'فوج اس لیے ساتھ ہے کیوں کہ میں کرپٹ نہیں ہوں'

وائس آف امریکہ اردو  |  Feb 14, 2020

اسلام آباد — 

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی تناؤ نہیں ہے۔ فوج اس لیے اُن کے ساتھ ہے کیوں کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں۔ عمران خان کے بقول حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لہذٰا اپوزیشن کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوں گی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی سیاسی صورتِ حال پر کھل کر اظہار خیال کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب کوئی کرپشن کرتا ہے تو فوج اور خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو سب پتا چل جاتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کے کرپشن کے باعث فوج کے ساتھ تعلقات خراب تھے۔

وزیر اعظم نے کہا میڈیا جب ملکی مفاد کے خلاف بات کرتا ہے تو مسئلے ہوتے ہیں۔ چین گیا تو دو بڑے اخباروں نے غلط خبر لگائی، جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف آرٹیکل چھ لگانے کے مطالبے کی تائید کی۔ اُنہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کسی کے اشارے پر حکومت گرانے کی کوشش کر کے ملک سے غداری کی۔ لہذٰا ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسوں کا استعمال روکنے کے لیے "شو آف ہینڈ" کا قانون لا رہے ہیں۔

وزیر اعظم بولے کہ حکومت عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کے اُمور میں مداخلت نہیں کر رہی، کرپٹ لوگوں سے وصولی ہماری عدالتوں اور احتسابی اداروں کا کام ہے۔

مہنگائی کی لہر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ میری جو تنخواہ ہے، اُسی پر گزارہ کر رہا ہے۔ دُنیا میں سب سے کم وزیر اعظم کی تنخواہ میری ہو گی۔ عمران خان نے کہا کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔

وزیر اعظم نے معاشی صورتِ حال کا ذمہ دار ماضی کی حکومتوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے دور میں برآمدت کم اور درآمدات بڑھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو اُن کی دُکان بند ہو جائے گی۔ اور یہ سارے جیل میں ہوں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More