یا تردید کے لیے کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں۔‘ البتہ قومی فٹبال میوزیم اسے انگلینڈ میں پہلا شوٹ آؤٹ قرار دیتا ہے۔

ایف اے کپ سمیت مختلف مقابلوں میں دو سیزن پہلے تک ری پلے کا استعمال جاری رہا۔ 1990-91 تک ایف اے کپ میں یہ قاعدہ شامل نہیں کیا گیا کہ ری پلے کے بعد اضافی وقت میں برابری رہنے پر پنلٹیز ہوں گی۔

1970 کے اس فیصلے کے بعد جلد ہی ایک پیشہ ور فٹبال میچ کا فیصلہ پنلٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے کرنے کا پہلا موقع آ گیا۔

تو کیا سکے کے ٹاس کا متبادل اس سے قدرے کم بے رحمانہ ثابت ہوگا؟

ہل میں اسی شام ایک پری سیزن مقابلے واٹنی کپ میں اس سوال کے کچھ جواب ملنے والے تھے۔

کیلی نے بی بی سی کے پروگرام سپورٹنگ وٹنس میں یادکرتے ہوئے کہا کہ ’میں یقین نہیں کر سکتا تھا، میری پسندیدہ ٹیم ہل سٹی جارجی بیسٹ، بوبی چارلٹن اور ڈینس لا کے مقابل تھی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک ہی ٹیم میں میسی، رونالڈو اور ایمباپے موجود ہوں۔‘

ہل سٹی کے سابق کھلاڑی فرینکی بینکس کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بہت بڑا میچ تھا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف کھیلنا، جس نے دو سال پہلے یورپی کپ جیتا تھا۔‘

’ماحول جگمگا رہا تھا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے کھلاڑی ہمارے ہیرو تھے۔ کاغذ پر ہمارے جیتنے کے امکانات نہیں تھے، مگر ہم ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہم بھی ان کے مقابل کھیل سکتے ہیں۔‘

اور ہوا بھی یہی، 11ویں منٹ میں کرس چِلٹن کے گول سے انھوں نے برتری حاصل کی، پھر 78ویں منٹ میں لا نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے گول کر کے برابری کر دی اور میچ اضافی وقت میں چلا گیا۔

جب اضافی آدھا گھنٹہ ختم ہونے لگا تو کھلاڑیوں کو احساس ہوا کہ وہ ایک تاریخی لمحے کا حصہ بننے والے ہیں۔

بینکس کہتے ہیں کہ ہل کے پلیئر اور منیجر ٹیری نیل نے رضاکار مانگے، کچھ لڑکے آگے بڑھ کر پنلٹی لینے سے ہچکچا رہے تھے جبکہ کچھ اتنے بہادر تھے کہ آگے آئے اور اس کو لینے کے لیے آگے بڑھ کر اصرار کرنے لگے۔‘

’کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس سے چوکہو جائے۔ اور خاص طور پر، کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہ شوٹ آؤٹ میں پہلا کھلاڑی بنے جو گول نہ کر سکے۔‘

تاہم بیسٹ پہلے کھلاڑی کے طور پر گول کرنے پر خوش تھے، انھوں نے اپنے دائیں پاؤں سے نیچا شاٹ لے کر گیند کو بائیں کونے میں بھیج دیا۔

ایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘فٹبال ورلڈ کپ میں پہلی بار پاکستان کی نمائندگی اور ’دائیں جوتے پر پاکستانی پرچم‘فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچ کب اور کہاں، کہاں ہوں گے’یہ گول رونالڈو جیسے کھلاڑی ہی کر سکتے ہیں‘:نوشکی کے پتھریلے میدانوں سے پاکستان کو 74 برس بعد فٹبال ٹورنامنٹ جتوانے والے شہک بلوچ

نیل ہل سٹی کے لیے شوٹ آؤٹ میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے جنھوں نے سکور 3-3 سے برابر کر دیا۔

بینکس کے مطابق ’ابھی بھی کسی بھی ٹیم کے جیتنے کے امکانات تھے اور شور ناقابلِ برداشت تھا۔‘

