پرویزمشرف کی سزاختم،پیپلزپارٹی کی مایوسی!

روزنامہ اوصاف  |  Jan 15, 2020

٭لاہورہائی کورٹ کے سہ رکنی فل بنچ نے خصوصی عدالت کی طرف سے سابق خود ساختہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزائے موت ختم کر دی۔ تفصیل اخبارات میں درج ہے۔ فاضل عدالت نے خصوصی عدالت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ بھی کالعدم کر دیا۔ فیصلہ میں دوسرے اہم نکات بھی ہیں۔ ان پر کوئی بات یا تبصرہ نہیں ہو سکتا۔ اب یہ کہ عام طور پر ایسے فیصلوں پر حکومت سپریم کورٹ میں اپیل کیا کرتی ہے۔ مگر موجودہ حکومت اپیل نہیں کرے گی، وہ تو خود پرویز مشرف کا ساتھ دے رہی ہے۔ اسی حکومت نے خصوصی عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کو روکنے کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ حکومت کو اس وقت اپنی پڑی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ان کے بعد ق لیگ بھی تیاری کر رہی ہے۔ ایسے میں فوج کو ناراض کرنے سے مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ویسے بھی اس ملک میں غداری کے کسی مجرم کو آج تک کوئی سزا نہیں ہوئی۔ 1970ء میں اگرتلہ سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ کی سماعت اس طرح ختم ہوئی کہ مکتی باہنی کے حملہ پر جسٹس رحمان کو عدالت سے بھاگنا پڑا۔ مقدمہ وہیں رہ گیا۔ راولپنڈی سازش کیس کے ملزموں کو غداری کی بجائے حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں مختصر سزائیں سنائی گئیں۔ ان دنوں موجودہ ٓائین موجود نہیں تھا۔ حیدرآباد سازش کیس میں ولی خاں، حبیب جالب وغیرہ کو ملوث کیا گیا۔ کئی ماہ مقدمہ چلا، ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے یہ کیس ہی ختم کر دیا۔ ولی خاں نے ضیاء الحق کی حمائت کا اعلان کر دیا۔ موجودہ آئین کے تحت پرویز مشرف کے خلاف غداری کا پہلا مقدمہ تھا وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس سے فوج اور بہت سے مشرف کے فیض یافتہ لوگ (موجودہ وزیر قانون فروغ نسیم، شیخ رشید سمیت سات وزرا) بھی شامل ہیں۔ویسے ایک بات کی طرف پہلے ہی اشارہ کر چکا ہو ںکہ پرویز مشرف کی اس وقت جو حالت ہے وہ کسی بھی سزا سے زیادہ بدتر ہے۔ شدید علالت، بیشتر وقت ہسپتال میں، چلنے پھرنے سے معذور! انہی کالموں میں انڈونیشیا کے سابق فوجی صدر جنرل سوہارتو اور پاکستان کے سابق صدر جنرل یحییٰ خاں کی حالت بتا چکا ہوں۔ دونوں کو عدالتوں میں طلب کیا گیا تو بتایا کہ یہ لوگ فالج زدہ ہیںچلنا پھرنا تو ایک طرف بول سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں، صرف آنکھوں کی پتلیاں حرکت کرتی ہیں۔ اپنے دور میں یہ لوگ ہٹلر اور مسولینی بنے ہوئے تھے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کی حالت ایسی ہے کہ ہر طرح کے علاج کے باوجود صحت بحال نہیں ہو سکی بلکہ روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ قانون کے مطابق کسی بیمار شخص کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی، پہلے اسے نارمل صحت مند حالت میں لانا پڑتا ہے۔ مَچھ جیل میں بند صولت رضا کی مثال موجود ہے، پھانسی سے پہلے اس کا علاج کیا گیا۔ اور پرویز مشرف! سزائے موت محض رسمی بات تھی، ممکن ہی نہیں تھی وہ بھی ختم ہو گئی! کبھی پورا ملک قبضے میں، فوج کی سلامیاں! کابینہ میں ’’یَس سَر! حاضر سَر!‘‘کی گردان کرتے ہوئے رکوع میں جھکے وزرا (دو کا نام دے چکا ہوں)! ایک ہاتھ میں کُتا اٹھائے، دوسرے ہاتھ سے مخالفین کے خلاف مکا بلند کرتے ہوئے! اور اب جلا وطنی، گھر میں صرف اہلیہ اور بیٹی! ٭ایم کیو ایم! وزارت سے علیحدگی، حکومت سے تعاون برقرار (’’جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی اور یوں بھی!‘‘) ایم کیو ایم کا وار کرنے کا یہ پرانا طریقہ ہے۔ بیک وقت دو کشتیوں میں سوار! ناراض ہونے کی وجہ! اربوں کے فنڈ کیوں نہیں ملے؟ سرکاری عمارتیں اور دفاتر ایم کیو ایم کے قبضہ میں کیوں نہیں دیئے گئے؟ قومی اسمبلی میں سات ارکان، دو وزیر بن گئے، زیادہ ہونے چاہئیں! مقبول صدیقی نے استعفا واپس لینے سے انکار کر دیا۔’کوٹھی‘ میں دانے بھر جائیں گے تو پھر حکومت میں حاضر! حاضر تو ویسے اب بھی ہیں، استعفا ہی دیا ہے، پلّو تو نہیں چھوڑا۔ ایم کیو ایم کے ایسے کئی تماشے بہت دفعہ دیکھ چکا ہوں! ہر بار پشت پر کوئی نہ کوئی سہارا موجود! اب پیپلزپارٹی نے سندھ میں وزارتوں کا چکمہ دیا ہے! آسمان سے اتر کر کھجور میں اٹک جائو! کیا ایم کیو ایم والے بھول گئے کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں کراچی میں پیپلزپارٹی کے آپریشن سے ایم کیو ایم پر کیا قیامت ٹوٹی تھی؟ ایم کیو ایم کے عقوبت خانوں میں ایسے ایسے اذیت رساں آلات کی تصویریں چھپیں کہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ اور اب صرف دو وزارتوں کی پیش کش! یہ بات لمبی ہو گئی، یہیں ختم! وزیراعظم نے مقبول صدیقی کو بلا لیا ہے، یہی کافی ہے۔٭فیس بک پر تصویریں چھپیں کہ نہائت علیل نوازشریف دوستوں کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے ہیں۔ اس پر وزیراعظم عمران خان نے موصوف کی میڈیکل رپورٹیں طلب کر لیں۔کھانے کی میز پر شہباز شریف، اسحق ڈار، ڈاکٹر عدنان، ایک بیٹا اور تین دوسرے افراد دکھائے گئے۔ میز کے ایک سرے پر کرسی پر نوازشریف (پُشت) اور میز کے دونوں طرف تین تین افراد بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ تصویر عام ہوئی تو مریم نواز کے حوالے سے دوسری تصویر آ گئی۔ اس میں لوگ اور کمرہ تو وہی ہیں مگر ماحول ہسپتال کے ایک وارڈ کا دکھایا گیا ہے (یہ وارڈ نوازشریف کے گھر میں بنایا گیا ہے)۔ اس وارڈ میں نوازشریف کسی کرسی کی بجائے ایک بستر میں گائو تکئے کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں، ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ پیچھے میز پر ای سی جی والی مشین پڑی ہے۔ چھت پر بڑی روشنیوں والے دو بڑے لیمپ ہیں۔ سامنے پاکستان کے پرچم کی تصویر آویزاں ہے۔ پہلے والی تصویرمیں یہ چیزیں نہیںدکھائی گئیں! ڈرپ، ای سی جی کی مشین وغیرہ کچھ نہیں۔ موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ سب کچھ ممکن ہے! کون غلط؟ کون صحیح؟ بات تو بہر حال نکل آئے گی۔٭معروف ادیب اشفاق احمد اوربانو قدسیہ کا ماڈل ٹائون لاہور میں مشہور گھر’’داستان سرائے‘‘بک گیا۔ یہ گھر بہت سی علمی،ادبی روایات،محفلوں اور سرگرمیوں کا امین رہا ہے۔ اسے قومی یادگار کی حیثیت دی جانی چاہئے تھی،مگر! اس شہر ناپرساں کا عالم کہ بھاٹی گیٹ کے ایک مکان میں علامہ اقبال ایک عرصے تک مقیم رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ایک عرصہ تک اس مکا ن کے باہر ایک تختی لگی رہی کہ علامہ اقبال فلاں سے فلاں مدت تک اس مکان میں مقیم رہے… پھر وہ تختی اُتر گئی…اب اس مکان میں جوتے بنانے کا کارخانہ چل رہا ہے! اور!اور!علامہ صاحب آخری عمر میں گڑھی شاہو روڈ کے مکان ’’جاوید منزل‘‘میں مقیم رہے۔ اس مکان کے ایک کونے میں بہت چھائوں دار’’دھریک‘‘کا ایک بڑا درخت تھا۔ علامہ نے بہت سا اہم کلام اس درخت کے نیچے بیٹھ کر قلمبند کیا۔ اسی درخت کے نیچے بہت سی نامور شخصیات نے علامہ صاحب سے ملاقاتیں کیں جو اس درخت نے سنیں۔ میں نے بہت دفعہ اس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر اس سے عجیب سی باتیں کیں۔ میں کچھ عرصہ جاوید منزل نہ جاسکا۔ایک روز ایک دوست کو دعوت دی کہ آئو اس درخت کے نیچے خاموش کھڑے ہو کر اس سے علامہ صاحب کی باتیں سنتے ہیں۔اس نے عجیب سی آواز میں کہا ’’کون سا درخت؟ وہ اب کہاں ؟ اسے کاٹ کر وہاں کینٹین بنادی گئی ہے! اور…اور یہ کہ جاوید منزل کو اقبال میوزیم بنایاگیاتھا،اس میں علامہ مرحوم کے زیر استعمال بہت سی چیزیں رکھی گئیں۔اب یہ تمام چیزیں اٹھاکر اسلام آبادکی ایک سرکاری عمارت کے کسی کونے میں ڈھیر لگا دی گئی ہیں۔ میں نے ان ساری باتوں پر بار بار بہت احتجاج کیا، اداریے،کالم، مضامین!کچھ بھی نہ ہوا…!ایسے میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے مکان کو چند ٹکوں کے عوض بیچ دیئے جانے کو کون اہمیت دیتا ہے؟ اس مکان کو گرا کر یہاں کئی منزلہ کاروباری پلازا بنایا جائے گا۔ علم و ادب کیا ہوتا ہے؟کیسی ثقافتی روایات ؟ سعدی نے بغداد، داغ نے دہلی کے اجڑنے پر اور علامہ اقبالؒ نے تہذیب حجازی کے مزار،سسلی پر نوحے لکھے ۔سرفراز سید کس کس بات پر نوحے لکھے سوائے ماتم یک شہر آرزو کے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More