مہاتیر محمد کے بیانات مودی سرکار پر بجلی بن کر گرے، خطے میں ہلچل طاری۔۔۔ تہلکہ خیز خبر آگئی

سچ ٹی وی  |  Jan 15, 2020

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا دنیا میں پام آئل کا دوسرا بڑا ایکسپورٹر ہے، بھارت نے گزشتہ ہفتے پام آئل درآمد سے متعلق قوانین میں تبدیلی کردی، تاجروں کے مطابق قوانین کی تبدیلی سے بھارت نے ملائیشیا کے پام آئل خریدنے پر پابندی لگادی۔

ملائیشین وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہمیں بھارتی اقدام پر تشویش ضرور ہے مگر جب بھی کوئی غلط اقدام کرے گا ہم اس پر بولیں گے۔ سفارتی صف کے بعد پام آئل کی درآمد پر بھارت کی نئی پابندیوں سے متعلق تشویش ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ چاہے ان کے ملک کو مالی معاملات کا سامنا کرنا پڑے لیکن وہ غلط چیزوں کے خلاف بولنا جاری رکھیں گے۔صرف پیسوں کی خاطر غلط بات پر خاموش رہنے سے ہم سب غلط بات کی ترویج کا باعث بنیں گے۔

دنیا میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے خریدار بھارت نے گزشتہ ہفتے قواعد کو تبدیل کیا جو تاجروں کے مطابق ملائیشیا سے بہتر پام آئل کی درآمد پر موثر پابندی سے متعلق ہے۔ملائیشیا، انڈونیشیا کے بعد پام آئل پیدا اور برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی جانب سے اقدام مہاتیر محمد کی جانب سے بھارت کے نئی متازع شہریت قانون پر تنقید کے جواب میں سامنے آیا۔ملائیشین پام ریفائنرز کو بڑے پیمانے پر کاروبار میں نقصان ہورہا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس کا حل نکال لے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا درحقیقت ہمیں تشویش ہے کیونکہ ہم بھارت کو بہت زیادہ پام آئل فروخت کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہمیں صاف گوئی کی ضرورت ہے تاکہ اگر کچھ غلط ہورہا ہے تو ہمیں اس بارے میں کہنا ہوگا۔

صحافیوں سے گفتگو میں ملائیشین ویزراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم غلط چیزوں کی اجازت دیں گے اور صرف رقم کے بارے میں سوچیں گے تو میرے خیال سے ہماری طرف سے اور دوسرے لوگوں کی طرف سے بہت سی غلط چیزیں ہوں گی۔

دوسری جانب خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ بھارتی حکومت نے پیر کو باضابطہ طور پر تاجروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملائیشین پام آئل سے دور رہیں۔ بھارتی تاجر ملائیشین قیمتوں کے مقابلے میں 10 ڈالر ٹن کے پریمیم پر انڈونیشن خام پام آئل خرید رہے ہیں۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More