رواں برس افغانستان میں فوجی دستے کو کم کریں گے،امریکی مشیر قومی سلامتی

بول نیوز  |  Jan 13, 2020

امریکی مشیر قومی سلامتی رابرٹ اوبرائن   کا کہنا ہے کہ رواں سال افغانستان میں موجود فوجی دستے کی تعداد میں کمی کریں گے ۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے مشیر قومی سلامتی رابرٹ اوبرائن    کا کہنا تھا کہ رواں سال افغانستان میں موجود فوجی دستوں کی تعداد میں کمی  کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طالبان کے معاہدے کے بغیر افغانستان میں فوجی دستوں کی تعداد میں کمی کرسکتے ہیں۔

امریکی مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ افغان افواج  اب بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

رابرٹ او برائن کا کہنا تھا کہ  امریکا طالبان سے ڈیل کے لئے تیار ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس سال  امریکا اور طالبان کے درمیان کوئی معاہدہ  ہوجائےگا ۔

انہوں نے کہا  کہ ٹرمپ کافی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوج کی واپسی ٹرمپ کے بڑے وعدوں میں سےایک  ابھی تک پورانہ ہوسکنے والا وعدہ  ہے۔

امریکاکازیرتربیت سعودی اہلکاروں کو ملک بدرکرنےکا فیصلہان کا مزید کہنا تھا کہاانہیں تشویش ہے  ٹرمپ 2020 کے انتخابات سے قبل افغانستان سے فوجیوں کی تعداد میں بڑی کمی کا حکم دے دیں گے۔

دوسری جانب  طالبان نے کہا ہے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی عسکری کشیدگی سے ان کے اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات متاثر ہونے کا  کوئی امکان نہیں ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکا نے رپورٹ کیا کہ طالبان کا یہ بیان اس واقعے کے بعد پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں شدت آگئی تھی۔

واضح رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک فضائی حملے میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی سمیت دیگر افراد کو قتل کردیا تھا۔

 جس کے بعد ایران نے امریکا سے بدلہ لیتے ہوئے عراق میں امریکی و اتحادی فورسز کے زیر اثر 2 فوجی اڈوں پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل داغے تھے جس میں 80 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More