مگر پھر ایک ایسے لمحے میں جس کا سامنا آنے والے برسوں میں کئی بڑے کھلاڑیوں نے کیا لا کی نیچی شاٹ کو آئی این مک کینی (Ian McKechnie) نے ڈائیو لگا کر روک لیا۔

بینکس نے کہا کہ ’ہمیشہ کے لیے لا شوٹ آؤٹ میں پہلا کھلاڑی کہلائیں گے جو گول نہ کر سکے اور مکیکنی پہلے گول کیپر کہلائیں گے جنھوں نے شوٹ آؤٹ میں پنلٹی روکی۔‘

اس کے بعد کین ویگسٹاف ہل کی جانب سے گول نہ کر سکے، اور جب ولی مورگن نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے گول کر دیا تو ہل کو معلوم تھا کہ آخری کِک لازماً گول میں بدلنی ہوگی۔

اسی وقت مک کینی شوٹ آؤٹ میں پنلٹی لینے والے پہلے گول کیپر بنے۔

کیلی کو یاد ہے کہ ’خدا کے لیے، یہ نہیں، میں نے سوچا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا، میری والدہ کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا یہاں تک کہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے گول کیپر ایلکس سٹپنی کو بھی یقین نہیں آیا اور انھوں نے انسے پوچھا کہ وہ وہاں کیا کر رہے ہیں۔ میں نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔‘

مک کینی آگے بڑھے اور زور دار شاٹ لگائی، لیکن گیند کراس بار کے اوپری کنارے سے ٹکرا گئی۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ شوٹ آؤٹ میں پنلٹی مس کرنے والے پہلے گول کیپر بن گئے۔

بینکس نے کہا کہ ’میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ این مک کینی درست انتخاب تھے، ان کا بایاں پاؤں بہت اچھا تھا اور ان میں ہمت بھی بہت تھی۔ میں ان کے گول کرنے پر شرط لگا سکتا تھا۔‘

’اس پنلٹیکی ناکامی انھیں زندگی بھر یاد رہی۔‘ یقیناً اس کے بے شمار لا اور مک کینی آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق شوٹ آؤٹس میں 24 فیصد پنلٹیز ضائع ہوتی ہیں۔

یہ طریقہ دنیا کے بڑے مقابلوں کے فیصلے کر چکا ہے، جن میں ورلڈ کپ کے تین فائنل 1994، 2006 اور 2022 شامل ہیں۔

پہلا بڑا بین الاقوامی ٹائٹل جس کا پنلٹیز پر فیصلہ ہوا، 1976 کا یورپی چیمپئن شپ تھا جس کی فیصلہ کن کِک انتونین پانینکا کے نام سے منسوب مشہور چِپ تھی۔

گزشتہ برسوں میں انگلینڈ کی مین ٹیم نے شوٹ آؤٹس میں کافی ناکامیاں جھیلی ہیں اور بڑے ٹورنامنٹس میں سات بار اسی طرح ہاری ہے۔

دو روز پہلے،ویلز کے اس سال کے ورلڈ کپ میں کھیلنے کے خواب بوسنیا ہرزیگووینا کے ہاتھوں اسی جذباتی پنلٹی شوٹ آؤٹ میں ٹوٹ گئے۔

لیکن ہل کی اس رات سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

دس پنلٹیوں کے بعد سب کو معلوم ہو گیا۔ کیلی نے کہا کہ ’ہر کِک انتہائی اذیت ناک تھی۔‘

اور چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ بات اب بھی درست ہے۔

ایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘فٹبال ورلڈ کپ میں پہلی بار پاکستان کی نمائندگی اور ’دائیں جوتے پر پاکستانی پرچم‘فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچ کب اور کہاں، کہاں ہوں گے’یہ گول رونالڈو جیسے کھلاڑی ہی کر سکتے ہیں‘:نوشکی کے پتھریلے میدانوں سے پاکستان کو 74 برس بعد فٹبال ٹورنامنٹ جتوانے والے شہک بلوچجب باکسنگ چیمپیئن محمد علی نے کہا ’میرے نبی کا نام میرے نام کا حصہ ہے، اس کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا‘ننگے پاؤں کھیلنے کی اجازت نا ملنا یا پیسوں کی کمی: جب انڈیا نے فٹبال ورلڈ کپ کھیلنے کا نادر موقع ضائع کیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More