واشروم میں بچے کو جنم دے کر اسے قتل کی کوشش کرنےو الی 18سالہ مہوش نے جرم کی ساری کہانی کھول دی

روزنامہ اوصاف  |  Jan 18, 2020

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )واشروم میں بچے کو جنم دے کر اسے قتل کی کوشش کرنےو الی 18سالہ مہوش نے جرم کی ساری کہانی کھول دی ، بچے کا والد خاندان کا ہی شخص نکلا ، سنسنی خیزانکشافات ۔۔۔ لاہور کے علاقہ شادباغ میں کچھ دن قبل پیش آنے والا واقع جس میں 18 سالہ مہوش نے ایک بچی کو جنم دینے کے فوراََ بعد واش روم کی ٹینکی میں پھینک کر مارنے کی کوشش کی تھی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہوش نے بتایا ہے کہ اس نے یہ حرکت معاشرے میں ہونے والی بدنامی سے بچنے کے لئے کی تھی لیکن اب وہ اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگتی ہے۔ مزید بات کرتے ہوئے مہوش نے تفصیلاََ بتایا کہ اس بچے کا والد اس کا اویس نامی کزن ہے جو کہ گزشتہ سال وفات پا گیا تھا۔ نوجوان لڑکی نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال وہ اپنی پھوپھو کے گھر کراچی گئی تھی جہاں اس کے کزن اویس سے اس کے تعلقات قائم ہو گئے۔ لیکن جب وہ واپس لاہور آئی تو اسے خبر ملی کی اویس دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے فوت ہو گیا ہے۔ مہوش نے بتایا کہ اویس نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھیج کر شادی کر لے گا لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے چلا گیا۔اسی لئے بدنامی اور اپنے گھر والوں کی شرمندگی سے بچنے کے لئے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔یاد رہے کہ کچھ دن قبل لاہور کے علاقہ شادباغ کی رہائشی مہوش کی جانب سے نومولود بچی کو واش روم میں جنم دینے کے بعد مارنے کی کوشش کی گئی تھی جس کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس سارے معاملے میں مہوش کی مدد اسپتا ل کے عملے میں موجود دو لوگوں نے کی۔آج اردوپوائنٹ سے بات کرتے ہوئے مہوش نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے گھر والوں اور اللہ سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ آئند ہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گی وہ۔پولیس حکام کی جانب سے اردوپوائنٹ کا بتایا گیا ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور کارروآئی کا آغاز ہو چکا ہے۔مقامی پولیس اسٹیشن کی جانب سے ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More