سعودی عرب میں "ریڈیو" کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟

نوائے وقت  |  Feb 14, 2020

شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ نے 1932 میں مملکت سعودی عرب قائم کی تو انہیں اندرون مملکت معلومات اور بیرونی خبروں سے آگاہ رہنے کی زیادہ ضرورت محسوس ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ریڈیو کا ایک نجی نظام قائم کیا گیا جو مملکت کے بانی کو مطلوبہ معلومات اور خبروں کی فراہمی کا کام انجام دینے لگا۔

کنگ سعود یونیورسٹی میں شعبہ ذرائع ابلاغ کے لیکچرار نائف الوعیل کی تحقیق کے مطابق ریڈیو نشریات کو عوام تک پہنچانے کا فیصلہ 1949 میں ہوا۔ اس سے قبل مکہ مکرمہ ریڈیو صرف حجاز میں سنا جاتا تھا۔

سعودی معاشرے میں ریڈیو کی اہمیت کے پیش نظر شاہ سعود بن عبدالعزیز نے (جو اُس وقت مملکت کے ولی عہد تھے) اپنے والد کے سامنے سعودی عرب میں ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کا خیال پیش کیا۔ شاہ عبدالعزیز نے اس پیش کش پر موافقت کا اظہار کرتے ہوئے 1949 میں پہلے قومی ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کر دیا۔

اسی برس سعودی عرب نے امریکی کمپنی "انٹرنشینل الکٹرونک کارپوریشن" کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ دستخط قاہرہ میں سعودی سفارت خانے کی عمارت میں ہوئے۔

معاہدے کے متن میں ریڈیو نظام کی تنصیب کے علاوہ اس کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمے داریاں بھی شامل تھیں۔ یہ منصوبہ 16 ریڈیو ٹرانسمیٹروں پر مشتمل تھا۔ ان میں 2 میڈیم ویو، 3 ریگولر ویو اور 11 شارٹ ویو تھے۔ یہ نشریات سعودی عرب کے علاوہ پڑوس میں یمن، مصر، شام، لبنان اور عراق تک سنی جانے لگیں۔

منصوبے کے تحت جدہ شہر میں مرکزی کنٹرول اینڈ آپریشن روم قائم کیا گیا۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ میں بھی تمام ساز و سامان سے آراستہ ایک ریڈیو اسٹوڈیو بنایا گیا۔ اس کا مقصد حج سیزن میں مقامات مقدسہ سے براہ راست پروگرام نشر کرنا تھا۔

سال 1949 میں حج سیزن کے دوران وقوفِ عرفہ کے روز جدہ ریڈیو سے سرکاری طور پر پہلی مرتبہ عوام کے لیے باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔

اس ریڈیو اسٹیشن کی پاور 3 کلو واٹ سے زیادہ نہ تھی۔ ابتدا میں اس کے ذریعے سرکاری خبروں اور مذہبی پروگراموں کے علاوہ بعض ادبی پروڈکشنز نشر کیے جانے پر اکتفا کیا گیا۔ اس عرصے میں نشریات کا یومیہ دورانیہ تین گھنٹوں سے زیادہ نہ تھا۔

سال 1955 میں مملکت کے دوسرے فرماں روا شاہ سعود بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا۔ اس فرمان کے ذریعے سعودی ریڈیو کو ایک خود مختار اتھارٹی بنا دیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More